سلیمہ بی گوند منگلپور

مہریہ ادیان ابراہمی کی نظر میں

اسلام سنگین مہر کی قرار داد و تجویز میں مسلمانوں کی صلاح و خوش بختی نہیں سمجھتا اور سفارش کرتا ہے کہ اگر تم نے داماد کے دین اور اخلاق کو پسند کرلیا تو مہر کے بارے میں سخت گیری نہ کرو اور اسی کی کم مقدار پر قناعت کرو۔ پیغمبر اسلام(ص)فرماتے ہیں " میری امت کی بہترین عورتیں وہ ہیں جو خوبصورت ہوں اور جن کے مہر کم ہوں" [ وافی کتاب نکاح ص۱۵] اگر آج کے مسلم جوانوں کی مشکلات کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان مشکلوں کی علتوں میں سےایک علت زیادہ مہریہ ہے۔ اس بنا پر اسلام نے تاکید کیاہے کہ "مہریہ کا حد سے زیادہ رکھ کر فخر و مباہات کرنا آئندہ کی زندگی کو سخت و دشوار کردیتا ہے "۔

شادی کے مسائل کو سہل و آسان کرنے اور نوجوانوں کوجلدی خانوادہ تشکیل دینے کی تاکید کی علت یہی ہے کہ معاشرہ کو ہزاروں اجتماعی خرابیوں , خاندانی پریشانیوں اور گرفتاریوں اور امراض روحی سے محفوظ رکھا جاسکے ۔ پیغمبر اسلام (ص) نے اس غرض سے کہ مسلمانوں کو عملاً سمجھا دیں کہ کثیر اور سنگین مہرعورت کے واقعی مفاد میں نہیں ہے اپنی عزیز دختر کو اس مختصر مہریہ پر مولا امیر المومنین علی (ع)کے حوالے کیا ۔تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جناب امیر المومنین(ع) نے اپنی زرّہ کو صدیقہ طاہرہ کا مہریہ قرار دیا جس کی قیمت چار سو اسی [۴۸۰] درہم تھی ۔

لہذا اس مہریہ پر اسلام نے بہت زیادہ تاکید کی ہے علماء اور محققین نے بھی اس کے منفی نتائج کے سلسلے میں بہت سارے کتابیں تالیف کی ہیں ۔

خدا وند عالم نے اپنی تمام مخلوق کو زوج[جوڑا] خلق کیا "وَمِنْ كُلِّ شَیءٍ خَلَقْنَا زَوْجَینِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ"[الذاریات/۴۹]اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے پیدا کئے ہیں " اس آیت میں قانون زوجیت [law sex] کی ہمہ گیری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کارگاہ عالم کا انجینر خود اپنی انجینری کا یہ راز بیان کردیا ہے کہ اس نے کائنات کے رواج کوقاعدہ زوجیت پر مضمر کیا ہے۔ یعنی اس مشین کے تمام کے تمام پرزے , جوڑوں [pairs] کی شکل میں بنائے گئے ہیں اور اس عالم خلقت میں جتنی بھی مخلوقات کو تم دیکھتے ہو وہ سب جوڑوں کی تزویج کا کرشمہ ہے ۔

اسی طرح خدا نے انسان کو بھی زوج خلق کیا اور ایک دوسرے کی محبت کو ان کے دلوں میں ڈال دیا ۔ تاکہ وہ محبت کے اس بہترین سرمایہ کے ذریعہ الٰہی زندگی بسر کرسکیں اس لئے خدا وند عالم نے کچھ قوانین بنائے ہیں جس پر عمل کرنے سے انسان اپنی زندگی کے حقیقی ہدف کو درک کرسکتا ہے اور ان قوانین میں سے ایک "مہریہ"ہے جس کی رعایت کرنا ہر آدمی پر واجب ہے ۔مہریہ ہمیشہ شوہرکے گردن پر ایک شرعی قرض ہےکہ جس کی آدائیگی شوہر پر واجب ہے ۔ جب وہ مستطیع ہو ۔ اگر ایسا نہ ہو تو وہ شادی کے موقع پر نیت کرے کہ جب میں استطاعت پیدا کروں گا تو اس کو ادا کروں گا۔

مہریہ رکھا اس لئے جاتا ہے کہ شوہر اپنی بیوی کے ساتھ احترام اور حسن خلق کے ساتھ پیش آئیں۔ تاکہ عورت اپنا مہریہ طلب نہ کرے ، یعنی دوسری عبارت میں یوں کہا جائے مرد عورت کا خیال و احترام کرے تاکہ وہ اپنامہریہ طلب نہ کرے , کیونکہ شرعاً جب بھی عورت مہریہ طلب کرے مرد پر واجب ہے کہ اسے ادا کرے۔

