امام زین العابدین ؑ  کی ولادت باسعادت:

 

آپ بتاریخ ۱۵/جمادی الثانی ۳۸ ھ ق،یوم جمعہ ( ایک قول کے مطابق ) ۱۵/ جمادی الاول ۳۸ ھ جمعرات کو بمقام مدینہ منورہ پیداہوئے  ۔(1)
علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ جب جناب شہربانوایران سے مدینہ کے لیے روانہ ہورہی تھیں توجناب رسالت مآب نے عالم خواب میں ان کاعقدحضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ پڑھ دیاتھا ۔(2) اورجب آپ واردمدینہ ہوئیں توحضرت علی علیہ السلام نے امام حسین علیہ السلام کے سپردکرکے فرمایاکہ یہ وہ عصمت پروربی بی ہے کہ جس کے بطن سے تمہارے بعدافضل اوصیاء اورافضل کائنات ہونے والابچہ پیداہوگا چنانچہ حضرت امام زین العابدین متولدہوئے لیکن افسوس یہ ہے کہ آپ اپنی ماں کی آغوش میں پرورش پانے کالطف اٹھانہ سکے ”ماتت فی نفاسهابه“ آپ کے پیداہوتے ہی ”مدت نفاس“ میں جناب شہربانوکی وفات ہوگئی ۔(3)
"کامل مبرد" میں  لکھا  ہے کہ جناب شہربانو،بادشاہ ایران یزدجردبن شہریاربن شیرویہ ابن پرویزبن ہرمزبن نوشیرواں عادل ”کسری“ کی بیٹی تھیں ۔(4) علامہ طریحی تحریرفرماتے ہیں کہ حضرت علیؑ نے شہربانوسے پوچھاکہ تمہارانام کیاہے توانہوں نے کہا”شاہ جہاں“ حضرت نے فرمایانہیں اب ”شہربانوہے ۔(5)

نام،کنیت ،القاب :


آپ کااسم گرامی ”علی“ کنیت ابومحمد۔ ابوالحسن اورابوالقاسم تھی، آپ کے القاب بےشمارتھے جن میں زین العابدین ،سیدالساجدین، ذوالثفنات، اورسجادوعابد زیادہ مشہورہیں ۔(6)

لقب زین العابدین:


علامہ شبلنجی کابیان ہے کہ امام مالک کاکہناہے کہ آپ کوزین العابدینؑ کثرت عبادت کی وجہ سے کہاجاتاہے ۔(7)
علماء فریقین کاارشادہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ایک شب نمازتہجد میں مشغول تھے کہ شیطان اژدھے کی شکل میں آپ کے قریب آگیا اوراس نے آپ کے پائے مبارک کے انگوٹھے کومنہ میں لے کاٹناشروع کیا، امام جوہمہ تن مشغول عبادت تھے اورآپ کارجحان کامل بارگاہ ایزدی کی طرف تھا، وہ ذرابھی اس کے اس عمل سے متاثرنہ ہوئے اوربدستورنمازمیں منہمک ومصروف ومشغول رہے بالآخروہ عاجزآگیا اورامامؑ نے اپنی نمازبھی تمام کرلی اس کے بعدآپ نے اس شیطان ملعون کوطمانچہ مارکردورہٹادیا اس وقت ہاتف غیبی نے انت زین العابدین کی تین بارصدادی اورکہابے شک تم عبادت گزاروں کی زینت ہو، اسی وقت آپؑ  کایہ لقب ہوگیا ۔(8) ایک روایت میں اسکی وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ قیامت میں آپ کو اسی نام سے پکاراجائے گا ۔(9)

 
لقب سجادؑ :


