شام میں امریکی اتحاد کے جنگی طیاروں کی وحشیانہ بمباری میں پانچ عام شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔


دمشق میں سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نے بتایا ہے کہ نام نہاد داعش مخالف امریکی اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے شمال مشرقی شہر حسکہ کے نواحی علاقے الصفاوی پر بمباری کی ہے۔
 اس حملے میں تین عام شہری جاں بحق اور  دو دیگر شدید زخمی ہوگئے۔
 منگل کی شام بھی امریکی اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے شام کے مشرقی شہر دیرالزور میں اس مقام پر بمباری جہاں دہشت گردی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے پناہ گزین مقیم تھے۔ اس حملے میں تیس بے گناہ شہری مارے گئے تھے۔
 پچھلے چند روز کے دوران شام کے مختلف علاقوں پر امریکی بمباری میں کم سے کم پچاس عام شہری مارے جاچکے ہیں۔

شام کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ غوطہ شرقی میں موجود دہشت گردوں کو علاقے میں کیمیاوی مواد استعمال کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے تاکہ اس طرح شامی فوج پر الزام لگایا جاسکے کہ اس نے عام شہریوں پر کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

بحرین کی شاہی حکومت کے فوجیوں نے مسلسل پچاسی ویں ہفتے مغربی مناما کے علاقے الدراز کی شیعہ جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی۔

صوت المنامہ ویب سائٹ کے مطابق ملک کی سب سے بڑی نماز جمعہ کے انعقاد سے روکے جانے بعد عوام نے الدراز کے علاقے میں شاہی حکومت کے خلاف مظاہرے کیے اور نماز کی ادائیگی پر روک لگانے کو مداخلت فی الدین قرار دیا۔مظاہرین نے شاہی حکومت کے خلاف بھی نعرے لگائے اور آل خلفیہ حکومت کے غیرانسانی اقدامات کی مذمت کی۔مظاہرین نے ملک کے بزرگ  عالم دین اور انقلابی رہنما آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی جبری نظر بندی کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔بحرین کی شاہی حکومت نے آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی شہریت منسوخ اور جون دوہزار سولہ سے انہیں ان کے گھر میں قید کر رکھا ہے۔بحرین میں فروری دوہزار گیارہ سے عوامی تحریک جاری ہے جس کا مقصد ملک پر خاندانی آمریت ختم کرکے مکمل جمہوری حکومت قائم کرنا ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ خلیج فارس اور مغربی ایشیا ہمارا گھر ہے اور اس علاقے سے ایران نہیں بلکہ امریکا کو نکلنا ہوگا۔

رہبرانقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں اپنے خطاب کے دوران منجی عالم بشریت حضرت امام مہدی موعود عج اللہ تعالی فرجہ الشریف کے یوم ولادت باسعادت کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ ماہ مبارک شعبان کے بابرکت ایام سے زیادہ سے زیادہ فیضیاب ہونے کی ضرورت ہے۔امر
رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ پندرہ شعبان المعظم دنیا کی حتمی اصلاح کے لئے خداوند عالم کے ناقابل تغییر وعدے کی نوید بخش تاریخ ہے اور یہ وہ وعدہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حضرت امام زمانہ کے دست مبارک سے ظلم و جور کا خاتم ہوگا اور دنیا میں عدل و انصاف اور اصلاحات کا قیام ہوگا۔
رہبرانقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے دوران علاقے میں امریکا کی موجودگی کی وجہ سے جاری جنگ و خونریزی اور بدامنی وبحران کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جس کو علاقے سے نکلنا ہوگا وہ اسلامی جمہوریہ ایران نہیں بلکہ امریکا ہے اور جیسا کہ چند سال قبل بھی میں نے کہا تھا مارکر بھاگ جانے کا دور اب ختم ہوگیا ہے۔

امریکہ، سعودی حکام اور بعض دوسرے ملکوں کو ایران کے خلاف اکسا رہا ہے، رہبر انقلاب اسلامی

