عشره کرامت سب مومنین کو مبارک هو


اسی مناسبت سے ایک تحریر پیش خدمت هے.
*تکریم انسانی اور اس کی حقیقت*
یکم ذیقعد سے گیارہ ذیقعد تک کو حضرت امام رضا(ع)اور ان کی خواہر گرامی حضرت فاطمہ معصومہ(س)کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے "عشرہ کرامت"کا نام دیا گیا ہے ۔حضرت معصومہ(س)کی ولادت با سعادت یکم ذیقعد 173 ھجری قمری کو ہوئی  (1 )امام رضا(ع) کی ولادت با سعادت گیارہ ذیقعد 148 ھجری کو ۔
لفظ کرامت کو حضرت فاطمہ معصومہ(س) کے مشہور و معروف لقب " کریمہ  اھل بیت"
سے لیا گیا ہے ۔سوال یہ ہے کہ کرامت کیا ہے ؟کرامت انسان کے ساتھ کیوں مخصوص ہے ؟
اور کون سا انسان کرامت حاصل کر کے تمام مخلوقات پر برتری رکھتا ہے ؟
راغب اصفہانی ؒمفردات میں کرامت کے معنی کے بارے میں یوں لکھتا ہے :جب بھی "کرم"
خداوند متعال کے لیے وصف کے طور پر آئے تو اس کی بندوں پر ظاہر ہونے والی نعمتوں اور احسان کا اسم ہو گا  جیسے"ان ربی غنی کریم" (2 )اور جب کسی انسان کے وصف کے طور پر ذکر ہو تو اس کے اچھے اخلاق و افعال کے معنی میں ہو گا۔(3 )
کرامت و تکریم کا انسان کے سا تھ اختصاص
کرامت ایک خدائی نعمت ہے جو قرآنی نقطہ نظر کے مطابق صرف انسان کو عطا ہوئی ہے
جیسا کہ قرآن میں ہے : "ولقد کرمنا بنی آدم و حملنا ھم فی البر والبحر و ر زقناھم من الطیبات
و فضلناھم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلہ؛ہم نے اولاد آدم کو تکریم و توقیر دی اور انھیں خشکی اور سمندر میں(سواریوں پر )سوار کیا اور انھیں انواع و اقسام کے پاکیزہ رزق دیےاور انھیں اپنی مخلوقات میں سے بہت ساری موجودات پر برتری دی۔(4 )
حضرت آیت اللہ جوادی آملی اس آیت میں مذکور کرامت  و تکریم اور تفضیل کو انسان کی تکریم کا مظہر سمجھتے ہیں ؛البتہ اس فرق کے ساتھ کہ آیت کا صدر (ولقد کرمنا بنی آدم)انسان کی کرامت نفس کے بارے میں ہے اور آیت کا ذیل (فضلنا کرمنا بنی آدم )انسان کی کرامت نفس کے بارے میں ہے اور آیت کا ذیل (فضلناھم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلہ)اس کی کرامت نسبی کے بارے میں۔(5 )
یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس آیت میں انسان سے مراد مقام انسانیت ہے نہ کہ انسان کے افراد،
اور یہ مقام انسانیت ہے جسے فرشتوں سے بالا تر قرار دیا گیا ہے ۔یہی وہ شرف تھا کہ انسان کو روح الہی کہا گیا اور مسجود ملائک قرار پایا، (6 )اور خالق ہستی نے اس کی تخلیق کے وقت اپنے آپ کو احسن الخالقین کہا:ولقد خلقنا الانسان من سلالۃ من طین۔ثم انشاناہ خلقا آخر فتبارک اللہ
احسن الخالقین۔(7 )
حضرت آیت اللہ جوادی آملی بھی اس بات کی تائید فرماتے ہیں:خدا نے اس لیے "ولقد کرمنا بنی آدم"فرمایا چونکہ اس کی خلقت میں ایک قیمتی گوھر و جوھر استعمال ہوا ہے ۔اگر انسان باقی مخلوقات کی طرح خاک سے پیدا ہوا ہوتا تو کرامت اس کا وصف اولی یا ذاتی نہ ہوتی لیکن انسان ایک فرع رکھتا ہے اور ایک اصل ۔فرع کی باز گشت خاک کی طرف ہے اور اصل خدا کی طرف منسوب ہے۔(8)
آیت اللہ جوادی آملی انسان کی کرامت کا سبب یوں بیان فرماتے ہیں:آدم اور نسل آدم کی کرامت کا سبب وہی روح الہی ہے اور جب خدا نے یہ روح الہی انسان کو دی تو فرمایا:فتبارک اللہ احسن الخالقین(9 ) واضح ہے کہ انسانیت سے پہلے کے تمام مراحل میں انسان دوسرے حیوانات کے ساتھ مشترک ہے۔اگر جنین میں نفس بناتی ہے اور تدریجا نفس حیوانی کے مرحلہ تک پہنچتا ہے تو یہ تبدیلی انسان و حیوان میں برابر ہے۔انسان کا تمام حیوانات سے امتیاز روح الہی میں ہے۔(10 )
کرامت و تکریم کا نزول و صعود
سورہ اسراء کی آیت نمبر ستر (70 )کی تشریح میں بیان ہونے والی انسان کی کرامت نفس و نسبی ،انسان کی آفرینش اورتخلیق و تکوین کے تناظر میں ہے اور وصف کرامت کی وجہ سے انسان کی مدح در حقیقت خداوند کریم کی مدح و ثنا ہے کیونکہ فضل الہی کے نتیجے میں انسان کو تمام مخلوقات پر برتری و فضیلت دی گئی ہے ۔دوسری طرف انسان جو قرب حق کی منزل تک سیر و سلوک کرتا ہے یہ اس کی کرامت اکتسابی ہے اور اس کرامت کی وجہ سے اس کی تعریف اس کے افعال اختیاری کے سبب سے ہے کہ انسان اپنے اختیاری افعال سے اس کرامت کو منصہ شہود پر لا سکتا ہے اور فرشتوں سے بالا تر ہو سکتا ہے ۔