ذہبی نے طبقات الحفاظ میں بحوالہ امام محمدباقرعلیہ السلام لکھاہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کوسجاد اس لیے کہاجاتاہے کہ آپ تقریبا ہرکارخیرپرسجدہ فرمایاکرتے تھے جب آپ خداکی کسی نعمت کاذکرکرتے توسجدہ کرتے جب کلام خداکی آیت ”سجدہ“ پڑھتے توسجدہ کرتے جب دوافراد میں صلح کراتے توسجدہ کرتے اسی کانتیجہ تھاکہ آپ کے سجدے کی جگہوں  پراونٹ کے گھٹوں کی گھٹے پڑجاتے تھے پھرانہیں کٹواناپڑتاتھا۔
امام زین العابدین علیہ السلام کا بلندنسب اور نسل باپ اورماں کی طرف سے دیکھے جاتے ہیں، امام علیہ السلام کے والدماجد حضرت امام حسینؑ اورداداحضرت علیؑ اوردادی حضرت فاطمہ زہرا(س)  بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اورآپ کی والدہ جناب شہربانوبنت یزدجردابن شہریارابن کسری ہیں ،یعنی آپ حضرت پیغمبراسلام علیہ السلام کے پوتے اورنوشیرواں عادل کے نواسے ہیں ،یہ وہ بادشاہ ہے جس کے عہدمیں پیداہونے پرسرورکائنات نے اظہارمسرّت فرمایاہے ،اس سلسلہ نسب کے متعلق ابوالاسود دوئلی نے اپنے اشعارمیں اس کی وضاحت کی ہے کہ اس سے بہتر اورسلسلہ ناممکن ہے اس کاایک شعریہ ہے۔

وان غلاما بین کسری هاشم   لاکرم من ینطت علیه التمائم


اس فرزندسے بلندنسب کوئی اورنہیں ہوسکتا جونوشیرواں عادل اورفخرکائنات حضرت محمدمصطفی کے داداہاشم کی نسل سے ہو ۔(9)
شیخ سلیمان قندوزی اوردیگرعلماء اہل اسلام لکھتے ہیں کہ نوشیرواں کے عدل کی برکت تودیکھوکہ اسی کی نسل کوآل محمدﷺکے نورکا حامل قراردیا اورآئمہ طاہرینؑ کے ایک عظیم فردکواس لڑکی سے پیداکیا جونوشیرواں کی طرف منسوب ہے ،پھرتحریرکرتے ہیں کہ امام حسینؑ کی تمام بیویوں میں یہ شرف صرف جناب شہربانوکونصیب ہوجوحضرت امام زین العابدین کی والدہ ماجدہ ہیں ۔(10) علامہ عبیداللہ بحوالہ ابن خلکان لکھتے ہیں کہ جناب شہربانوشاہان فارس کے آخری بادشاہ یزدجردکی بیٹی تھیں اورآپ ہی سے امام زین العابدین متولدہوئے ہیں ۔(11)

 
حضرت امام زین العابدین ؑ کی شأن عبادت :


جس طرح آپ کی عبادت گزاری میں پیروی ناممکن ہے اسی طرح آپ کی شان عبادت کی رقم طرازی بھی دشوارہے ایک وہ ہستی جس کامطمع نظرمعبودکی عبادت اورخالق کی معرفت میں محو کامل ہواورجواپنی حیات کامقصداطاعت خداوندی ہی کوسمجھتاہواورعلم ومعرفت میں حددرجہ کمال رکھتاہو اس کی شان عبادت کو سطح قرطاس پرکیونکر لایاجاسکتاہے اورزبان قلم میں کس طرح کامیابی حاصل کرسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ علماء کی بے انتہا کاوش کے باوجود آپ کی شان عبادت کامظاہرہ نہیں ہوسکا،“قدبلغ من العبادة مالم یبلغه احد”(12) آپ عبادت کی اس منزل پرفائزتھے جس پرکوئی بھی فائزنہیں ہوا ۔ اس سلسلہ میں ارباب علم اورصاحبان قلم جوکچھ کہہ اورلکھ سکے ہیں ان میں سے بعض واقعات وحالات یہ ہیں:

 
واقعہ کربلاکے سلسلہ میںامامؑ کا صبرواستقامت :


