برما میں مسلم نسل کُشی کے پس پردہ؛

صہیونی ریاست کس طرح مسلمانوں کے قتل عام کا انتظام کر رہی ہے؟

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تاریخ کی گواہی کے مطابق صہیونی ریاست اور برما کی حکومت کے درمیان بہت قریبی تعلقات ہیں جو 1950 کے عشرے سے قائم ہیں۔ برما نے مقبوضہ فلسطین میں غاصب اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی اس کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کئے تھے۔
مسلمانوں کا قتل عام اور نسل کُشی صہیونی ریاست کی اہم ترین تزویری حکمت عملیوں میں شام ہے جس پر یہ ریاست فلسطین اور عربی سرزمینوں پر قبضے سے لے کر اب تک کبھی غافل نہیں رہی ہے۔
اسی سلسلے میں صہیونی ریاست کی حکمت عملی کا تعلق صرف مقبوضہ سرزمینوں کے مسلمانوں کے قتل عام تک محدود نہیں رہی ہے بلکہ دنیا کے دوسرے علاقوں کے مسلمانوں کا قتل بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہے گوکہ دوسرے ملکوں میں مسلم کُشی اس کی براہ راست حکمت عملی میں شامل نہیں رہا بلکہ بالواسطہ طور پر اس شرمناک اور انسان دشمن پالیسی پر کاربند رہی ہے: مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث حکومتوں کو ہتھیار فراہم کرنا، ان ممالک میں دہشت گرد تنظیموں کو تقویت پہنچانا اور مسلح کرنا؛ جیسے کشمیر اور اب میانمار۔۔۔ آج ہم برما میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کا تماشا دیکھ رہے ہیں ان مسلمانوں کو روہنگیا مسلمان یا روہنگیا اقلیت بھی کہا جاتا ہے۔
صہیونی روزنامے  ہاریٹز (Haaretz) نے اپنی ایک رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ میانمار میں مسلمانوں کو قتل عام کے باوجود اسرائیلی وزارت جنگ اس ملک کو ہتھیاروں کی برآمدات کا سلسلہ بند نہیں کرے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ برما کے ساتھ صہیونیوں کے تعلقات بہت پرانے ہیں۔ انیسویں صدی عیسوی میں جنوب مشرقی ایشیا میں یہودی تاجروں کی اہم ترین منزل برما ہوا کرتا تھا اور انگریزی استعمار کی مدد سے اس ملک سے جب جاپانی قابضین کو نکال باہر کیا گیا تو بےشمار یہودی برما ہجرت کرکے یہیں بس گئے۔
تزویری حلیف یا صہیونی نوآبادی!
1948 میں مقبوضہ فلسطین میں صہیونی ریاست قائم ہوئی تو صہیونیوں کی کئی حکومتوں نے برما کے ساتھ تعلقات کا فروغ اپنے ایجنڈے پر رکھا۔
سنہ 1955 میں برمی وزیر اعظم "یونو" نے پہلے اسرائیل کا دور کرنے والے پہلے ایشیائی راہنما کے طور پر تل ابیب کا دورہ کیا یہ وہ زمانہ تھا کہ ایشیائی ممالک کی اکثریت نے ابھی صہیونی ریاست کو تسلیم ہی نہيں کیا تھا اور وہ ایسی پالیسیاں اختیار کرنے کے درپے تھے جس کے نتیجے میں اسرائیل کو بین الاقوامی سطح پر تنہائی سے دوچار کیا جاسکے۔
برما کے سینکڑوں فوجی افسران اور جوانوں کو فوجی تربیت کے لئے صہیونی کالجوں میں عسکری تعلیم کے حصول کے لئے تل ابیب روانہ کیا گیا اور اس مسئلے یونو کے دور اسرائیل کا اہم ترین ثمرہ قرار دیا گیا۔
اس سفر کا دوسرا ثمرہ یہ تھا کہ اسرائیل کے متعدد پرانے جنگی جہازوں، توپوں، مشین گنوں اور مختلف قسم کے عسکری سازو سامان کی خریداری کے معاہدے پر دستخط کئے گئے۔