الف:یہ بات واضح ہوئی کہ مہریہ ایک قرض ہے جس کا ادا کرنا مرد پر واجب ہے ۔ عورت جب بھی چاہے مرد سے طلب کرسکتی ہے۔

ب:مہریہ سنگین اور زیادہ رکھنے کا بُرا نتیجہ نکل سکتا ہے اور سب سے بُرا نتیجہ مرد اور عورت کے درمیان محبت کا زوال ہے۔

ج۔ مہریہ جتنا کم رکھے مرد یہ احساس کرے گا کہ عورت نے اس کا خیال رکھا اور اس کی حالت کی رعایت کی ۔ جس کے نتیجہ میں ان کے درمیان محبت میں اضافہ ہوجائے گا۔

مہریہ اسلام کی نظر میں

اس مقدمہ سے معلوم ہوتا ہےکہ اسلام کیوں مہریہ کے سلسلہ میں اتنی زیادہ تاکید کرتا ہے۔؟ تاکہ معاشرے میں اور خاندانی مشکلات انسان دُچار نہ ہو۔ چونکہ اسلام ایک دین امن پسندہے جو ادیان ابراہمی کا آخری دین ہے اور خداوند عالم نے اسلام کو آخری ، کامل ترین دین معین کیا ہے ۔ اس لئے اسلام کے تمام احکام قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے مفید اور قابل عمل ہیں۔

شادی بیاہ کے قوانین بھی اسی احکام میں شامل ہیں ۔ اس لئے اسلام نے اس مہم کام کے تمام پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے کچھ نشانیاں بیان کی ہیں کہ جس کی رعایت کرنے سے ہر گھر گلستان بن جاتا ہے ۔ اور کبھی بھی گھر میں لڑائی , جُدائی کی باتیں نہیں ہوتی ہیں۔ آج اگر مسلم گھرانوں میں لڑائی اور جُدائی نظر آرہی ہےتو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اسلامی قوانین کی رعایت نہیں کی ہے۔

مہریہ کے سلسلہ میں اسلام نے مرد اور عورت دونوں کے حقوق کو مد نظر رکھتے ہوئے وسیع اور مکمل قوانین پیش کیا ہے ۔ کتب اسلامی میں مہریہ کو تین قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

الف: مہر المسمیٰ: زوجین خود یاان کے وکلاء کی موافقت سے مہریہ معین کریں ۔ اس میں کچھ خاص شئے معین نہیں ہے بلکہ جو بھی چیز مالی ارزش رکھتی ہو کافی ہے۔ اوراس سے مہریہ میں قرار دے سکتے ہیں ۔

ب: مہر المثل: مہریہ اصلاً معین نہیں ہوتا ہے ۔ یا نکاح کے موقع پر مہریہ کا نہ رکھنا شرط میں رکھا ہو ، یا کسی دلیل کی بنا پر مہر المسمی ٰ باطل ہوا ہو ۔ اور ان دونوں صورتوں میں عورت سے ہمبستری ہوجائے تو عورت مہر المثل کاحقدار بنتی ہے ۔ اور مہر المثل عرف معین کرے گا اس طرح کہ سماج میں اس طرح کی لڑکیوں کا مہریہ کتنا رکھا جاتا ہے ۔ وہی مقدار اس عورت کے لئے مہریہ دیا جائے گا۔

ج: مہر السنۃ:اصطلاح میں مہر السنت اس مہریہ کو کہا جاتاہے کہ جس کو پیغمبر اکرم(ص)نے اپنی بیویوں,بیٹیوں اور صاحب زادیوں کا رکھا تھا ۔ مختلف روایتوں میں نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص)نے اپنی بیویوں اور لڑکیوں کا مہریہ پانچ سو [۵۰۰] درہم رکھا تھا۔ [وسائل الشیعہ؛ج۶؛ص۳۸۱]

یہ تھا مختصراسلامی مہریہ کا تذکرہ اب اسکے بعد دوسرے ادیان میں مہریہ کے سلسلہ میں کیا بیان کیا گیا ہے ۔

مہریہ گذشتہ ادیان میں

کچھ محققین اسلام اس غلط فہمی میں مبتلاء ہوگئے ہیں کہ مہریہ صرف اسلام میں ہے اور مہریہ اسلام کا ایک خصوصی قانون ہے ۔ لیکن ہم اگر تاریخ اور دینی کتابو ں کا مطالعہ کریں ، تو بخوبی پتہ چلتا ہے کہ مہریہ گذشتہ ادیان میں بھی ہے, یہ بات مسلم اور صحیح ہے کہ اسلام میں یہ قانون دوسرے گذشتہ ادیان کے بنسبت زیادہ واضح اور روشن ہے ۔ لیکن یہ کوئی تعجب آور بات نہیں ہے اس لئے کہ اسلام کے بعض قوانین دوسرے ادیان کے قوانین سے مختلف اور واضح ہیں ۔