شہادت امام حسین ؑکے بعدجب خیموں میں آگ لگائی گئی توآپ انہیں خیموں میں سے ایک خیمہ میںبدستورپڑے ہوئے تھے ،ہماری ہزارجانیں قربان ہوجائیں،حضرت زینب (س)  پرکہ انہوں نے اہم فرائض کی ادائیگی کے سلسلہ میں سب سے پہلافریضہ امام زین العابدین علیہ السلام کے تحفظ کاادافرمایا اورامام کوبچالیاالغرض رات گزاری اورصبح نمودارہوئی، دشمنوں نے امام زین العابدینؑ کواس طرح جھنجوڑا کہ آپ اپنی بیماری بھول گئے آپ سے کہاگیاکہ ناقوں پرسب کوسوارکرواورابن زیادکے دربارمیں چلو،سب کوسوارکرنے کے بعدآل محمدﷺ کاساربان پھوپھیوں ،بہنوں اورتمام مخدرات کولئے ہوئے داخل دربار ہوا حالت یہ تھی کہ عورتیں اوربچے رسیوں میں بندھے ہوئے اورامام لوہے میں جکڑے ہوئے دربارمیں پہنچ گئے آپ چونکہ ناقہ کی برہنہ پشت پرسنبھل نہ سکتے تھے اس لیے آپ کے پیروں کوناقہ کی پشت سے باندھ دیاگیاتھا دربارکوفہ میں داخل ہونے کے بعدآپ اورمخدرات عصمت قیدخانہ میں بندکردئیے گئے ،سات روزکے بعدآپ سب کولیے ہوئے شام کی طرف روانہ ہوئے اور ۱۹ منزلیں طے کرکے تقریبا ۳۶/ یوم میں وہاں پہنچے۔کتاب کامل بہائی میں ہے کہ ۱۶/ ربیع الاول ۶۱ ھء کوبدھ کے دن آپ دمشق پہنچے ہیں اللہ رے صبرامام زین العابدین بہنوں اورپھوپھیوں کاساتھ اورلب شکوہ پرسکوت کی مہر ۔ شام کاایک واقعہ یہ ہے کہ آپ کے ہاتھوں میں ہتھکڑی، پیروں میں بیڑی اورگلے میں خاردارطوق آہنی پڑاہواتھا  ؛   اسی لیے آپؑ نے بعدواقعہ کربلاایک سوال کے جواب میں ”الشام الشام الشام“ فرمایاتھا ۔ (13)

شام پہنچنے کے کئی گھنٹوں یادنوں کے بعدآپؑ  آل محمدﷺکولیے ہوئے سرہائے شہدا سمیت داخل دربارہوئے پھرقیدخانہ میں بندکردئیے گئے تقریباایک سال قید کی مشقتیں جھیلیں۔ قیدخانہ بھی ایساتھاکہ جس میں دھوپ کی  تمازت کی وجہ سے ان لوگوں کے چہروں کی کھالیں متغیرہوگئی تھیں (14) قیدکے بعدآپؑ  سب کولیے ہوئے ۲۰/ صفر ۶۲ ھء کوواردہوئے آپ کے ہمراہ سرحسینؑ بھی کردیاگیاتھا ،آپ نے اسے اپنے پدربزرگوارکے جسم مبارک سے ملحق کیا ۔ (15)

۸/ ربیع الاول ۶۲ ھ کوآپؑ امام حسینؑ کالٹاہواقافلہ  لئے ہوئے مدینہ منورہ پہنچے ،وہاں کے لوگوں نے آہ وزاری اورکمال رنج وغم سے آپ کااستقبال کیا۔ ۱۵ شب وروز نوحہ وماتم ہوتارہا ۔تفصیلی واقعات کے لیے کتب مقاتل وسیرملاحظہ کی جائیں۔ اس عظیم واقعہ کااثریہ ہواکہ زینبسلام اللہ علیہا کے بال اس طرح سفیدہوگئے تھے کہ جاننے والے انہیں پہچان نہ سکے ۔(16) رباب نے سایہ میں بیٹھناچھوڑدیا امام زین العابدینؑ  تاحیات گریہ فرماتے رہے ۔(17) اہل مدینہ یزیدکی بیعت سے علیحدہ ہوکرباغی ہوگئے بالآخرواقعہ حرّہ کی نوبت آگئی.

 
واقعہ کربلااورحضرت امام زین العابدینؑ کے خطبات :

 

معرکہ کربلاکی غم انگیز داستان تاریخ اسلام ہی نہیں تاریخ عالم کاافسوسناک سانحہ ہے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اول سے آخرتک اس ہوش ربا اورروح فرساواقعہ می اپنے والد بزرگوار کے ساتھ رہے اوران کی شہادت کے بعدخوداس تحریک کے علمبرداربنے اورپھرجب تک زندہ رہے اس سانحہ کاماتم کرتے رہے ۱۰/ محرم ۶۱ ھء کاواقعہ یہ اندوہناک حادثہ جس میں ۱۸/ بنی ہاشم اوربہتّراصحاب وانصارشہید ہوئے حضرت امام زین العابدینؑ مرتے دم تک اس کی یادفراموش نہ ہوئی اوراس کاصدمہ جانکاہ دورنہ ہوا، آپ یوں تواس واقعہ کے بعدتقریبا چالیس سال زندہ رہے مگر لطف زندگی سے محروم رہے اورکسی نے آپ کوبشاش اورفرحناک نہ دیکھا،اس جانکاہ واقعہ کربلاکے سلسلہ میں آپ نے جوجابجاخطبات ارشادفرمائے ہیں ان کاترجمہ درج ذیل ہے۔

