ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی حریت کانفرنس کے رہنما میرواعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق ناگزیرہے۔

حریت کانفرنس کے رہنما اور متحدہ مجلس علماء جموں وکشمیر کے امیر میرواعظ مولوی عمر فاروق نے جموں وکشمیر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو قائم رکھنے اور مسلمانوں کے سبھی فرقوں کے درمیان کلمہ وحدت کی بنیاد پر اتحاد و اتفاق کو وقت اور حالات کا ناگزیر تقاضا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے حالات میں جبکہ یہ قوم اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کے حوالے سے جاری جدوجہد میں ایک انتہائی نازک اور فیصلہ کُن مرحلے سے گزر رہی ہے ریاست میں صدیوں سے قائم ملی بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو بگاڑنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی۔

پیر کے روز مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کے ساتھ ساتھ شیعہ مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے بااثر علماء کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران میرواعظ نے کہا کہ یہ علمائے کرام ائمہ مساجد، مفتیان عظام اور دینی تنظیموں کے ذمہ داروں کی ملی اور دینی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو کلمہ وحدت میں پرونے کی ہرممکن کوشش کو بروئے کار لائیں اور یہ قوم جو بلند نصب العین کے لئے ہر روز اپنے لخت جگروں اور عزیزوں کی قربانی پیش کررہی ہے اُس کو ثمر آور بنانے کے لئے ضروری ہے کہ یہاں کے صدیوں سے قائم بھائی چارے کی فضا کو نہ صرف قائم و دائم رکھا جائے بلکہ ملی وحدت کو زک پہنچانے والے بعض ایجنسیوں کی ایما پر کام کررہے عناصر سے بھی ہوشیار رہیں۔

میرواعظ نے کہا کہ علماء اور ائمہ مساجد کا ایک فلاحی اور اتحاد و اتفاق سے مزین سماج کی تعمیر میں کلیدی رول ہے اور انہیں چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ملت کی صحیح رہنمائی کا فریضہ انجام دیں۔