گذشتہ ادوار میں ایران کی سیاسی تاریخ اورسیاسی تبدیلیاں اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ ایران میں ہمیشہ ایک متحدہ اور پایدار سیاسی ڈھانچہ نہیں تھا؛ تاریخی دستاویزات اس کی گواہ ہیں کہ اگر ایران میں ایک حکومت گرتی رہی ہے تو دوسری حکومت کے وجود میں آنے تک وہ اندرونی انتشار اور ہرج و مرج کا شکار رہتا  ،اور اکثر حکومتوں کا یہ عروج و زوال کسی بھی قانون کے تحت نہیں  رہا ہے ، نیز  ان حکومتوں کے جابرانہ سلوک اور عوام کی حمایت ان کو حاصل نہ ہونے کی وجہ سے کبھی بھی ان کو خطرے ،سقوط اور کمزوری کے وقت عوام کی حمایت حاصل نہیں رہی اور کبھی اس سرزمین میں کوئی خود جوش حرکت ابھرتی بھی رہی تو اس کی بنیاد قومی ثقافت اور عقاید پر استوار ہوتی رہی  اور اس میں بھی حالیہ ایک دو صدیوں میں شدت آ گئی ،جونہ صرف نابودی کے دہانے پر کھڑی کسی حکومت کی حمایت میں نہیں  !  بلکہ مثال کے طور پر قاجاریوں کی حکومت کو بدل کر پہلوی حکومت لانے میں لوگوں کا ہلکا سا بھی عمل دخل نہیں تھا ،یہاں تک کہ لوگ پہلویوں کو قاجاریوں کے ظلم و استبداد سے نجات دلانے کا ذریعہ سمجھتے تھے دھیرے دھیرے جب پہلویوں کی ماہیت اور حقیقت لوگوں کے سامنے آئی تو لوگ اس حکومت سے بھی روگردان ہو گئے اور اگر کچھ عرصے کے لیے ہم نے عالمی جنگ میں پہلی پہلوی حکومت کے زوال کو دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ لوگوں نے اس  حکومت کے زوال کی حمایت نہیں کی تو اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ ملت اس استبدادی حکومت سے کوئی تعلق نہیں رکھتی تھی ؛اور اگر متفقین کے ذریعے ایران پر قبضے کے دوران اس قبضے کے خلاف جد و جہد عمل میں آئی بھی تو وہ بھی ان طوائف اور قبایل کی طرف سے تھی کہ جو ایران کے نوزاد نیشنلزم سے متائثر تھے ۔

جب حکومتوں کو خطرہ در پیش ہوتا تھا اور لوگ ان کی حمایت نہیں کرتے تھے تو بدلے میں حکومتیں بھی عوام کو اقتدار میں حصہ نہیں دیتی تھیں اور ان کی کوئی  پرواہ نہیں کرتی تھیں ۔ لیکن قاجاریوں کے دور کے بعد حکوت صفویوں کی طرح شیعہ علماء کو سیاسی معاملات میں شامل کرنے پر مجبور ہوئی اور اکثر اندرونی اور بیرونی مشکلات کے موقعے پر  علماء کے نفوذ سے  حکومتیں فائدہ اٹھاتی تھیں مثال کے طور پر قاجاریوں کے زمانے میں جب ایران کو روس سے شکست ہوئی تو جہاد کے عنوان سے رسالے لکھ کر علماء نے لوگوں کو قاجاریوں کی حکومت کا ساتھ دینے پر اکسایا ۔

پہلوی حکومت کے دور میں ان کی استبدادی ماہیت میں دن بدن اضافے اور زندیہ اور صفویہ کے دور کی طرح مغربیوں کا نفوذ بڑھنے کی وجہ سے علماء اس حکومت سے دور ہو گئے اور ہمیشہ اس پر تنقید کرنے لگے بلکہ علماء اس فکر میں تھے کہ اپنے معنوی اور روحانی نفوذ سے استفادہ کرتے ہوئے  پہلوی حکومت کا قرب حاصل کرنے کے بجائے یہ فکر ان کے اندر شدت پکڑنے لگی کہ اسلامی دستورات کی بنیاد ایک عوامی حکومت تشکیل دینے کے لیے جدو جہد کی جائے ،اور شیعیت میں مرجعیت کا جو اثر و نفوذ ہے اس کو استعمال کر کے اور شیعہ فقہاء کے درمیان آراء کے تبادلے کو موثر بنا کر ایک ایسا اتحاد وجود میں لایا جائے کہ جو اس بات کا قایل ہو کہ دین سیاست میں دخیل ہے اور پھر ان میں سے کچھ علماء جو استبدای حکومت کے خلاف تھے امام خمینی (رہ ) کی رہبری میں ایک ایسی تحریک چلانے میں کامیاب ہوئے کہ عوام نے جس کو ہاتھوں ہاتھ لیا ،اور ایک ایسی بھرپور دینی عوامی تحریک وجود میں آئی کہ جس کا محور استبداد کی مخالفت میں شیعیت کی سیاسی فقہ تھی کہ جس نے آخر کار اپنے دور کے سب سے برجستہ فقیہ امام خمینی (رہ) کی رہبری میں پہلوی استبدادی حکومت کی بساط الٹ کر اسلامی انقلاب برپا کرکے اسلامی حکومت کو دینی تعلیمات کی بنیاد پر قائم کر لیا ۔