 
کوفہ میں آپؑ  کاخطبہ :


کتاب لہوف  میں ہے(18) کہ کوفہ پہنچنے کے بعدامام زین العابدینؑ نے لوگوں کوخاموش رہنے کااشارہ کیا،سب خاموش ہوگئے، آپ کھڑے ہوئے خداکی حمدوثناء کی ،حضرتؑ نے نبیﷺ کاذکرکیا، ان پرصلوات بھیجی پھرارشادفرمایاائے لوگو! جومجھے جانتاہے وہ توپہچانتاہی ہے جونہیں جانتا اسے میں بتاتاہوں میں علی بن الحسین بن علی بن ابی طالبؑ ہوں ،میں اس کافرزندہوں جس کی بے حرمتی کی گئی جس کاسامان لوٹاگیاجس کے اہل وعیال قیدکردئیے گئے میں اس کافرزندہوں جوساحل فرات پرذبح کردیاگیا،اوربغیرکفن ودفن چھوڑدیاگیااور(شہادت حسینؑ)ہمارے فخرکے لیے کافی ہے اے لوگو! تمہارابراہوکہ تم نے اپنے لیے ہلاکت کاسامان مہیاکرلیا، تمہاری  آراء کس قدربری ہیں ،تم کن آنکھوں سے رسول ﷺ کودیکھوگے جب رسول ﷺ تم سے پوچھ گچھ کریں گے کہ تم لوگوں نے میری عترت کوقتل کیااورمیرے اہل حرم کوذلیل کیا ”اس لیے تم میری امت سے نہیں ہو“۔

مسجددمشق (شام) میں آپؑ  کاخطبہ :

 

مقتل ابی مخنف ، بحارالانوار ، ریاض القدس ، اورروضة الاحباب(19) وغیرہ میں ہے کہ جب حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اہل حرم سمیت درباریزیدمیں داخل کئے گئے اور ان کومنبرپرجانے کاموقع ملاتوآپ منبرپرتشریف لے گئے اورانبیاءؑ کی طرح شیریں زبان میں نہایت فصاحت وبلاغت کے ساتھ خطبہ ارشادفرمایا :

اے لوگو! تم سے جومجھے پہچانتاہے وہ توپہچانتاہی ہے، اورجونہیں پہچانتامیں اسے بتاتاہوں کہ میں کون ہوں؟ سنو، میں علی بن الحسین بن علی بن ابی طالبؑ  ہوں، میں اس کافرزندہوں جس نے حج کئے ہیں اس کافر زندہوں جس نے طواف کعبہ کیاہے اورسعی کی ہے ، میں پسرزمزم وصفاہوں، میں فرزندفاطمہ زہراسلام اللہ علیہا ہوں، میں اسکافرزند ہوں جسے پشت گردن سے ذبح کیاگیا،میں اس پیاسے کافرزند ہوں جوپیاساہی دنیاسے اٹھا،میں اس کافرزندہوں جس پرلوگوں نے پانی بندکردیا، حالانکہ تمام مخلوقات پرپانی کوجائزقراردیا،میں محمدمصطفی کافرزندہوں، میں اس کافرزندہوں

جوکربلامیں شہیدکیاگیا،میں اس کافرزندہوں جس کے انصار زمین میں آرام کی نیندسوگئے، میں اسکا پسرہوں جس کے اہل حرم قیدکردئے گئے میں اس کافرزندہوں جس کے بچے بغیرجرم وخطاذبح کرڈالے گئے ، میں اس کابیٹا ہوں جس کے خیموں میں آگ لگادی گئی، میں اس کافرزند ہوں جس کاسرنوک نیزہ پربلندکیاگیا، میں اس کافرزند ہوں جس کے اہل حرم کی کربلامیں بے حرمتی کی گئی، میں اس کافرزندہوں جس کاجسم کربلا کی زمین پرچھوڑدیاگیااورسر دوسرے مقامات پرنوک نیزہ پربلندکرکے پھرایا گیا میں اس کافرزند ہوں جس کے اردگردسوائے دشمن کے کوئی اورنہ تھا،میں اس کافرزندہوں جس کے اہل حرم کوقیدکرکے شام تک پھرایاگیا، میں اس کافرزندہوں جوبے یارومددگارتھا۔ پھرامام علیہ السلام نے فرمایا لوگو! خدانے ہم کوپانچ فضیلتیں بخشی ہیں:

