مولانامصطفی اخلاقی کاکسر

انسان قرآن کی نظر میں

قرآن کریم کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن کریم نے جس چیز کو بیان کیا ہے اس شئے کے تمام پہلووں [مادی,معنوی اور فطری] پر روشنی ڈالی ہے ۔ نیز بنی نوع انسان کا بھی جو تذکرہ قرآن میں آیا ہے اسے بھی پروردگار نے ہر زاویہ [مادی,معنوی اور فطری] سے بیان کیا ہے۔ اگر چہ انسان بذات خود یہ نہیں جانتا ہے کہ اس کا خدا اور مخلوق سے کیا رابطہ ہے, وہ کہاں سے آیا ہے اور اسےکہاں جاناہے۔ قرآن کی انسان شناسی,دیگر مقدس کتب کی انسان شناسی سے مختلف اور ممتاز ہے۔ جس کے شواہد قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات ہیں۔

قرآن کے معرفتی یا شناختی پہلو۔

1 ۔انسان ازلی گنہگار نہیں ہے
دین مبین اسلام عیسائیت کے برخلاف ابن آدم کو فطری گناہ میں شریک و یکسان نہیں سمجھتا اور نہ اسے ابدی گناہ گار سمجھتا ہے بلکہ انسان کو اشرف المخلوقات قراردیکر اپنے الفاظ میں اس کی تعریف اس طرح کرتا ہے ۔
الف:انسان اللہ کی مخلوق ہے جس میں اللہ نے اپنی روح پھونکی ہے
ارشاد ہوتا ہے۔وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّی خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ فَإِذَا سَوَّیتُهُ وَنَفَخْتُ فِیهِ مِنْ رُوحِی فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِینَ[حجر ۲۸----=۲۹]
اے رسول وہ وقت یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں ایک آدمی کو خمیر دی ہوئی مٹی سے جو سوکھ کر کھنکھن بولنے لگے پیدا کرنے والا ہوں تو جس وقت میں اس کو ہرطرح سے درست کرچکوں اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دوں تو سب کے سب اس کے سامنے سجدہ میں گرپڑنا ۔
ب:اللہ نے انسان کو سارے اسماء سکھائے ہیں ۔
ارشاد ہوتاہے :وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنْبِئُونِی بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِینَ [بقرہ ۳۱] اور آدم کی حقیقت ظاہر کرنے کی غرض سے آدم کو سب چیزوں کے نام سکھادیئے پھر ان فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہوتو مجھے ان چیزونکے نام بتاؤ ۔
ج:اللہ نے انسان کو قلم کے ذریعے تعلیم دی اور اسے علم عطا کیا ۔
ارشاد ہوتا ہے الَّذِی عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ یعْلَمْ سورہ علق[ 4۔5]
جس نے قلم کے ذریعے سے تعلیم دی اسی نے انسان کو وہ باتیں بتائيں جو وہ نہیں جانتاتھا۔
د:اللہ نے انسان کو عقل عطا کی جس سے اس میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوئي ارشاد ہوتا ہے وَاللَّهُ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَیئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ۔[سورہ نحل:۷۸]
اور خدا ہی نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے نکالا جب تم بالکل نا سمجھ تھے اور تم کو کان دئےاور آنکھیں عطا کیں دل عنایت کۓ تاکہ تم شکر کرو۔
ھ:اللہ نے انسان کو آزادی کی نعمت اور زمین سے استفادہ کرنے کی صلاحیت عطا کی ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے و سخر لکم مافی السماوات و ما فی الارض جمیعا منہ
اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنے حکم سے تمہارے کام میں لگادیا ہے ۔
و:اللہ نے انسان کے گزشتہ گناہ کو بھی بخش دیا ہے۔
ارشاد ہوتاہے: فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَیهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ [سورہ بقرہ 37]
پھر آدم نے اپنے پروردگار سے چند الفاظ سیکھے پس خدا نے آدم کی توبہ قبول کرلی بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے ۔
ز:قرآن کریم کی نظر میں گناہ کرنے والا ہی اس کا ذمہ دار ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے :مَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا یهْتَدِی لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا یضِلُّ عَلَیهَا وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِینَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا [سورہ اسراء15]
جو شخص گمراہ ہوتا ہےتو اس نے بھٹک کر اپنا آپ بگاڑا اور کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ اپنے سرنہیں لے گا اور ہم جب تک رسول کو بھیج کراتمام حجت نہیں کرلیں کسی پر عذاب نہیں کیاکرتے ۔