انقلابی شوق و نشاط کو بڑھانا نظام کے فکری مھہندسوں اور مبلغوں کی ذمہ داری

موجودہ حالات میں اسلامی انقلاب کی تکوین و تعریف اور انقلابی شوق و نشاط میں اضافہ کرنا نظام اور حکومت کے فکری انجینئروں اور مبلغوں کی ذمہ داری ہے  کہ جمہوری اسلامی کے مقدس نظام کے اصلی مقصد کا لحاظ کریں اور ایران میں سال 1979 ء مطابق  1359 ہجری شمسی کے اسلامی انقلاب کے اصول کی پاسداری کریں کہ جو اکثریت کو جذب کرنا ہیں اور تمام تھیوریوں اور نظریوں میں اور اجتماعی اور ثقافتی ترقی کے تمام منصوبوں میں اس کا لحاظ رکھا جائے ۔

اسلامی انقلاب کا وقوع اور عوامی جمہوری اسلامی کی تشکیل استبداد زدہ ایران میں نوزاد عوامی حکومت کے ایک جدید تجربے کو  امتحانوں اور خطاوں سے گذرنا ضروری تھا  کہ جو آج بھی آزمائش اور اصلاح کے دور سے گذر رہا ہے ،اور یہ تجربہ جو نسبتا کامیاب تجربہ  ہے جو وحدت طلبانہ انسانی اصول کی پابندی کی جانب مایل ہونے کے ساتھ  ،اور آزادی و استقلال کے  اصول کی منطقی تعریف  کے ساتھ اس کوشش میں ہےکہ قومی ارادے کی بنیاد پر استوار نو زاد حکومت کی بنیادوں کو مضبوط کرے اور ایک آئیڈیل اور آرزووں کو پورا کرنے والی حکومت کی تشکیل میں مدد گار ہو لیکن اس راہ پر چلنے میں حکومت اور ملت کو کافی سارے پیچ و خم سے گذرنا پڑ سکتا ہے اور یقینا اس مقصد تک پہنچنا دشوار ضرور ہے مگر روشن مستقبل کا آئنہ دار ہو گا ۔

انقلاب اسلامی ایران تمام آزادی پسند ملتوں کے لیے نمونہء راہ ہے

سیاسی اور اجتماعی علوم کے بہت سارے روشن فکر افراد اور مفکروں کا ماننا ہے کہ انقلاب اسلامی ایران مسلمانوں کو آگاہی دینے اور اسلامی معاشروں کے اندر موئثر اسلامی تگ و دو میں اضافہ کرنے میں ایک موئثر عامل رہا ہے ۔اسلامی انقلاب ایک ایسی کوشش ہے جس کا مقصد انسانی حیات کے محور پر تعلیمات کو زندہ کرنا اور قومی ،ملی اور مذہبی مباحث سے اوپر اٹھ کر زندگی کی روش کو اجاگر کرنا ہے ۔دوسرے لفظوں میں اسلامی انقلاب ان انقلابات میں  سے ہے کہ جس کی حرکت اور جس کے آثار کسی ملک کی سرحد کے اندر محدود نہیں بلکہ اس کے نظریات قومی سطح سے اوپر اٹھ کر ہیں ، اسی لیے اس کی فطرت میں پھیلنا ہے۔لہذا وہ تمام آزاد قوموں کے لیے نمونہء عمل بن سکتا ہے ۔ایک انقلاب آنے سے کسی ملک اور معاشرے کے انسانی ۔ اجتماعی روابط میں ایک عجیب رد و بدل رونما ہوتا ہے اور وہ اس ملک  کے تازہ تاریخی عمل میں قدم رکھنے کا راستہ ہموار کرتا ہے ۔ حقیقت میں  انقلاب کی وجہ ایک بیمار  اور بحران زدہ معاشرہ ہوتا ہےجو عالم سیاست پر منفی  اور تباہی کے اثرات چھوڑتا ہے ،لیکن اس سکے کا دوسرا رخ اس انقلاب کے مثبت پہلو کو دیکھنا ہے ۔ ایک بیمار معاشرے میں انقلاب اس کی بیماری کو دور کرنے اور اسے پستی کے خطرے سے بچانے کے لیے آتا ہے دوسرے لفظوں میں ،انقلاب انسانی معاشروں کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جو آشکارا طور پر معاشرے کو پہلے اور بعد کے دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے ۔ان تبدیلیوں اور واقعات کی تائثیر کہ جو انقلاب سے وجود میں آتی ہیں غیر متوقع اور اتنی گہری ہوتی ہے کہ جس کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور وہ دیر سے رونما ہوتی ہے ۔ انقلاب کا کام ایک الگ انسانی ڈھانچے اور اجتماع کی بنیاد رکھنا ہے ،اور یہ دگر گونی اس وقت تک ممکن نہیں ہے کہ جب تک پورے معاشرے یا اس کے کچھ حصے میں گہری فکری اور ثقافتی تبدیلی نہ آ جائے ،کہ جس کے بعد معاشرے کی اجتماعی تنظیم کے اندر اور اس کے جذبات میں دوسری تبدیلیاں بھی رو نما ہوں گی ۔