اس مختصر سے مقالہ میں ہم صرف یہودیت اور مسیحیت میں مسئلہ مہریہ پر کچھ شواہد بیان کرتے ہیں۔

مہریہ آئین یہودیت میں :آئین یہود میں مہریہ کا مسئلہ واضح طور پر رائج تھا تورات میں مختلف انبیاء(ع) کے سلسلہ کو بیان کرتے ہوئے انبیاء (ع) کی اس سنت کا بھی ذکر کیا ہے ۔ جیسا کہ نقل ہوا ہے " لابان نے یعقوب سے کہا ۔۔۔تم میری خدمت کرو اورتجھےمیں اس خدمت کا کیا صلہ دوں ؟ لابان کی دو بیٹیاں تھیں ایک کانام لیہ اور دوسری کا نام راحیل ۔۔۔ اور یعقوب راحیل سے محبت کرتا تھا اس لئے یعقوب نے کہا کہ اگر راصیل مجھے دے دیں تو آپ کے لئے سات سال غلامی کروں گا لابان نے قبول کیا اور یعقوب سات سال لابان کی خدمت گذاری کرنے لگے[کتاب مقدس]

تورات کے اس بیان سے دو نکتے واضح ہوئے؛ پہلا:سسُر کی خدمت گذاری پرانے زمانے میں لوگوں میں رائج تھی۔ کچھ محققین کا کہنا ہے کہ خدمت گذار لڑکے کی مالی ناتوانی پر مضمر ہوتی تھی اگر لڑکے کے ساتھ مہریہ دینے کے لئے کوئی چیز نہیں ہوتی تو وہ سسر کی خدمت گزاری کرتا تھا۔

دوسرا: ان آیات سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ یہودیت میں مہریہ کی کمیت معین کرنا لازم نہیں تھا ۔

تورات سے اور ایک دلیل: اگر کسی باکرہ لڑکی کو کوئی دھوکا دےکر ہم بستری کرے تو مرد پر لازم ہے کہ اسے اپنے عقد میں لےلے، اوراگر اس کے والد راضی نہ ہو تو اس باکرہ لڑکی کا مہریہ وصول کرلے۔[کتاب مقدس]

مہریہ مسیحیت میں :

یہودیت اور اسلام کے بر عکس مسیحیت میں مہریہ کا ذکر نہیں ہے ۔ اور موجودہ انجیل میں کسی جگہ پر صراحتاً یا اشارتاً مہریہ کا تذکرہ نہیں ہوا ہے۔

ایک دانشور اس سلسلہ میں کہتا ہے کہ مسیحیت میں عورتوں کی خرید و فروخت کا کوئی معنا نہیں رکھتا اس لئے مہریہ کا تذکرہ بھی نہیں آیا ہے۔ اور شادی کو ایک عالی مقام درجہ دیا ہے ۔

اس لئے مسیحیت کا سب سے بڑا فرقہ کاتولیک [catholic] مہریہ کو عقد میں لازم نہیں جانتا ہے۔ لیکن پردتستان [protestan] اگرچہ مہریہ کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے لیکن اگر مرد اور عورت نے توافق کرلیا ہے تو اس صورت میں مہریہ کو تعین کرکے ان کا نکاح پڑھا جا سکتا ہے۔اس وقت مہریہ کی ادائیگی مرد پر واجب ہوجاتی ہے ۔

بہت سے مطالب کو چھوڑتے ہوئے ۔ آخر میں اپنی ماں بہنوں سے یہ ضرور عرض کروں گی کہ ہم مہریہ زیادہ اور سنگین لینے کی کوشش نہ کریں بلکہ اپنے بچوں کی زندگی کو ٹھوس اور محکم بنانے کی کوشش کریں۔اس لئے کہ ان کی زندگی ہمارے لئے اہم ہے۔ اور معاشرےاور ماحول کی سلامتی , خاندان کی سلامتی ہے جس معاشرے کے لوگ صحیح اور سالم ہوں وہاں کا ماحول اور معاشرہ بھی سالم اور صحیح ہوتا ہے ۔ لہذا ہمیں اپنے معاشرے کو اچھا اور بہتر بنانے کی طرف قدم بڑھانی چاہئے۔