۱۔ خدا کی قسم ہمارے ہی گھرمیں فرشتوں کی آمدورفت رہی اورہم ہی معدن نبوت ورسالت ہیں۔
۲۔ ہماری شان میں قرآن کی آیتیں نازل کیں، اورہم نے لوگوں کی ہدایت کی۔
۳۔ شجاعت ہمارے ہی گھرکی کنیزہے ،ہم کبھی کسی کی قوت وطاقت سے نہیں ڈرے اورفصاحت ہماراہی حصہ ہے، جب فصحاء فخرومباہات کریں۔
۴ ۔ ہم ہی صراط مستقیم اورہدایت کامرکزہیں اوراس کے لیے علم کاسرچشمہ ہیں جوعلم حاصل کرناچاہے اوردنیاکے مومنین کے دلوں میں ہماری محبت ہے۔
۵ ۔  ہمارے ہی مرتبے آسمانوں اورزمینوں میں بلندہیں ،اگرہم نہ ہوتے توخدادنیاکوپیداہی نہ کرتا،ہرفخرہمارے فخرکے سامنے پست ہے، ہمارے دوست (روزقیامت ) سیروسیراب ہوں گے اورہمارے دشمن روزقیامت بدبختی میں ہوں گے۔

جب لوگوں نے امام زین العابدینؑ  کاکلام سناتو چیخ مار کر رونے اور پیٹنے لگے اوران کی آوازیں بے ساختہ بلندہونے لگیں یہ حال دیکھ کر یزیدگھبرااٹھاکہ کہیں کوئی فتنہ نہ کھڑاہوجائے اس نے اس کے ردّعمل میں فوراًمؤذّن کوحکم دیا(کہ اذان شروع کرکے) امامؑ کے خطبہ کومنقطع کردے، مؤذّن گلدستہ اذان پرگیا؛
اورکہا”اللہ اکبر“ (خداکی ذات سب سے بزرگ وبرترہے) امام ؑنے فرمایاتونے ایک بڑی ذات کی بڑائی بیان کی اورایک عظیم الشان ذات کی عظمت کااظہار کیااور جو کچھ کہا”حق“ ہے ۔پھر مؤذّن نے کہا”اشہد ان لاالہ الااللہ (میں گواہی دیتاہوں کہ خداکے سوا کوئی معبودنہیں) امامؑ نے فرمایامیں بھی اس مقصدکی ہرگواہ کے ساتھ گواہی دیتاہوں اورہرانکارکرنے والے کے خلاف اقرارکرتاہوں۔ پھر مؤذّن نے کہ” اشہدان محمدارسول اللہ“ (میں گواہی دیتاہوں کہ محمدمصطفی اللہ کے رسول ہیں) فبکی علی، یہ سن کرحضرت علی ابن الحسینؑ  رو پڑے اورفرمایا ائے یزید میں تجھ سے خداکاواسطہ دے کر پوچھتاہوں بتا حضرت محمدمصطفی میرے ناناتھے یاتیرے ؟! یزیدنے کہاآپ کے، آپ نے فرمایا،پھرکیوں تونے ان کے اہلبیتؑ کوشہیدکیا، یزیدنے کوئی جواب نہ دیااوراپنے محل میں یہ کہتا ہوا چلاگیا۔”لاحاجة لی بالصلواة“ مجھے نمازسے کوئی واسطہ نہیں،اس کے بعد منہال بن عمر کھڑے ہوگئے اورکہافرزندرسول آپ کاکیاحال ہے، فرمایااے منہال ایسے شخص کاکیاحال پوچھتے ہوجس کاباپ(نہایت بے دردی سے) شہیدکردیاگیاہو، جس کے مددگارختم کردئیے گئے ہوں جواپنے چاروں طرف اپنے اہل حرم کوقیدی دیکھ رہاہو،جن کانہ پردہ رہ گیانہ چادریں رہ گئیں، جن کانہ کوئی مددگارہے نہ حامی، تم تودیکھ رہے ہوکہ میں قید میں ہوں، نہ کوئی میراناصرہے،نہ مددگار، میں اورمیرے اہل بیت لباس کہنہ میں ملبوس ہیں ہم پرنئے لباس حرام کردئیے گئے ہیں اب جوتم میراحال پوچھتے ہوتو میں تمہارے سامنے موجود ہوں تم دیکھ ہی رہے ہو،ہمارے دشمن ہمیں برابھلا کہتے ہیں اورہم صبح وشام موت کاانتظارکرتے ہیں۔