انقلاب ایران ایک جہادی تحریک تھی جس کا مقصد مغربی ثقافت کو بدلنا تھا

ملت ایران کی انقلابی حرکت ایک جہادی تحریک تھی جس کا مقصد مغرب کی ثقافتی اور فکری روشوں کو بدلنا تھا اور جس کی کوشش ہے کہ ایک ایسا نظام وجود میں لائے جو ایران اسلام کی تمدنی اور ثقافتی خواہش کے مطابق ہو ۔اس لیے کہ صدیوں سے ملت ایران کی ثقافتی اور تاریخی ماہیت دینی افکار پر استوار رہی ہے اور دین ایران کی اجتماعی زندگی میں ہمیشہ سے رہا ہے ۔ایسے افکار کی ترویج کہ جن میں دین کو نظر انداز کیا گیا تھا گہرے فکری بحران کا باعث بنی کہ جس کے بعد کے جھٹکوں نے تمام سیاسی ،ثقافتی اور اقتصادی میدانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔اس غیر دینی حرکت کے مقابلے میں  اجتماعی حرکت نے کوشش کی کہ اس نئے بحران کا مناسب جواب دے سکے ،لہذا انقلاب کا اہم ترین مقصد دین کا احیا اور دینی اور ملی ہویت پر مبنی ایک دلچسپ نمونہ پیش کرنا بن گیا ۔

آخر میں یہ بتا دیں کہ اس انقلاب اور اس کی بنیادوں کی گہری شناخت  وہ بھی خاص کر انقلاب کی بعد کی نسلوں کے لیےمتعدد جہات سے ضروری ہے ۔اس بنا پر اس موضوع کی اہمیت جوان تعلیم یافتہ نسل کے لیے کہ سوال پوچھنا اور آرزوئیں رکھنا جن کی خصوصیت ہے اور علمی ،ثقافتی اور سیاسی معاشرے کی پاسداری ان کی ذمہ داری ہے ، زیادہ قابل درک ہے ؛اس لیے کہ موجودہ حالت کی شناخت اور ملک کے حال اور مستقبل میں اجتماعی اور سیاسی ذمہ داریوں کو پورا کرنا  انقلاب اور اس پر اثر انداز ہونے والے عوامل کی آگاہی اور تحقیق پر مبنی تحلیل کی پناہ میں ہی امکان پذیر ہے ۔

مغربی ملکوں کے نوجوانوں کے نام خط؛ ناگوار واقعات سے سبق لیکر اچھے مستقبل کی تعمیر کی دعوت

آپ نے اسرائیل کی سرکاری دہشت گردی کی پشت پناہی اور عالم اسلام پر حالیہ برسوں میں کی جانے والی تباہ کن لشکر کشی کا حوالہ دیتے ہوئے مغربی نوجوانوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ میں آپ نوجوانوں سے چاہتا ہوں کہ صحیح شناخت اور گہرے تدبر کے ساتھ اور ناگوار تجربات سے سبق لیتے ہوئے عالم اسلام کے ساتھ باعزت اور صحیح رشتوں کی بنیاد رکھئے۔ رہبر انقلاب اسلامی کے خط کا اردو ترجمہ ملاحظہ فرمائيے؛

