سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے یمن کے مختلف علاقوں پر اپنی وحشیانہ بمباری کے دوران اتوار کوشمالی صوبے صعدہ کے ایک بازار کو نشانہ بنایا ہے۔ یمن سے موصولہ خبروں میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی اس وحشیانہ جارحیت میں متعدد عام شہری زخمی ہوئے ہیں جن میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔ جبکہ رہائشی مکانات اور دوکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب یمنی فوج نے سعودی عرب کی وحشیانہ جارحیت کے جواب میں سعودی عرب کے جنوبی علاقوں جیزان اور عسیر میں فوجی ٹھکانوں پر شدید حملے کیے ہیں جس میں متعدد سعودی فوجی اور ان کے اتحادی ہلاک ہوگئے ہیں۔
اس درمیان یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کی اعلی سیاسی کونسل اور احزاب اللقاء المشترک کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے ہوائی حملوں اور اس کے ذریعے یمن کا محاصرہ جاری رہنے اور بھوک مری کی وجہ سے اب تک ڈھائی لاکھ یمنی بچے شہید ہوچکے ہیں۔
یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کی اعلی سیاسی کونسل اور احزاب اللقاء المشترک پارٹی کے رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے عام شہریوں خاص طور پر خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ یمن کے  اشیائے خوراک کے پچھتر سے زائد گوادموں کو تباہ کردیا ہے جبکہ دولاکھ سینتالیس ہزار بچے یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی بنا پرغذائی قلت کی کمی، بھوک مری یا پھر سعودی بمباری کے نتیجے میں موت کی آغوش میں چلے گئے ہیں۔
یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ اور احزاب اللقاء المشترک نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا، برطانیہ اور اسرائیل کی حمایت سے یمن کے عوام پر سعودی عرب جو ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اس کا پوری قوت کےساتھ جواب دیا جائےگا اور جنگی مجرموں کو سزا دی جائےگی۔
ادھر انسان دوستانہ امور میں اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ یمن میں انسانی صورتحال انتہائی افسوسناک رخ اختیار کرتی جارہی ہے۔
انسان دوستانہ امور میں اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل مارک لوکاک نے یمن میں انسانی المئے کے خطرات کے پیش نظر مطالبہ کیا ہے کہ یمن پر ہوائی حملے فوری طور پر بند کئے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ یمنی عوام کو امدادی اشیا پہنچانے کے لئے اس ملک کی سبھی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن کے عوام اب اس سے زیادہ محاصرہ برداشت نہیں کرسکتے۔