رہبرانقلاب اسلامی نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ خلیج فارس اور مغربی ایشیا ہمارا گھر ہے لیکن تم یہاں غیر ہو اور خباثت آمیز اہداف کے حصول اور فتنہ بپا کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہو۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے مغربی ایشیا میں امریکا کی موجودگی کے نتیجے میں پائی جانے والی بدامنی اور جنگ و خونریزی کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں امریکا کے پیر توڑ کر اسے مغربی ایشیا سے نکال باہر کرنا چاہئے۔
رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایران کے آزاد اور خود مختار اسلامی جمہوری نظام کا مقابلہ کرنے کے لئے امریکا نے جو طریقے اپنا رکھے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ  بعض ناسمجھ حکومتوں کو اشتعال دلا کر علاقے میں جنگ و خونریزی کا بازار گرم کررہا ہے۔
آپ نے فرمایا کہ امریکیوں کی کوشش ہے کہ وہ سعودی حکام اور علاقے کے بعض دیگر ملکوں کو اکسا کر انہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے مقابلے میں لاکھڑا کریں لیکن اگر  یہ ممالک عقل رکھتے ہوں گے تو انہیں امریکا کے دھوکے میں نہیں آنا چاہئے۔
رہبرانقلاب اسلامی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ امریکیوں کی کوشش ہے کہ وہ ایران کی مقتدر قوم اور مضبوط و توانا اسلامی جمہوری نظام کا مقابلہ کرنے کی قیمت خود نہ چکائیں بلکہ علاقے کی بعض حکومتوں کے ذمے ڈال دیں فرمایا کہ اگر یہ حکومتیں اسلامی جمہوریہ ایران کے مقابلے پر آئیں تو یقینی طور پر انہیں کاری ضرب لگے گی اور وہ بری طرح شکست کھائیں گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہندوستان کی مختلف ریاستوں خاص طور پر ریاست بہار میں ریزرویش کے خلاف پرتشدد مظاہروں اور ہڑتال کے دوران توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے بڑے پیمانے پر واقعات پیش آئے ہیں جبکہ ریزرویش کے حامی اور مخالف گروہوں کے درمیان فائرنگ کی بھی اطلاعات ہیں۔

ہندوستان میں اونچی ذات سے تعلق رکھنے والے طبقے نے نچلی اور پسماندہ ذات سے تعلق رکھنے والوں کے لئے تعلیم اور ملازمت کے شعبوں میں کوٹہ مقرر کئے جانے کے خلاف آج پورے ملک میں عام ہڑتال کا اعلان کیا تھا-

ہندوستانی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق راجستھان سے لے کر یوپی اور بہار میں بند کا اعلان کیا گیا تھا اور ان ریاستوں کے  بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بھی بند کر دی گئی- ریاست بہار کے شہر آرا میں دو گروہوں کے درمیان زبردست فائرنگ بھی ہوئی-

ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال سمیت بعض  شہروں میں دفعہ ایک سو چوالیس لگا دی گئی- ریاست بہار کے ہی شہر گیا میں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہو گئے- اس سے پہلے دو اپریل کو ایس سی، ایس ٹی ایکٹ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نچلی ذات سے تعلق رکھنے والوں اور دلتوں نے پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے کئے تھے اور ہندوستان بند کی کال دی تھی جس میں دس سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے-

ہندوستانی وزارت داخلہ نے دس اپریل کو ہوئے ہندوستان بند اور مظاہروں کے پیش نظر پورے ملک میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے ہیں لیکن اس کے باوجود جگہ جگہ سے تشدد آمیز واقعات کی خبریں موصول ہورہی ہیں-