ح:اللہ نے انسان کو تمام مخلوقات سے افضل خلق فرمایا ہے اور اسے ساری مخلوق پر برتری عطاکی ہے ،ارشاد ہوتاہے وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِی آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّیبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِیرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیلًاسورہ[ اسراء70]
اور ہم نے یقینا آدم کی اولاد کو عزت دی اور خشکی اور تری میں لئے پھرے اور انہیں اچھی اچھی چیزیں کھانے کو دیں اور اپنے بہترین مخلوقات پر ان کو اچھی خاصی فضیلت دی ۔
ان تمام آیات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن نے جس انسان کامل کی شناخت کروائي ہے وہ ایک پاک اور الھی مخلوق ہے ایسا انسان جس کے وجود میں کسی طرح کی آلودگی نہیں پائي جاتی ،انسان کی یہ شناخت عقل سے ہماہنگ ہے اور جذبات کے ساتھ بھی اس میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا یہ نکتہ انسان کے بارے میں قرآن اور اناجیل مقدسہ کے نظریات میں امتیاز پیدا کرتا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ قرآن کے اس نظریے کا بڑی آسانی کے ساتھ دفاع کیا جاسکتا ہےاور معاشرہ میں اس کی افادیت بھی ثابت کی جاسکتی ہے ۔
2
قرآن کریم انسان کے مقام و منزلت پر تاکید کرتاہے ۔
قرآن کریم کے مطابق خدا وند کریم نے انسان کے لئے صرف اور صرف مقام بندگی اور خلافت الھی کو منظور فرمایا ہے اور اس سے بڑھکر انسان کے دعوے کو قبول نہیں کیا ہے اسی بناپر ہم قرآن مجید میں جگہ جگہ پر دیکھتے ہیں کہ انسان کے خدائی دعوے کو سختی سے مسترد کیا گیا ہے ۔
الف:فرعون کی داستان میں فرعون کی کارکردگی اس کی اخلاقی ،روحی ،اور نظریاتی خصوصیتوں کو رد کیاگيا ہے ارشاد ہوتا ہے : وَاسْتَكْبَرَ هُوَ وَجُنُودُهُ فِی الْأَرْضِ بِغَیرِ الْحَقِّ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ إِلَینَا لَا یرْجَعُونَ[قصص39 ] فرعون اور اسکے لشکر نے روے زمین پر ناحق سراٹھایا تھا اور ان لوگوں نے سمجھ لیا تھاکہ ہماری بارگاہ میں وہ کبھی پلٹ کرنہیں آئيں گے ۔
حضرت موسی Cکی داستان میں بھی انہیں یعنی انسان کو خدا ماننے والوں کی سخت سرزنش کی گئي ہے ،ارشاد ہوتاہے: لَقَدْ كَفَرَ الَّذِینَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِیحُ ابْنُ مَرْیمَ,[مائدہ آیہ ۱۷] جو لوگ اس کے قائل ہیں کہ مریم کا بیٹا مسیح خدا ہیں وہ ضرورکافر ہوگئے ۔[مائدہ 17 ] ایک اور آیت میں ارشاد ہوتاہے کہ لقد کفر الذین قالواان اللہ ثالث ثلاثۃ و مامن الہ الاالہ واحد،جو لوگ اس کے قائل ہیں کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے وہ یقینا کافر ہوگئے,یاد رکھو کہ خدائے یکتا کے سواکوئي معبود نہیں ہے ۔[سورہ مائدہ 77]
قرآن مجید اس بات پر بھی تاکید کرتا ہے کہ معجزے انبیاء علیھم السلام کی ذاتی طاقت سے نہیں بلکہ اللہ کی دی ہوئي طاقت سے رونما ہوتے ہیں ارشاد باری تعالی ہے کہ وما کان لرسول ان یاتی بآیۃ الا باذن اللہ فاذاجاء امراللہ قضی بالحق اور کسی پیغمبر کی یہ مجال نہ تھی کہ خدا کے حکم کے بغیر کوئي معجزہ دکھا سکے پھر جب خدا کا عذاب آپہنچا تو ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا گیا ۔[سورہ غافر 78 ]
حاصل سخن یہ کہ قرآن یہ کہتا ہےکہ انسان خدائي کا دعوی نہیں کرسکتا اسی وجہ سے مسلمان شہادتین میں کہتے ہیں کہ اشھد ان محمد عبدہ ورسولہ ،میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد1 خدا کے بندے اور رسول ہیں ،رسول1 و آل رسول علیھم السلام نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ وہ سب خدا کے بندے اور انسان ہیں گرچہ الٰہی ذمہ داریوں کی بنا پر ان کا مقام ومنزلت نہایت برتر و بالا ہے ۔
قرآن نے جو انسان کی شناخت کرائی ہے وہ انسان کی عقل سے ہرگز تضاد نہیں رکھتی کیونکہ افراط و تفریط سے پرہیز کرنا ایک نہایت ضروری امر ہے اور دانشوروں کے اذہان کو اپنی طرف موڑسکتا ہے اور بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کردیتا ہے بنابریں ایسی سوچ سے دین اسلام کا دفاع اور شبہات کا مقابلہ کیا جاسکتاہے ۔