اسی تسلسل میں صہیونیوں نے اپنی فضائیہ کے کے متعدد ہوابازوں کو برمی فضائیہ کے ہوابازوں کی تربیت کے لئے برما روانہ کیا گیا جبکہ دوسری طرف سے یونو نے بین الاقوامی سطح پر کوششوں کا آغاز کیا تھا تا کہ بین الاقوامی بندونگ (Bandung) کانفرنس میں صہیونی ریاست کی شرکت کی راہ ہموار کی جاسکے۔ یہ کانفرنس 29 ایشیائی اور افریقی ممالک کی شرکت سے انڈونیشیا میں منعقد ہونا قرار پائی تھی۔ اس کانفرنس نے بعد میں "غیر وابستہ تحریک" کے قیام کی راہ ہموار کی تھی۔
بہر حال برما کو عرب ممالک کی فکر بھی تھی جو اس وقت اسرائیل کے دشمن تصور کئے جاتے تھے اور عین ممکن تھا کہ اسرائیل کی وفاداری کی وجہ سے یہ ممالک اپنے سفارتی تعلقات برما کے ساتھ منقطع کریں۔
3 سال بعد 1958 میں صہیونی ریاست کے اس وقت کے صدر شیمون پیرز اور وزیر اعظم موشے دایان نے اس وقت کے برمی فوجی سربراہ و وزیر اعظم "نی وین" سے ملاقات کے لئے برما کا دورہ کیا۔
ملاقاتوں میں نی وین نے وعدہ کیا کہ برما اسرائیل کی ہم جہت اور طاقتور حمایت جاری رکھے گا اور اس نے اسی وقت 80 فوجی افسران مقبوضہ فلسطین بھجوا دیئے تا کہ وہ فلسطین کے اندر بننے والی نوآبادیوں میں زرعی آلات اور اشیاء خورد و نوش تیار کرنے والی مشینری کے استعمال کی کیفیت جاننے کے لئے ہونے والے کورسز میں شرکت کریں۔  
سنہ 1961 میں اس وقت کے صہیونی وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریون نے برمی حکام کے ساتھ ملاقات اور دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینے کے لئے برما کا دورہ کیا۔ بعض تاریخی تصاویر میں بن گوریون کو برما کی مقامی ٹوپی سر پر رکھے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
شیمون پیرز، موشے دایان، اسحاق بن زاوی اور گولڈامایر سمیت صہیونی ریاست کے حکام کے برما کے دورے 1960 کے عشرے میں بھی جاری رہے۔
1970 کے عشرے میں صہیونی ریاست کے خفیہ ادارے "موساد" نے برما کے خفیہ اور سیکورٹی اداروں کے افسروں کی تربیت کی ذمہ داری قبول کی اور  مختلف سطحوں اور شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو فروغ ملا اور اس کے نتیجے میں صہیونی ریاست نے برما کو ایشیا میں اپنی خارجہ پالیسی کا مرکز قرار دیا۔
کُشی
1980 کے عشرے میں اسرائیل اور برما کے معاشی تعلقات کے سلسلے میں، برما کی اس وقت کی حکومت نے اس ریاست کے ساتھ 5 ارب ڈالر کے ایک معاہدے پر دستخط کئے جس کے تحت برما کے ٹیلی مواصلات کے مراکز کی تعمیر کا کام صہیونی کمپنی "تیلراد Telrad" کو سونپ دیا گیا۔
1980 میں برما میں یہودی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقیاتی تعاون  [Jewish Agency for International Cooperation in Development] (MASHAV) کا کردار وسیع سطح پر سرگرم رہی۔ اس کمپنی نے برما میں زراعت اور آب پاشی کے سلسلے میں مختلف کورسز کا اہتمام کیا۔
یوں صہیونی ریاست اور برما کے درمیان تجارت، سائنس، صحت، تعلیم، طب، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مسلسل ترقی ملی۔ ان برسوں میں فریقین نے ایک دستاویز پر دستخط کئے جو در حقیقت اس ایشیائی ملک میں برما اور صہیونی ریاست کے درمیان مشترکہ ایوان ہائے تجارت کے قیام کی دستاویز تھی۔