مولانااحمد علی بلاغی تھوینہ
تاریخچہ [نظریہ ]ولایت فقیہ
مقدمہ:ولایت فقیہ کا نظریہ اسلام میں بہت مہم نظریہ ہے۔ جب انسان اس نظریہ پرتحقیق اور بررسی کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ فقہ میں ولایت فقیہ کا نظریہ بہت اہمیت کا حامل رہا ہے ۔ اس کے باوجود  اس سلسلہ میں مختلف بیانات اور و متناقص خیالات موجود ہیں۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ واحد فقیہ جو ہمارے معاصر کا ہے اس نظریہ کو ایک سیاسی نظام کی شکل میں پیش کرنے میں کامیابی حاصل کی وہ امام خمینی ؒ تھے ۔ اب اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اس نظریہ کے موجد امام خمینی ؒ ہیں!
اس مقالہ میں اس چیز کی طرف ایک اشارہ کروں اس لئے کہ یہ موضوع بہت وسیع     ہے لہذا مفصل روشنی ڈالنے سے ہم قاصر ہیں لہذا قارئین اگر چاہیں تو اس موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں کی طرف رجوع کرسکتے ہیں ۔

مولاناعلی زمانی شلکچے
مهجوریت قرآن
مقدمہ:
قرآن کریم کے اوصاف بیان کرنے سے ہماری زبان  و قلم عاجز ہے کیوں کہ یہ خدا کا کلام ہے ,حضرت محمد مصطفی(ص) کا معجزہ اور مسلمانوں کا معنوی سرمایہ ہے اور یہ وہ کتاب ہے جس کے ذریعہ انسان جہالت اور گمراہی سے نجات پاتا ہے اور یہ انسان کو سچائی کے راستے پر ہدایت کرتی ہے۔
امام خمینیؒ فرماتے ہیں:اگر قرآن نہ ہوتا تو  معرفت الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند رہتا۔یہاں سے معلوم یہ ہوا کہ قرآن مجید معرفت الٰہی کا بہترین وسیلہ ہے ۔ قرآن علوم بشری کا اصل منبع ہے یہ وہ کتاب ہے جوانسان کو زمین سے افلاک , روح انسان کو عالم قدس اور ملکوت میں پہنچاتی ہے ۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم  نے اس ہدیہ الٰہی کو مہجوربنا  رکھا ہے اور اس سے کما حقّہ کسب فیض نہیں کررہے ہیں۔

مولانامحمد علی عارفی فرونہ
ھادی کون؟
اس دنیا میں جو چیز انسانوں کے لئے ضروری ہے وہ ہدایت ہے ۔ یعنی انسان کو صحیح راستہ کی شناخت ہو۔ چونکہ خدا نے اس نظام کائنات کو جب بنایا تو اس نظام پر عمل کرنے کے لئے قانون بھی بنایا ہےپھر قانون کو بتانے والا ، بیان کرنے والے کا بھی انتظام کیا ہے۔اب یہاںسوال یہ ہے کہ ہادی کون ہے اور اس کے صفات کیاہیں؟
ہم اس مختصر سے نوشتہ میں ان ہادیان دین کے کچھ صفات بیان کرتے ہیں جن کے قلب ایمان کے نور و حرارت سے روشن تھے جنہوں نے راہ توحید کے مخالفین کی سخت مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے میدان عمل میں آکر ہمیں ہر محاذ پر ثابت قدمی کا درس دے گئے ۔

مولانامحسن علی چھانی گھنڈ
حکومت علی (علیه السلام )فتنہ کی آغوش میں
مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِی الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا[مائدہ ۳۲]
جامعہ اور معاشرہ میں فساد اور فتنہ کی آگ کو بھٹکانے والے افراد کو قرآن نے اس شخص کے معادل قرار دیا ہے جس نے پوری انسانیت اور بشریت کو قتل کردیا ہو۔
کیونکہ کہ جب بھی فتنہ کی آگ روشن ہوتی ہے تو وہ چند افراد تک منحصر نہیں رہتی بلکہ آیندہ آنے والی نسلوں پر بھی سرایت کرجاتی ہے اور ان کو راہ حق و حقیقت سے منحرف کردیتی ہے جس تیز رفتار سے کینسرکی بیماری انسان کے اعضاء اور جوارح میں پھیلتی ہےبالکل اسی طرح فتنہ کے جان لیوا جراثیم جامعہ کی رگوں میں سرایت کرکے معاشرے کو بے جان و بے حس کردیتے ہیں