3 :قرآن کی نظر میں انسان عقل و فکر کا حامل ہے ۔
عیسائيت نے ایمان کو فکر کی جگہ دیدی اور اور دین کو حیرت کے معنی سے تعبیر کیا اور اس سے معرفتی پہلو سلب کرلئے اور گوشہ نشین ہوگئی لیکن اس کے برخلاف اسلام نے یعقلون ،یعلمون ،یشعرون ،اور یفقہون جیسے الفاظ استعمال کرکے دین کو سمجھنے کی ترغیب دلائي ہے۔اسلام کا اعلان ہے کہ ایمان صرف فکر و تدبر و تعقل سے ہی حاصل ہوتاہے اسی بناپر اسلام کی نظر میں دین اختیار کرنے میں کسی طرح کاجبر و اکراہ نہیں ہے کیونکہ راہ گمراہی و راہ نجات واضح و روشن ہے اور انسان کو اپنی عقل و فکر سے ان میں سے کسی راہ کا انتخاب کرنا ہوتاہے لھذا اسلام میں تفکر و تعقل کی کوئي حد نہیں ہے البتہ روایات میں جو ذات خداوندی کے بارے میں سوچنے سے منع کیا گيا ہے اس کی وجہ خود انسان کو انحراف سے بچانا ہے اسلام کی نظر میں انسان کو ہرشئے کے بارےمیں سوال کرنے کا حق حاصل ہے کیونکہ اسلام کے نزدیک عقل و تدبر کا نہایت اعلی مقام اور اہمیت ہے ۔
ان امور سے معلوم ہوتاہے کہ مخالفین دین کا یہ دعوی کہ دینی معارف و تعلیمات غیر عقلانی اور باطل ہیں خود ایک باطل دعوی ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات "راز"پر استوار نہیں ہیں ۔
4
۔قرآن کی نظر میں انسان اخروی مقامات کا حامل ہے ۔
قرآن نے جس انسان کی شناخت کرائي ہے وہ صرف دنیوی زندگی تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک ہمہ گیر انسان ہے مادی وپست زندگی[الحیاۃالدنیا ] کے علاوہ وہ برتر و اعلی زندگي یعنی [الحیاۃ الآخرہ ]میں بھی بھرپور طرح سے وجود رکھتا ہے قرآن کریم میں متعدد جگہوں پر دنیا اور آخرت کا ذکر ساتھ ساتھ کیا گياہے اور اخروی زندگی پر تاکید کی گئي ہے تاہم اس کا یہ مطلب نہیں ہےکہ مسلمان دنیوی زندگی سے غافل ہوجائیں اور کوئي سروکارنہ رکھیں بلکہ مراد یہ ہے کہ دنیا کے بندے نہ بن جائيں اوردنیا ہی کو اپنا مقصود نہ سمجھ لیں اور آخرت کو بھلا بیٹھیں ۔
5-
قرآن انسان کی مادی ضرورتوں پر بھی توجہ رکھتا ہے ۔
دین اسلام انسان کی روحانی اور معنوی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ اس کی جسمانی اور مادی ضرورتوں پر بھی مکمل توجہ رکھتاہے ارشاد ہوتاہے قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِینَةَ اللَّهِ الَّتِی أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّیبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِی لِلَّذِینَ آمَنُوا فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا خَالِصَةً یوْمَ الْقِیامَةِ [اعراف ۳۲ ]اے رسول ان سے پوچھو تو کہ جو زینت کے سازوسامان اور کھانے کی صاف ستھری چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہیں کس نے حرام کردیں ،تم خود کھ دو کہ یہ سب پاکیزہ چیزیں ان لوگوں کے لئے خاص ہیں جو دنیا کی ذرا سی زندگی میں ایمان لائے تھے ۔