"سورہ والتین"کی آیات نمبر 4 تا 6 انسان کے اس نزولی و صعودی مقام کی طرف اشارہ کرتی ہے
"لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ثم رددناہ اسفل سافلین الا الذین آمنوا وعملو اصالحات فلھم اجر غیر ممنون ۔بہ تحقیق ہم نے انسان کو بہترین صورت اور نظم میں پیدا کیا پھر اسے نچلے ترین مرحلہ تک لوٹا دیا ۔مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل صالح انجام دیے کہ ان کے لیے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔
بنا بر ایں انسان کی کرامت و برتری اس کے مقام خلافت الہی سے مربوط ہے جو کہ اصل خلقت انسان سے مربوط ہے نہ کہ افراد سے  اور ممکن ہے کہ بعض افراد سیر صعودی میں اس مقام کو حاصل کر لیں ۔جوادی آملی اس مطلب کی تایید میں فرماتے ہیں :خلافت مقام انسانیت سے مربوط ہے نہ کہ کسی خاص فرد یا صنف کے ساتھ ۔اگر آدم کو خلیفۃ اللہ کہا گیا تو یہ ان کے پیکر کو نہیں بلکہ ان کے مقام انسانیت کو خلیفۃ اللہ کہا گیا ۔
آخر میں اس چیز کا اضافہ کرتے چلیں کہ انبیا ءکرام اور اولیا الہی خصوصا اھل بیت عصمت و طہارت (ع)نزولی و صعودی ہر دو لحاظ سے کرامت الہی سے بہرہ مند ہیں،یہ وہ ہستیاں ہیں جو سیر صعودی اور کرامت اکتسابی کا مرتبہ حاصل کرنے میں اسوہ و نمونہ ہیں۔اس لیے اعلی ترین درجات تک رسایی کے لئے ان ہستیوں کی پیروی کرنی چاہیئے ہم یہ کہتے ہوئے مسرت محسوس کر رہے ہیں کہ "مجلہ شمس الشموس"کے اس شمارے میں ان اسوہ اور ماڈل ہستیوں کی سیرت اور رفتار و کردارکی ایک جھلک پیش کر رہے ہیں۔پہلی فصل میں قرآن کی نگاہ میں غدیر کی بحث پیش کریں گے ۔دو سری  فصل میں واقعہ سقیفہ اور امام علی کے حوالےسےگفتگوہوگی۔تیسری فصل میں امام رضا(ع) کی علمی زندگی اور چوتھی فصل میں دعائے عرفہ کی اہمیت و فضیلت کے سلسلے میں کچھ  عرائض پیش کریں گے ۔پانچویں فصل میں حضرت امام علی(ع) اور حضرت زھرا (س) کی ازدواجی زندگی سے چند درس اخلاقی اور چھٹی فصل میں امام حسین کے قیام کے سلسلے میں کوفیوں کی معاشرہ شناسی کے حوالے سے بحث پیش کریں گے ۔
مدیر اعلی
علی باقری
حوالہ جات
1 ۔مستدرک سفینۃ البحار،علی نمازی شاہرودی،ج8،ص 257
2۔سورہ نحل ،آیہ 27
3۔المفردات فی القرآن،ابو القاسم حسین ابن محمد بن فضل المعروف
راغب اصفہانی،ص428
4۔سورہ اسرا،آیہ 70
5۔کرامت در قرآن،آیت اللہ جوادی آملی،ص 18
6۔سورہ حجر،آیت 29 ۔۔۔۔31
7۔سورہ مومنون،آیہ 14
8۔کرامت در قرآن،آیت اللہ جوادی آملی،ص 62
9۔سورہ مومنون، آیت14
10۔کرامت در قرآن،آیت اللہ جوادی آملی،ص 97 ۔98
[12:09, 05/08/2016] Jawad Habib: ﺟﺪﯾﺪ ﺍﻟﺤﺎﺩ ------ ﺍﯾﮏ ﺗﺠﺰﯾﮧ
ﻓﮑﺮﯼ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﻮ ﺩﻭ ﺑﮍﮮ ﺩﻭﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺴﯿﻢ
ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ----- ﻗﺒﻞ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺩﻭﺭ،ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺩﻭﺭ - ﻗﺒﻞ
ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻓﮑﺮﯼ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ،ﻣﺬﮨﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﺣﺠﺎﻥ ﺳﺎﺯ
ﺑﻨﺎ ﻫﻮﺍ ﺗﻬﺎ -ﻣﺎﮈﺭﻥ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﮯ ﻇﮩﻮﺭ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﮧ ﺻﻮﺭﺕ ﺣﺎﻝ ﺑﺪﻝ
ﮔﺊ - ﺍﺏ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﻮ ﻋﻤﻮﻣﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺭﺣﺠﺎﻥ ﺳﺎﺯ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﺣﺎﺻﻞ
ﻫﻮ ﮔﯿﺎ -ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺑﺬﺍﺕ ﺧﻮﺩ ﻧﮧ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﮯ ﻣﻮﺍﻓﻖ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﮯ
ﺧﻼﻑ،ﻟﯿﮑﻦ ﺑﻌﺾ ﻭﺟﻮﻩ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻋﻤﻠﯽ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﻧﮑﻼ ﮐﮧ