پھرفرمایاعرب وعجم اس پرفخرکرتے ہیں کہ حضرتمحمدمصطفی ان میں سے تھے، اورقریش عرب پراس لیے فخرکرتے ہیں کہ آنحضرت قریش میں سے تھے اورہم ان کے اہلبیتؑ ہیں لیکن ہم کوقتل کیاگیا، ہم پرظلم کیاگیا،ہم پرمصیبتوں کے پہاڑ توڑے گئے اورہم کوقیدکرکے دربدرپھرایاگیا،گویاہماراحسب بہت گراہواہو اورہمارانسب بہت ذلیل ہو، گویاہم عزت کی بلندیوں پرنہیں ہیں اوربزرگوں کے فرش پرجلوہ افروزنہیں ہوئے آج گویا تمام ملک یزیداوراس کے لشکرکاہوگیااورآل مصطفی یزید کی ادنی غلام ہوگئی ہو !، یہ سنناتھا کہ ہرطرف سے رونے پیٹنے کی صدائیں بلندہوئیں_

یزیدبہت خائف ہوا کہ کوئی فتنہ نہ کھڑاہوجائے اس نے اس شخص سے کہاجس نے امامؑ کومنبرپرتشریف لے جانے کے لیے کہاتھا ”ویحک اردت بصعودہ زوال ملکی“ تیرا برا ہو تو ان کو منبر بر بٹھا کر میری سلطنت ختم کرناچاہتاہے اس نے جواب دیا، بخدا میں یہ نہ جانتاتھا کہ یہ لڑکا اتنی بلندگفتگوکرے گا یزیدنے کہاکیاتونہیں جانتاکہ یہ اہلبیت نبوت اورمعدن رسالت کا ایک فردہے، یہ سن کر مؤذن سے نہ رہاگیا اوراس نے کہااےیزید”اذاکان کذالک فلماقتلت اباہ“ جب تویہ جانتاتھا توتونے ان کے پدربزرگوارکوکیوں شہیدکیا، مؤذن کی گفتگوسن کریزیدبرہم ہو گیا،”فامربضرب عنقہ“ اور مؤذن کی گردن ماردینے کاحکم دے دیا۔

 
مدینہ کے قریب پہنچ کرآپؑ  کاخطبہ :

 

مقتل ابی مخنف (20) میں ہے (ایک سال تک قیدخانہ شام کی صعوبت برداشت کرنے کے بعدجب اہل بیت رسول کی رہائی ہوئی اوریہ قافلہ کربلاہوتاہوامدینہ کی طرف چلاتوقریب مدینہ پہنچ کرامام علیہ السلام نے لوگوں کوخاموش ہوجانے کااشارہ کیا،سب کے سب خاموش ہوگئے آپ نے فرمایا:

حمداس خداکی جوتمام دنیاکاپروردگارہے، روزجزاء کامالک ہے ، تمام مخلوقات کاپیداکرنے والاہے جواتنادورہے کہ بلندآسمان سے بھی بلندہے اوراتناقریب ہے کہ سامنے موجودہے اورہماری باتوں کاسنتاہے، ہم خداکی تعریف کرتے ہیں اوراس کاشکربجالاتے ہیں عظیم حادثوں،زمانے کی ہولناک گردشوں، دردناک غموں، خطرناک آفتوں ، شدیدتکلیفوں، اورقلب وجگرکوہلادینے والی مصیبتوں کے نازل ہونے کے وقت اے لوگو! خدا اورصرف خداکے لیے حمدہے، ہم بڑے بڑے مصائب میں مبتلاکئے گئے ،دیواراسلام میں بہت بڑارخنہ(شگاف) پڑگیا، حضرت ابوعبداللہ الحسینؑ  اوران کے اہل بیت شہیدکردیے گئے، ان کی عورتیں اوربچے قیدکردئیے گئے اور(لشکریزیدنے)ان کے سرہائے مبارک کوبلندنیزوں پررکھ کر شہروں میں پھرایا، یہ وہ مصیبت ہے جس کے برابرکوئی مصیبت نہیں، اے لوگو! تم سے کون مردہے جوشہادت حسینؑ کے بعدخوش رہے یاکونسادل ہے جوشہادت حسینؑ سے غمگین نہ ہویاکونسی آنکھ ہے جو آنسوؤں کو روک سکے، شہادت حسین پرساتوں آسمان روئے، سمندر اور اس کی شاخیں روئیں، مچھلیاں اورسمندرکے گرداب روئے ملائکہ مقربین اورتمام آسمان والے روئے

