مولانامحمد مسلم فرونہ

انسان پر انسان کی خدا ئی:

 

دنیا میں فتنہ کی اصلی جڑ اور فساد کا اصلی سر چشمہ انسان پر انسان کی خدا ئی ہے۔ اسی سے تمام برائیوں کی ابتدا ہوئی ہے ۔ آج بھی یہ فتنہ و فساد پوری دنیا میں ایک وباء کی طرح سرایت کررہی ہے۔ جس سے اب کوئی بچ نہیں سکتا ہے۔ کہیں ایک قوم دوسری قوم کے لئے خدا ہے تو کہیں ایک طبقہ دوسرے طبقوں کا خدا ہے۔ کہیں ایک پارٹی نے الہٰیت اور ربوبیت کے مقام پر قبضہ کر رکھا ہے۔کہیں قومی ریاست خدا ئی کے مقام پر کھڑی ہے ۔ اور کہیں کوئی انا ربکم الاعلی کی آواز بلند کررہاہے ۔

یہی وہ چیز ہے جو انسان کے سارے مصائب اس کی ساری تباہیوں ، اس کی تمام محرومیوں کی اصل جڑ ہے یہی اس کی ترقی میں اصل رکاوٹ ہے ۔ اور اب یہ بیماری خطّہ لداخ جیسے دور دراز علاقوں تک سرایت کرچکی ہے اور جو غلط افکار اورغلط ثقافت کی جال بچھارہی ہے جس کے نتیجہ میں اب وہاں آہستہ آہستہ امنیت ، آسایش و آرامش کی فضا ختم ہورہی ہے ۔ لوگ گروہ کی شکل میں شخصیتوں اور لیڈروں کے مقلد ہوگئے ہیں اور ان کو حق و باطل کا معیار قرار دیتے ہیں ۔ جس کے نتیجہ میں اچھے اچھے ڈاکٹر ، انجینرس،علماء دین، مفکر، محقق جامعہ سے غائب اور جعلی ڈاکٹر و انجینرس کا چرچا عام ہوتا جارہا ہے۔ اسلامی تعلیمات اور شعائر اللہ سے دوری ، مادیات اور مادی افکار و کمیونیسٹ طور طریقہ کا رواج ہوتا جارہا ہے ۔جھوٹ و رشوت خواری عام ہوتی جارہی ہے ۔ دوستی و بھائی چارگی اور آپسی میل و ملاپ ظاہری اور دشمنی اور باطنی عداوت کی شکل اختیار کرچکی ہے ۔ قوم پرستی ، قبیلہ گرائی، شخصیت پرستی کو مسلط کیا جارہا ہے ۔ ہر ایک کا الگ دین الگ مذہب وجود میں ہے ۔

یہ کہنا حق بجانب ہے کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ ہیں جنہیں دین اسلام کی صحیح شناخت نہیں ,جنہیں اسلام کے آئین و اصول کا پتہ نہیں! جنہیں اسلامی سیاست ,اسلامی معاشیت , اسلامی تربیت اور اسلامی آداب و معاشرت سے کوئی سروکار نہیں ہے یا تو وہ ان مسائل کو نہیں جانتے یا ان سے وہ غافل و بے خبر ہیں۔ جس پر ہمیں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ مسائل معاشرہ میں رائج بھی ہیں تو وہ یورپین ماڈرنیزم سے مخلوط ہیں۔جو فقط کمونیزم سے جنگ کرنے کے کام آسکتے ہیں۔صحیح معنوں میں اسلام کے خلاف ہیں