ایک اور آیت میں ارشاد ہوتاہے کہ ولاتنس نصیبک من الدنیا و احسن کمااحسن اللہ الیک ولا تبغ الفساد فی الارض ان اللہ لایحب المفسدین ۔اور دنیا سے جس قدر تیراحصہ ہے مت بھول جا اور جس طرح خدا نے تیرے ساتھ احسان کیا تو بھی اوروں کے ساتھ احسان کر اور روۓ زمین میں فساد کا خواھان مت ہو اس میں شک نہیں کہ خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا .سورہ قصص77
انبیائے الٰہی اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے یہ واضح ہوجاتا ہےکہ یہ حضرات دنیوی اور مادی امور سے غافل نہیں تھے آیت اللہ جواد آملی اپنی کتاب" نسبت دین و دنیا" میں کہتے ہیں کہ اسلامی متون کے مطالعہ سے یہ پتہ چلتاہےکہ نہ صرف پیغمبر اسلام 1دنیوی امور پر تاکید فرمایا کرتے تھے بلکہ یہ تمام انبیائے الھی کی سیرت و سنت رہی ہے
یہ بات قابل توجہ ہے کہ اگر قرآن و آحادیث میں بعض مقامات پر دولت ،اولاد ،مقام و منصب ،کی مذمت کی گئي ہے تو یہ مذمت کلی طور پر نہیں ہے بلکہ انتباہ وتوجہ دلانے کے لئے ہےکہ انسان دنیا کا غلام نہ بن جائے۔ اور کوئي مسلمان ان آیات وروایات سے یہ معنی نہیں نکالتا کہ آخرت میں کامیاب ہونے کے لئے دنیوی زندگی کو بالکل ترک کردیا جاۓ اور آزادی روح کے لۓ جسم کو فنا کردیا جائے،اسی طرح مسلمانوں کے ذہن میں یہ معنی بھی نہیں آتے کہ دین اسلام انہیں حصول بہشت کے لئے دنیوی زندگي میں ظلم برداشت کرنے کی تلقین کرتاہے ۔
خلاصہ کلام یہ کہ اگر دین اسلام صرف انسان کی آخرت پر تاکید کرتا ہوتاتو دنیوی زندگي کے بارےمیں کوئي بات نہ کہتا لیکن اسلام نے دنیوی زندگي کے ہرشعبہ میں انسان کی رہنمائي کی ہے اسلام کی یہ تعلیمات سکیولرفکر پر خط بطلان کھینچ دیتی ہیں ۔
قرآن انسان کے اجتماعی مقام پر تاکید کرتا ہے
اسلام کی نظر میں انسان فردی اور ذاتی دائرہ میں محدود نہیں ہےبلکہ اسلام اجتماعی زندگی پر تاکید کرتاہے اسلام کی نظر میں انسان معاشرے میں ہی کمال کی منزلیں طے کرتاہے اور اسلام کی نظر میں گوشہ نشینی اور رہبانیت مذموم ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں جس قدر زور روحانی اور معنوی امور پر دیا گیا ہے اتنا ہی زور اجتماعی امور پر بھی دیا گیا ہے اسلام میں رھبانیت اور گوشہ نشینی سے سختی سے منع کیا گیا ہے اور دنیوی زندگی کو سدھارنے کی کوشش کرنے پر تاکید کی گئي ہے بنابریں قرآن کی نظر میں انسان معاشرے میں بھر پور کردار کا حامل ہے اور معاشرے پر اثر انداز بھی ہوتاہے ،آیۃ اللہ جواد آملی اپنی کتاب نسبت دین و دنیا میں لکھتے ہیں کہ فردی اور اجتماعی ضرورتوں میں عدم امتیاز کی بناپر یہ ثابت ہوتاہے کہ دین انسانی زندگی کے تمام امور پر محیط ہے اور دین کو محض فردی امور میں محدود سمجھنا عقل سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ نیزوہ لکھتے ہیں کہ فردی و اجتماعی ضرورتیں عقل سے تشخیص دی جاسکتی ہیں ۔

