بابری مسجد ثالثی کے پانچ رکنی آئینی بینچ نے آج صبح کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی، جسٹس ایس اے بوبڑے، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس عبدالنظیرموجود تھے۔

ہندوستان میں تاریخی بابری مسجد اور رام مندر تنازع میں ثالثی سے متعلق کیس کی آج سماعت ہوئی جس کے دوران ثالثی کے لیے تشکیل کمیٹی کے چیئرمین نے ثالثی کے عمل کوپورا کرنے کے لیے 15 اگست تک وقت دینے کی گزارش کی جسے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے قبول کرتے ہوئے ثالثی کمیٹی کو 15 اگست تک کا وقت دے دیا۔

ہندوستان کےچیف جسٹس نے کہا کہ اس رپورٹ میں مزید کیا کچھ لکھا گیا ہے اور ثالثی کا عمل کہاں تک پہنچا اس کے متعلق تفصیل نہیں بتائی جا سکتی کیونکہ یہ سب رازداری کا معاملہ ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے فریقین کو باہمی مشورہ سے معاملہ حل کرنے کا مشورہ دینے اور فریقین کو فیض آباد میں مصالحتی پینل کے روبرو حاضر ہونے کی ہدایت دی تھی۔

واضح رہے کہ ہندوستان میں تاریخی بابری مسجد کی شہادت 6 دسمبر 1992 کو ہوئی تھی جب انتہا پسند ہندوؤں کے ٹولے نے تمام قانونی، سماجی و اخلاقی اقدار پامال کرتے ہوئے تاریخی بابری مسجد شہید کردی تھی۔