ﻣﻮﺟﻮﺩﻩ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ﺗﻤﺎﻡ ﻓﮑﺮﯼ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺤﺎﺩﯼ ﻧﻈﺮﯾﮧ
ﻏﺎﻟﺐ ﺁ ﮔﯿﺎ - ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺮ ﻫﻮﺍ،ﯾﮩﺎﮞ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﺎﺋﺰﻩ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺭﮨﺎ
ﮨﮯ -
ﻣﻮﺟﻮﺩﻩ ﺳﯿﺎﺭﻩ ﺍﺭﺽ ﭘﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﺭﻩ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ - ﻭﻩ
ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﻬﺘﺎ ﮨﮯ -ﻣﺜﻼ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﺎ
ﻧﮑﻠﻨﺎ،ﺑﺎﺭﺵ ﮐﺎ ﺑﺮﺳﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻫﻮﺍﻭﮞ ﮐﺎ ﭼﻠﻨﺎ،ﻭﻏﯿﺮﻩ -ﺭﻭﺍﯼﺗﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﻬﺘﺎ ﺗﻬﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﻬﮧ ﺑﺮﺍﻩ ﺭﺍﺳﺖ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺧﺪﺍ
ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ -ﯾﮧ ﻋﻘﯿﺪﻩ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﮧ
ﯾﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﺪﯾﮩﯽ ﺻﺪﺍﻗﺖ ﺑﻦ ﭼﮑﺎ ﺗﻬﺎ -ﻣﻮﺣﺪ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﺮﮎ
ﺍﻧﺴﺎﻥ،ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﻄﻮﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﮧ
ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﮯ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﺗﻬﮯ - ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺧﺎﻟﻖ ‏( ﻣﺴﺒﺐ ‏)
ﺍﻭﺭ ﻧﺘﯿﺠﮯ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﮐﺴﯽ ﺳﺒﺐ ‏) cause ‏( ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﻓﮑﺮﯼ ﯾﺎ
ﻋﻤﻠﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮧ ﺗﻬﺎ -
ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﮯ ﻇﮩﻮﺭ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻫﻮﺍ ﮐﮧ ﮨﺮ ﻧﺘﯿﺠﮯ ﺳﮯ
ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﺩﯼ ﺳﺒﺐ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ - ﻣﺜﺎﻝ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺟﺪﯾﺪ
ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﺎ ﺑﺎﻧﯽ ﺳﺮ ﺍﺋﺰﺍﮎ ﻧﯿﻮﭨﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﻬﺎ ﻫﻮﺍ ﺗﻬﺎ -ﺍﺱ
ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﯿﺐ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﻬﺎ - ﺩﺭﺧﺖ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﺐ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ
ﻧﯿﭽﮯ ﮔﺮﺍ - ﻧﯿﻮﭨﻦ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﭘﻬﻞ ﺩﺭﺧﺖ ﺳﮯ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﻧﯿﭽﮯ
ﮐﯿﻮﮞ ﺁﯾﺎ،ﻭﻩ ﺍﻭﭘﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ -ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ
ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻫﻤﺎﺭﯼ ﺯﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﻗﻮﺕ ﮐﺸﺶ ﮨﮯ،ﺍﺱ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﺍﯾﺴﺎ
ﻫﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ،ﻭﻩ ﻧﯿﭽﮯ ﺳﮯ
ﺍﻭﭘﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﯿﮟ -
ﯾﮧ ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﺑﮍﻫﺎ،ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺩﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ
ﮐﮧ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﻫﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﻬﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ
ﺍﯾﮏ ﺳﺒﺐ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ،ﮨﺮ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﮐﺴﯽ ﺳﺒﺐ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﻇﮩﻮﺭ
ﻣﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ -ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺩﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺱ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﻮ ﻗﺎﻧﻮﻥ
ﺗﻌﻠﯿﻞ ‏) principle of causation ‏( ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ - ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﻮ
ﻣﺒﻨﯽ ﺑﺮ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﺳﻤﺠﻬﻨﮯ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺫﮨﻦ ﭘﻬﯿﻠﺘﺎ ﺭﮨﺎ،ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﻭﻩ
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻠﻤﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﮑﺮﯼ ﺳﺮﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﭘﺮ ﭼﻬﺎ ﮔﯿﺎ -ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﯽ
ﺗﻮﺟﯿﮩﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﺣﻮﺍﻟﮧ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻬﺎ،ﺍﺏ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﯽ
ﺗﻮﺟﯿﮩﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ،ﺳﺒﺐ ﮐﺎ ﺣﻮﺍﻟﮧ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ -
ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ
ﻃﺒﯿﻌﯽ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﺭﮐﻬﺘﯽ ﺗﻬﯽ - ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﻮﺟﯿﮩﮧ
ﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻭﻩ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﮯ ﻫﻢ ﻣﻌﻨﯽ ﻧﮧ ﺗﻬﯽ - ﻣﮕﺮ
ﻣﻠﺤﺪ ﻣﻔﮑﺮﯾﻦ ﻧﮯ ، ﻧﮧ ﮐﮧ ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ،ﻧﻈﺮﯾﺎﺗﯽ ﮨﺎﺋﯽ ﺟﯿﮏ ﮐﮯ
ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﮯ ﻫﻢ ﻣﻌﻨﯽ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ -ﯾﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﻭﻩ
ﻧﻈﺮﯾﮧ ﺷﺮﻭﻉ ﻫﻮﺍ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺟﺪﯾﺪ ﺍﻟﺤﺎﺩ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ -
ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺪﯾﺪ ﻣﻠﺤﺪﯾﻦ ﻧﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﮧ
ﯾﻘﯿﻦ ﺩﻻﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺍﺏ ﮨﻤﯿﮟ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﻮﺟﯿﮩﮧ ﮐﮯ
ﻟﯿﮯ ﺧﺪﺍ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ،ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﺍﮔﺮ ﻃﺒﯿﻌﯽ
ﺍﺳﺒﺎﺏ ﮐﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﮨﯿﮟ،ﺗﻮ ﻭﻩ ﻣﺎﻓﻮﻕ ﺍﻟﻄﺒﻌﯿﯽ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﮐﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﻧﮩﯿﮟ
ﻫﻮ ﺳﮑﺘﮯ -
ﺟﺪﯾﺪ ﻣﻠﺤﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺍﺳﺘﺪﻻﻝ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﺿﺢ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ
ﻣﻨﻄﻘﯽ ﺧﻼ ﺗﻬﺎ،ﻭﻩ ﯾﮧ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺳﺒﺐ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺑﺘﺎ ﺭﮨﯽ
ﮨﮯ،ﻭﻩ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ،ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﻬﯽ ﯾﮧ
ﺳﻮﺍﻝ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﺒﺐ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺮ ﻭﻗﻮﻉ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ - ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ
ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺒﺐ ﺍﺻﻞ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﺟﯿﮩﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ،ﺳﺒﺐ ﺧﻮﺩ ﺍﺱ ﮐﺎ
ﻣﺤﺘﺎﺝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻮﺟﯿﮩﮧ ﺗﻼﺵ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ :
Cause does not explain,cause itself is in need of an
.explanation
ﺍﻟﺮﺳﺎﻟﮧ،ﺍﮔﺴﺖ 2008
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻭﺣﯿﺪﺍﻟﺪﯾﻦ ﺧﺎﻥ