اے لوگو!! کون ساقطب ہے جوشہادت حسینؑ کی خبرسن کرنہ پھٹ جائے، کونساقلب ہے جومحزون نہ ہو، کونساکان ہے جواس مصیبت کوسن کرجس سے دیواراسلام میں رخنہ پڑا،بہرہ نہ ہو، اے لوگو! ہماری یہ حالت تھی کہ ہم کشاں کشاں پھرائے جاتے تھے، دربدرٹھکرائے جاتے تھے ذلیل کئے گئے شہروں سے دورتھے، گویاہم کواولادترک وکابل سمجھ لیاگیاتھا ،حالانکہ نہ ہم نے کوئی جرم کیاتھا نہ کسی برائی کاارتکاب کیاتھا نہ دیواراسلام میں کوئی رخنہ ڈالاتھا اورنہ ان چیزوں کے خلاف کیاتھاجوہم نے اپنے آباو   اجدادسے سناتھا،خداکی قسم اگرحضرت نبی بھی ان لوگوں(لشکریزید) کوہم سے جنگ کرنے کے لیے منع کرتے (تویہ نہ مانتے) جیساکہ حضرت نبی نے ہماری وصایت کااعلان کیا(اوران لوگوں نے مانا)بلکہ جتنا انہوں نے کیاہے اس سے زیادہ سلوک کرتے،ہم خداکے لیے ہیں اورخداکی طرف ہماری بازگشت ہے“۔

 
واقعہ حرہ اورامامؑ  کا صبر :

 

مستند تواریخ میں ہے کہ کربلاکے بے گناہ قتل نے اسلام میں ایک تہلکہ ڈال دیاخصوصا ایران میں ایک قوی جوش پیداکردیا،جس نے بعدمیں بنی عباس کوبنی امیہ کے غارت کرنے میں بڑی مدددی چونکہ یزیدتارک الصلواة اورشارب الخمرتھاا وربیٹی بہن سے نکاح کرتااورکتّوں سے کھیلتاتھا ،اس کی ملحدانہ حرکتوں اورامام حسینؑ کے شہیدکرنے سے مدینہ میں اس قدرجوش پھیلاکر ۶۲ ھء میں اہل مدینہ نے یزیدکی معطلی کااعلان کردیااورعبداللہ بن حنظلہ کواپناسرداربناکریزیدکے گورنرعثمان بن محمدبن ابی سفیان کومدینہ سے نکال دیا۔ سیوطی تاریخ الخلفاء میں لکھتاہے کہ غسیل الملائکہ (حنظلہ) کہتے ہیں کہ ہم نے اس وقت یزیدکی خلافت سے انکارنہیں کیاجب تک ہمیں یہ یقین نہیں ہوگیاکہ آسمان سے پتھربرس پڑیں گے غضب ہے کہ لوگ ماں بہنوں،اوربیٹیوں سے نکاح کریں ۔ علانیہ شرابیں پئیں اورنمازچھوڑبیٹھیں ۔