برما اور صہیونی ریاست کے درمیان تعلقات اور مفاہمت ناموں کا سلسلہ اسپورٹس اور ثقافت کے شعبوں تک بھی پھیل گیا اور فریقین نے ان شعبوں میں بھی مفاہمت ناموں پر دستخط کئے۔ ویزا چھوٹ [Visa Exemption] کا معاہدہ مقبوضہ فلسطین پر مسلط غاصب ریاست اور برما کے درمیان دو طرفہ تعلقات، باہمی تعاون اور نہایت دوستانہ روابط کے عروج کی غمازی کرتا ہے۔
برما کی افواج اور عسکری اداروں کی کمان کس کے ہاتھ میں ہے؟
برما میں 1988 کی فوجی بغاوت کے بعد مختلف اخباری رپورٹوں سے ظاہر ہوتا تھا کہ صہیونی ریاست کی اسلحہ سازی کی کمپنیوں نے فوجی حکومت کے ساتھ مشین گنوں اور 150 ایم ایم کے ہاوٹزر (Howitzer) توپوں کی فروخت کے ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں اور ہتھیاروں کی کئی کھیپیں ارسال کی ہیں۔
1995 میں صہیونی اسلحہ سازی کی کمپنی "کور" نے برما میں ہتھیاروں کی محدود پیداوار کی غرض سے یہاں اسلحہ سازی کے کارخانے قائم کئے۔ یہ کمپنی فنی اوزاروں اور آلات اور جاسوسی کے آلات کی پیداوار کے حوالے سے مشہور ہے۔
نیز تیلراد کمپنی نے 1996 میں برما کے شعبہ ٹیلی مواصلات کے شعبے میں اپنی سرگرمیوں کو مزید فروغ دیا اور اس شعبے میں برما کی تمام ٹیلی مواصلاتی ضروریات کی فراہمی کو اپنے ذمے لیا۔
مئی 1997 میں صہیونی وزارت جنگ نے فاش کیا کہ صہیونی عسکری کمپنی "البیت" اور برما سرکار کے درمیان ایک معاہدے کے تحت اس کمپنی نے برما کی فضائیہ کے جنگی طیاروں کو جدید بنانے کا استحقاق حاصل کرلیا ہے۔  
بعد کے برسوں میں بھی برما کے ساتھ صہیونی ریاست کے عسکری، جاسوسی اور سیکورٹی روابط کو مسلسل فروغ دیا جاتا رہا یہاں تک کہ اسرائیل اس واحد قوت میں تبدیل ہوا جو برما کی بری، بحری اور فضائی افواج کے ڈھانچے کو تقویت پہنچانے کے باعث قابض صہیونی ریاست کی تزویری شراکت دار [Strategic partner] شمار ہوتی ہے اور متعدد مبصرین کی رائے کے مطابق برما آج عملی طور پر براعظم ایشیا اور پوری دنیا کی سطح پر صہیونی ریاست کے فوجی اڈے میں بدل چکا ہے۔
سنہ 2000 میں فلسطینی نوجوانوں کے انتفاضۂ الاقصی کے عروج کے وقت برمی حکومت نے صہیونی ریاست کے ساتھ ڈرون طیاروں اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم پیتون-4 (Python 4) کی خریداری کے معاہدے پر دستخط کئے۔
سنہ 2015 میں برمی افواج کے چیف آف جوائنٹ اسٹاف جنرل مین آنگ ہلینگ [Min Aung Hlaing] نے مقبوضہ فلسطین کے سرکاری دورے کے دوران صہیونی ریاست کے حکام سے ملاقات اور بات چیت کی۔ ان ملاقاتوں میں فریقین نے عسکری، سلامتی اور انٹیلجنس کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔ صہیونی ریاست اس دورے کو خفیہ رکھنے کی غرض سے تمام تر کوششیں بروئے کار لائی لیکن ہلینگ نے فیس بک پر اپنے ذاتی صفحے کے اوپر اس دورے کو بھی فاش کیا اور فریقین کے درمیان طے پانے والے فوجی اور اسلحہ جاتی معاہدوں کو طشت از بام کیا۔
اس دورے میں برمی چیف آف جوائنٹ اسٹاف نے "اشدود" کی بندرگاہ پر صہیونی ریاست کے بحری اڈے [Port of Ashdod] نیز پالماشیم ہوائی اڈے [Palmachim air base] کا دورہ بھی کیا اور صہیونی ریاست کی اسلحہ ساز کمپنیوں کے سربراہوں سے ملاقاتیں کرکے ان کے ساتھ جنگی کشتیوں، بھاری مشین گنوں اور بکتربند گاڑیوں کی خریداری کے معاہدوں کی تکمیل کے سلسلے میں تبادلۂ خیال کیا۔
اسرائیل روہنگیا مسلمانوں کے گڑھ "آراکان" میں!!!