ہمارے موجودہ اسلامی معاشرہ کا حال یہ ہے کہ قرآن مجید جیسی انسان ساز کتاب جو ہمارے ہر درد کا علاج ہے۔ معاشرے میں اب فقط مولویوں,تعویز ,گنڈوں اور مردوں کے ایصال ثواب کے لئے یا گھروں کے طاقچوں کی زینت بنی ہوئی ہے ۔ ہمارے معاشرہ کا کوئی زندہ شخص اس سے کسب فیض نہیں کرتا کوئی اس کے فرامین پر عمل نہیں کرتا کوئی اس کی اہمیت کو اجاگر نہیں کرتا! آج ہماری ساری بدبختی کا واحد سبب یہی ہے کہ ہم نے قرآن سے اپنا رشتہ توڑکر دشمنان اسلام اور قرآن سے متمسک ہوگئے ہیں ۔ لہذا دور حاضر میں ہمیں اسلام کی صحیح تصویر کو پیش کرنے کے لئے سعی و کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔ چونکہ آج واحد راستہ یا واحد عامل جو انسان کو ہر طرح کے صدمہ اور خطر سے نجات دے سکتا ہے وہ اسلام ہے۔یہی اسلام ہے جو مادّی اور معنوی چیزوں میں یا مادہ پرست اور معنویات میں ہماہنگی لا سکتا ہے ۔ یہی ایک بہت بڑا عامل ہے انسان کو شخصیت پرستی ، اور قوم پرستی کے جال سے ، اور انسان کو بے ہدف اور خیالی زندگی کرنے سے نجات دے سکتا ہے ۔

انسان پر انسان کی حکومت کا علاج بجز اس کے کچھ ہے ہی نہیں کہ انسان سارے ارباب اور تمام خود ساختہ خداؤں کا انکار کرکے صرف اللہ کو اپنانا اورعالمین کا رب قرار دے۔

یہی وہ بنیادی اصلاح تھی جو انبیاء (ع) نے انسانی زندگی میں کی تھی ۔

اب جب انسان کے اوپر انسان کی حکومت ہوگی تو کیا اثرات وجود میں آئیں گے؛ان آثار کو اگر اس مختصر سے نوشتہ میں بیان کیا جانے لگے تو شاید اس میں گنجائش نہ ہو لیکن اجمالی طور قارئین کرام کی مزید معلومات کے لئے کچھ آثار بیان کئے جارہے ہیں ۔

۱۔ جہل و نادانی:جب انسان پر انسان کی حکومت ہوگی تو انسان کبھی علم اور معرفت کی تلاش میں نہیں نکلےگا۔ بلکہ اختلاف، فساد، ضلالت اور ذلت و رسوائی کی جانب گامزن ہو گا ۔ اس لئے کہ رسول اکرم(ص) فرمایا ہے کہ:من لم یبصر علی ذلل تعلم الساعۃ تقی فی الجہل ابدا۔

اسی طرح امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں : الجہل فی الانسان اضر من آکلۃ فی الابدان۔ جہل کا نقصان انسان کے لئے زیادہ ہے جو غذا کا نقصان بدن کے لئے ہوتا ہے ۔

۲۔ پسماندگی : انسان کے اوپر انسان کی حکومت ہوگئی تو وہاں لڑائی جھگڑا ہوگا ، لہذا سنی اور شیعہ کی لڑائی ، کافروں اور مسلمانوں کی لڑائی ہوگی اور لوگ ناامنیت و اضطراب میں زندگی کریں گے۔

۳۔ روش زندگی: یعنی جس راہ و روش پر ہم چل رہے ہیں اسی پر باقی رہیں گے جس طرح کل تھا وہی آج ہوگا اگر کل بے دین تھے آج بھی بے دین رہیں گے اگر کل ہمارے اوپر ظلم و ستم ہورہا تھا تو آج بھی ہوگا کبھی خود کو ان مصیبتوں سے مشکلوں سے نجات نہیں دیں گے۔

۴۔ خود بینی:یعنی خود کو سب سے بڑا عالم سمجھنا اور دوسروں کو سب سے بڑا جاہل سمجھنا ہے ۔ خود کو تجربہ کار ، سیاست داں، حاکم دوسروں کو غلام تصور کرنا ہے ۔ قرآن ایسے لوگوں کے سلسلہ میں فرماتا ہے:و یقولون انہ لمجنون۔