یزیدنے مسلم بن عقبہ کوجوخونریزی کی کثرت کے سبب ”مسرف“ کے نام سے مشہورہے ،فوج کثیردے کر اہل مدینہ کی سرکوبی کوروانہ کیااہل مدینہ نے باب الطیبہ کے قریب مقام”حرہ“ پرشامیوں کامقابلہ کیا،گھمسان کارن پڑا،مسلمانوںکی تعدادشامیوں سے بہت کم تھی باوجودیکہ انہوں نے دادمردانگی دی ،مگرآخرشکست کھائی ،مدینہ کے چیدہ چیدہ بہادررسول اللہ کے بڑے بڑے صحابی انصارومہاجراس ہنگامہ آفت میں شہیدہوئے، شامی شہرمیں گھس گئے مزارات کوان کی زینت وآرائش کی خاطرمسمارکردیا،ہزاروں عورتوں سے بدکاری کی ہزاروں باکرہ لڑکیوں کاازالہ بکارت کرڈالا،شہرکولوٹ لیا،تین دن قتل عام کرایا،دس ہزارسے زیادہ  مدینہ  کے باشندےجن میں سات سومہاجروانصاراوراتنے ہی حاملان وحافظان قران علماء وصلحاء ومحدث تھے اس واقعہ میں قتل ہوئے ہزاروں لڑکے لڑکیاں غلام بنائی گئیں اورباقی لوگوں سے بشرط قبول غلامی یزیدکی بیعت لی گئی۔

مسجد نبوی اورحضرت کے حرم مقدس میں گھوڑے بندھوائے گئے یہاں تک کہ لیدکے انبارلگ گئے یہ واقعہ جوتاریخ اسلام میں واقعہ مسجد نبوی اورحضرت کے حرم مقدس میں گھوڑے بندھوائے گئے یہاں تک کہ لیدکے انبارلگ گئے یہ واقعہ جوتاریخ اسلام میں واقعہ حرّہ کے نام سے مشہور ہے ۔ ۲۷ذی الحجہ ۶۳ ھء کو ہواتھا ۔ اس واقعہ پرمولوی امیرعلی لکھتے ہیں کہ کفروبت پرستی نے پھرغلبہ پایا، ایک فرنگی مورخ لکھتاہے کہ کفرکادوبارہ جنم لینااسلام کے لیے سخت خوفناک اورتباہی بخش ثابت ہوابقیہ تمام مدینہ کویزیدکاغلام بنایاگیا،جس نے انکارکیا اس کاسراتارلیاگیا، اس رسوائی سے  صرف دوآدمی بچیں ”علی بن الحسینؑ“ اورعلی بن عبداللہ بن عباس  ان سے یزیدکی بیعت بھی نہیں لی گئی ۔ مدارس شفاخانے اوردیگررفاہ عام کی عمارتیں جوخلفاء کے زمانے میں بنائی گئیں تھی یاتوبندکردی گئیں یامسماراورعرب پھرایک رہا کرتے تھے ۔ (22)

٭٭٭٭

 
منابع :

 

(1)  ۔ اعلام الوری ص۱۵۱ومناقب جلد ۴ ص ۱۳۱

(2) جلاء العیون ص ۲۵۶.

(3) قمقام جلاء العیون؛عیون اخباررضا دمعة ساکبة جلد ۱ ص۴۲۶

(4) ارشادمفیدص ۳۹۱ ،فصل الخطاب.

(5) مجمع البحرین ص ۵۷۰.

(6) مطالب السؤل ص ۲۶۱ ،شواہدالنبوت ص ۱۷۶ ،نورالابصار ص ۱۲۶ ،الفرع النامی نواب صدیق حسن ص ۱۵۸

(7) نورالابصار ص ۱۲۶.

(8) مطالب السؤل ص ۲۶۲ ،شواہدالنبوت ص ۱۷۷

(9) دمعة ساکبة ص ۴۲۶ .

(10) اصول کافی ص۲۵۵.

(11) ینابیع المودة ص ۳۱۵ ،وفصل الخطاب ص ۲۶۱.

(12)  ۔ مناقب جلد ۴ ص ۱۳۱.

(13)  ۔ دمعہ ساکبہ ص ۴۳۹۔

(14) تحفہ حسینہ علامہ بسطامی۔

(15) لہوف۔

(16) ناسخ تواریخ

(17) احسن القصص ص ۱۸۲ طبع نجف۔

(18) جلاء العیون ص ۲۵۶۔

(19) کتاب لہوف ص ۶۸۔

(20) مقتل ابی مخنف ص ۱۳۵ ،بحارالانوارجلد ۱۰ ص ۲۳۳ ،ریاض القدس جلد ۲ ص ۳۲۸ ، اورروضة الاحباب۔

(21) مقتل ابی مخنف ص ۸۸ ۔

(22)  ۔ تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۳۶ ، تاریخ ابوالفداء جلد ۱ ص ۱۹۱ ،تاریخ فخری ص ۸۶ ،تاریخ کامل جلد ۴ ص ۴۹ ،صواعق محرقہ ص ۱۳۲۔