قرآن معاشرے کی ہرضرورت پر نظر رکھتاہے

1۔ اقتصادی امور ۔
اسلام کی نظر میں الناس مسلطون علی اموالھم ایک معتبر قانون ہے اس کے مطابق اسلام عوام کو ان کے مال و دولت پر صاحب اختیار سمجھتاہے اور تمام مسلمین سے اس قاعدہ پر عمل کرنے کا بھی طالب ہے اسی طرح سے کسی کے مال و دولت پر حملے کو حرام قراردیتاہے نیز ایک دوسرے کی رضایت سے تجارت کرنے کا حکم دیتاہے ۔قرآن مجید میں سود خوری ،باطل معاملات ،کم فروشی،اور رشوت سے سختی سے منع کیا گیا ہے اس کے علاوہ معاشرے کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئےاسلام نے مختلف اجتماعی منصوبے پیش کئےہیں جیسے مزارعہ ،مساقات ،مضاربہ ،مشارکت وغیرہ ۔
2
۔قانونی امور۔
اسلام نے خاص طور سے معاشرتی قوانین بیان کئے ہیں جیسے گھریلو مسائل, خواتین کے حقوق اور تمام ارکان معاشرے کے حقوق ،اسلام نے احکام نکاح ،طلاق،نفقہ ،سکونت و حضانت کے احکام بیان کرکے سماجی انصاف کی راہ ہموار کردی ہے اسی طرح اجارہ ،صلح ،رھن و ضمان جیسے امور پر بھی واضح طریقے سے روشنی ڈالی ہے ۔
3
۔ثقافتی امور
اسلام معاشرے کی ثقافتی ضرورتوں سے بھی غافل نہیں ہے ،اسلام اخلاقی لحاظ سے معاشرےکو صحت مند دیکھنا چاھتاہے اسی بناپر اس نے وہ تمام چیزیں حرام کردی ہیں جن سے انسان کے گمراہ ہونے کا امکان ہو اسلام ایسے کھیل کود اور ورزشوں کی اجازت دیتا ہے جو انسان کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں میں نکھار پیداکرتی ہیں اور اخلاق کو تقویت پہنچاتی ہیں ۔
اسلام ثقافتی لحاظ سے صحت مند معاشرے کا خواہان ہے اسی بناپر اس نے اسراف وتبذیر کو حرام قراردیا ہے ۔اسلام نے مادہ پرستی کو بھی ناپسند کیا ہے لیکن جمود وٹہراؤ سے بھی دور رہنے کی تعلیم دی ہے ،سچائي پر زور دیتے ہوئے غیبت,چغلی,دوغلہ پن اور ایک دوسرے کی برائي کرنے سے منع کیا ہے اس کے علاوہ اندھی تقلید اور افسانہ پرستی سے بھی منع کیا ہے البتہ نیک اور پاکیزہ لوگوں کو نمونہ عمل بنانے پر تاکید کی ہے۔

نتیجہ

قرآنی آیات میں غور کرنے سے یہ واضح ہوتاہے کہ حکومت صرف بشری اور دنیوی امر نہیں ہے اسلام نے حکومت کا اختیار انسانوں پر نہیں چھوڑا ہے بلکہ سماجی زندگی کے بھی احکام بیان کئے ہیں لھذا حکومت کو بشری اور دنیوی امر سمجھنا دین اسلام پر ایک طرح کا ظلم اور قرآن کریم کی صریحی آیات کی مخالفت ہے قرآن کریم سکیولر حکومت کو قبول نہیں کرتا بلکہ سکیولریزم بنیادی طور پر قرآن سے تضاد رکھتا ہے اسے ہم قرآن و سنت نبوی کے برابر لاکرکھڑانہیں کرسکتے ۔

والسلام۔