۵ خود خواہی یا خود پسندی:خود خواہی کی بازگشت ہوائے نفس کی طرف ہے لہذا یہ قرآن، سنت ، عقل کی باتوں کو نہیں مانتا ہے بلکہ جس چیز کو اس کادل و دماغ کہے کہ وہ دین ہے ، جو من کہے شریعت, وہ شریعت ہے وہی حق ہے ۔ یہ لوگ اپنے من کو خدا کی جگہ پر بیٹھاتے ہیں ۔ وہی ہوائے نفس اس کا خودخدا ہے ۔ جو جس کو اس کا نفس کہے وہ نظام ہے، شریعت ہے ۔ اب دیکھئے ہمارے معاشرے میں ایسا ہے یا نہیں؟

قرآن مجید نے بھی اس کی خوب عکاسی کی ہے :کیا تم نے نہیں دیکھا اس شخص کو جس نے اپنے ہوی نفس کو خدا بنا رکھا ہے ، اور وہ یقیناً گمراہ ہے ۔ یہ لوگ خود کو خود کا خدا مانتے ہیں ۔ بلکہ اس سے بڑھ کر خود کو غیروں کا خدا بھی بناتے ہیں ۔ اس بنا پر سوچتا ہے کہ ہر کوئی میری بات کو مانے ورنہ وہ واجب القتل ہے، کافر ہے، فاسق ہے، ختم علی سمعہ و قلبہ۔ نتیجہ میں خدا ان کے آنکھ اور کان پر قفل لگا دے گا ۔

اور ان کی آنکھوں کی بصارت پر پردہ پڑھ جائے گا لہذا وہ نہیں دیکھ سکتے اور کون ہے وہ جس کو اللہ ہدایت دے لیکن وہ متذکر نہ ہو ۔ اس لئے کہ ان کے عقلوں پر بھی پردے پڑگئے ہیں۔

۶۔ استبداد : خود انحصاری کرنے کے معنی میں ہے ، اکثر اس کا استعمال حکومتو ں میں ہوتا ہے ، اور جس کی حکومت استبدادی ہو وہ کسی کی نہیں سنتا ہے فقط وہی کرتا ہے جو اس کا دل کہتا ہے۔

 

منابع:۔ قرآن۔نہج البلاغہ ۔ شناخت شناسی

۔شناخت۔۔ ۔ حاکم افکار

 

یہ استبداد انسانی فکر کو منجمد ، خشک اور متحجر کردیتی ہے اور حق و حقیقت کی تلاش سے روکتی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو وہ کررہا ہے، سوچ رہا ہے ، جو اس کا عقیدہ و نظر ہے وہ درست ہے جو اس کے خلاف ہے وہ نادرست اور غلط ہے ، لہذا ہمیں خیال رکھنا چاہئے کہ کہیں ہمارے جامعہ میں استبدادی فکر تو حاکم نہیں ہورہی ہے ۔ کیونکہ یہ استبدادی فکر رکھنے والا انسان نہ اپنی خیر چاہتا ہے نہ دوسروں کی ۔ نہ خود ہدایت یافتہ ہوتا ہے اور نہ دوسروں کو ہدایت یافتہ ہونے دیتا ہے ۔ اس بنا پر ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ان افکار سے مقابلہ کریں اور معاشرے میں صحیح اور سالم فکر کے حامی انسان کو حکومت کرنے کا اختیار دے تاکہ ہم ظلم و ستم سے محفوظ اور کامیابی اورکامرانی کے ساتھ منزل مقصود تک پہونچ سکے۔

والسلام منابع:۔ قرآن۔نہج البلاغہ ۔ شناخت شناسی

۔شناخت۔۔ ۔ حاکم افکار