حال ہی میں شائع ہونے والی بعض رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ برمی حکومت نے صہیونی ریاست کی سیکورٹی کمپنی "Tar Ideal Concepts Ltd" کے ساتھ ایک قراداد منعقد کی ہے۔ یہ کمپنی فوجی اور سیکورٹی کی تربیت میں ماہر کمپنی سمجھی جاتی ہے۔ اس معاہدے کے تحت صہیونی ریاست کے فوجی اور سلامتی کے امور کے ماہرین مظلوم روہنگیا مسلمانوں کے گڑھ "آراکان" میں برمی خصوصی فورسز کو تربیت دینے میں مصروف ہیں۔ یہ وہی صوبہ ہے جہاں برمی افواج انسانیت کُشی کی مثالیں قائم کررہی ہیں، ان کی نسل کُشی کی جارہی ہے اور انہیں قومی و مذہبی حوالوں سے شدیدترین صعوبتوں سے دوچار کیا جارہا ہے۔
دسمبر 2016 میں ایک اسرائیلی وکیل و انسانی حقوق کے کارکن نے صہیونی ریاست کی وزارت جنگ سے مطالبہ کیا کہ برمی افواج کو ہتھیاروں کی فروخت بند کردے کیونکہ برمی افواج ان ہتھیاروں کو برما کے مظلوم مسلمانوں کے بےرحمانہ قتل عام کے لئے بروئے کار لا رہی ہیں۔
اسرائیلی وکیل کی اس درخواست کو صہیونی افواج کی شدید ترین مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور وکیل سے کہا گیا کہ اسرائیلی فوج ہرگز انسانی حقوق اور بالخصوص دوسرے ممالک کے حکمرانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام کے سلسلے میں اسرائیلی مفادات کو ہرگز قربان نہیں کرسکتی!
دوسری طرف سے صہیونی فوجی اور سیکورٹی ایجنسیوں کی قریبی نیوز ویب سائٹ "وللا Walla" نے اپنی ایک رپورٹ میں اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل برما کی افواج کو ہتھیار کرنے والا اہم ترین ریاست ہے اور برما کے اعلی عسکری حکام کے اسرائیل کے فوجی اور انٹیلجنس کے اداروں کے ساتھ خفیہ اور نہایت قریبی تعلقات ہیں۔
اس رپورٹ کے ایک حصے میں مندرج ہے کہ "برما کی افواج کا کمانڈر انچیف ـ جو کہ برمی مسلمانوں کے قتل عام کا اصل ذمہ دار بھی ہے ـ وہ واحد برمی سیاسی شخصیت ہے جس کے اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے ساتھ بہت ہی قریبی تعلقات ہیں"۔
صہیونی ریاست اور برما کے حکام کی ملاقاتوں کے تسلسل میں صہیونی ریاست کی وزارت جنگ کے بین الاقوامی فوجی تعاون [اور ہتھیاروں کی فروخت] کے شعبے کے سربراہ میشل بن باروخ [Michel Ben Baruch] نے برما کا دورہ کرکے ہلینگ کا کے ساتھ ملاقات اور بات چیت کی ہے۔
25 اگست 2017 سے برمی حکومت اور افواج نے مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کُشی کے نئے دور کا آغاز کیا ہے جس کی عالمی سطح پر ـ بالخصوص مسلمانانان عالم کی جانب سے ـ شدید مذمت کی جارہی ہے اور جیسا کہ اس مضمون کے متن سے ظاہر ہوتا ہے صہیونی ریاست غزہ، رفح، الخلیل اور دریائے اردن کی مغربی پٹی میں مسلمانوں کے قتل عام کے ساتھ ساتھ برما میں بھی مسلمانوں کے قتل عام میں برابر کی شریک ہے چنانچہ ان واقعات کی مذمت کرنے والی قوتوں کو پس پردہ اصل کردار کو بھی دیکھنا چاہئے اور دیکھ لینا چاہئے کہ بنی نوع انسان اور مسلمانان عالم کا اصل دشمن کون ہے جس کے ساتھ تعلقات آج ان حکومتوں کے نزدیک قابل فخر سمجھے جارہے ہیں جو بظاہر مسلمانوں کی قیادت کے دعویدار ہیں؟ کیا صہیونی ریاست کے حامی اور دوست اس قتل عام اور نسل کُشی میں برابر کے شریک تصور نہیں ہونگے؟