بِسْمِ ٱللَّـهِ ٱلرَّحْمَـنِ ٱلرَّحِيمِ

مغربی ملکوں کے تمام نوجوانوں کے نام

اندھی دہشت گردی نے فرانس میں جو تلخ سانحے رقم کئے، ان سانحوں نے مجھے ایک بار پھر آپ نوجوانوں سے گفتگو پر مجبور کر دیا۔ میرے لئے یہ افسوس کا مقام ہے کہ گفتگو کی وجہ اس طرح کے واقعات بنیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر دردناک مسائل، چارہ جوئی کی زمین اور ہم خیالی کا میدان فراہم نہ کریں تو دگنا نقصان ہوگا۔ دنیا میں کسی بھی جگہ پر کسی بھی انسان کا رنج و الم اپنے آپ میں تمام نوع انسانی کے لئے اندوہناک ہوتا ہے۔ وہ منظر کہ بچہ اپنے عزیزوں کے سامنے دم توڑ دیتا ہے، ایک ماں جس کے خاندان کی خوشی سوگ میں تبدیل ہو جاتی ہے، ایک شوہر اپنی بیوی کا بے جان جسم اٹھائے کسی سمت بھاگ رہا ہے، یا وہ تماشائی کہ جسے نہیں معلوم کہ چند لمحے بعد اپنی زندگی کا آخری سین دیکھنے جا رہا ہے۔ یہ ایسے مناظر نہیں ہیں جو دیکھنے والے کے احساسات و جذبات کو جھنجھوڑ نہ دیں۔ جس کے اندر بھی محبت و انسانیت کی کوئی رمق ہے، یہ مناظر دیکھ کر متاثر اور رنجیدہ ہوگا؛ خواہ وہ فرانس میں رونما ہوں یا فلسطین و عراق و لبنان و شام میں۔ یقینا ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے یہی احساسات ہیں اور وہ ان المیوں کو انجام دینے والوں اور ذمہ داروں سے بیزار اور متنفر ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر آج کے یہ رنج و الم بہتر اور زیادہ محفوظ مستقبل کی تعمیر کی بنیاد نہ بنیں تو ان کی حیثییت تلخ و بے ثمر یادوں تک محدود ہوکر رہ جائے گی۔ یہ میرا نظریہ ہے کہ صرف آپ نوجوان ہی آج کے ناموافق تغیرات سے سبق لیکر مستقبل کی تعمیر کی نئی راہیں تلاش کرنے اور اس انحرافی پیش قدمی کو روکنے پر قادر ہوں گے جس نے مغرب کو آج اس مقام پر پہنچا دیا ہے۔
یہ صحیح ہے کہ دہشت گردی آج ہمارا اور آپ کا مشترکہ درد ہے۔ لیکن آپ کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ جس بد امنی اور اضطراب کا سامنا آپ نے حالیہ سانحے میں کیا، اور اس رنج و الم میں جسے عراق، یمن، شام اور افغانستان کے عوام برسوں سے جھیل رہے ہیں، دو بنیادی فرق پائے جاتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ عالم اسلام حدود کے اعتبار سے کئی گنا زیادہ وسیع علاقے میں، اس سے کئی گنا زیادہ حجم کے ساتھ اور بہت زیادہ طولانی مدت کے دوران تشدد اور دہشت کی بھینٹ چڑھتا رہا ہے۔ دوسرے یہ کہ بد قسمتی سے اس تشدد کی ہمیشہ بعض بڑی طاقتوں کی طرف سے گوناگوں روشوں سے اور بہت موثر انداز میں حمایت کی جاتی رہی ہے۔ آج شاید ہی کوئی شخص ہو جسے القاعدہ، طالبان اور اس منحوس سلسلے کی کڑیوں کی تشکیل، انھیں تقویت پہنچانے اور اسلحہ فراہم کرنے میں ریاستہائے متحدہ امریکا کے کردار کا علم نہ ہو۔ اس براہ راست پشت پناہی کے ساتھ ساتھ، تکفیری دہشت گردی کے جانے پہچانے اور اعلانیہ حامی پسماندہ ترین سیاسی نظام رکھنے کے باوجود، ہمیشہ مغرب کے اتحادیوں کی صف میں شامل رہے ہیں، جبکہ علاقے میں پنپتی جمہوریت سے نکلنے والے روشن ترین اور پیشرفتہ ترین نظریات کی بے رحمی سے سرکوبی کی گئی ہے۔ عالم اسلام میں بیداری کی تحریک کے ساتھ مغرب کا دوہرا رویہ مغربی پالیسیوں کے تضاد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اس تضاد کا ایک اور روپ اسرائیل کی سرکاری دہشت گردی ہے۔ فلسطین کے ستم دیدہ عوام ساٹھ سال سے زیادہ عرصے سے بدترین قسم کی دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر آج یورپ کے عوام چند روز اپنے گھروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں اور پرہجوم مقامات پر جانے سے اجتناب کر رہے ہیں تو فلسطینی خاندان دسیوں سال سے حتی خود اپنے گھر میں بھی صیہونی حکومت کی انہدامی اور قتل و غارت کی مشین سے محفوظ نہیں ہیں۔ آج تشدد کی کون سی ایسی قسم ہے کہ قسی القلبی کے اعتبار سے جس کا موازنہ صیہونی حکومت کی کالونیوں کی تعمیر سے کیا جا سکتا ہے؟ یہ حکومت اپنے بااثر حامیوں یا ظاہری طور پر خود مختار نظر آنے والے بین الاقوامی اداروں کی طرف سے کسی طرح کی سنجیدہ اور موثر سرزنش کا سامنا کئے بغیر، روزانہ فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرتی ہے، ان کے باغات اور کھیتیوں کو نابود کرتی ہے، یہاں تک کہ انھیں اسباب زندگی کو کہیں منتقل کرنے یا کھیتوں کی فصلیں کاٹنے تک کی مہلت نہیں دیتی۔ یہ سب کچھ عام طور پر عورتوں اور بچوں کی آشکبار آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے، جو اپنے افراد خاندان کو زد و کوب ہوتے اور بعض اوقات عقوبت خانوں میں منتقل ہوتے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ کیا آج کی دنیا میں آپ اتنے وسیع پیمانے پر، اس حجم کے ساتھ اور اس تسلسل کے ساتھ انجام پانے والی کسی اور قسی القلبی سے واقف ہیں؟ سر سے پاؤں تک مسلح فوجی کے سامنے صرف اعتراض کر دینے کے جرم میں بیچ سڑک پر ایک خاتون کو گولیوں سے بھون دینا اگر دہشت گردی نہیں تو کیا ہے؟ یہ بربریت چونکہ ایک غاصب حکومت کے فوجی انجام دے رہے ہیں تو کیا اسے انتہا پسندی نہیں کہنا چاہئے؟ یا صرف اس بنا پر کہ یہ تصاویر ساٹھ سال سے ٹی وی کے اسکرینوں پر بار بار نظر آتی رہی ہیں، ہمارے ضمیروں کو نہ جھنجوڑیں!
حالیہ برسوں میں عالم اسلام پر لشکر کشی کہ جس میں بے شمار جانیں تلف ہوئیں، مغرب کی تضاد آمیز روش کا ایک اور نمونہ ہے۔ حملے کا نشانہ بننے والے ممالک نے جانی نقصانات اٹھائے، اس کے علاوہ ان کا اقتصادی و صنعتی انفراسٹرکچر ختم ہو گیا ہے، نمو و ترقی کی جانب ان کی پیش قدمی کا عمل کند ہو گیا ہے، بعض معاملات میں وہ دسیوں سال پیچھے چلے گئے ہیں۔ اس کے باوجود گستاخی کے ساتھ ان سے کہا جاتا ہے کہ خود کو مظلوم نہ سمجھیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی ملک کو ویرانے میں تبدیل کر دیا جائے، اس کے شہروں اور قریوں کو راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا جائے اور پھر اس سے کہا جائے کہ براہ مہربانی آپ خود کو ستم دیدہ نہ مانئے! سانحوں کو بھول جانے اور انھیں نہ سمجھنے کی دعوت دینے کے بجائے کیا سچائی سے معذرت کر لینا زیادہ بہتر نہیں ہے؟ ان برسوں کے دوران عالم اسلام کو حملہ آوروں کے دوہرے روئے اور مصنوعی چہروں سے جو رنج پہنچا ہے وہ مادی خسارے سے کم نہیں ہے۔
عزیز نوجوانو! میں امید کرتا ہوں کہ آپ اسی وقت یا مستقبل میں فریب سے آلودہ اس ذہنیت کو تبدیل کریں گے، اس ذہنیت کو جس کا ہنر دراز مدتی اہداف کو پنہاں رکھنا اور موذیانہ اغراض و مقاصد پر ملمع چڑھا دینا ہے۔ میری نظر میں سلامتی و آسودگی قائم کرنے کے سلسلے میں پہلا مرحلہ اس تشدد انگیز فکر کی اصلاح کرنا ہے۔ جب تک مغرب کی سیاست پر دوہرے معیار حکمفرما رہیں گے، جب تک دہشت گردی کو اس کے حامی اچھی اور بری قسموں میں تقسیم کرتے رہیں گے اور جب تک حکومتوں کے مفادات کو انسانی و اخلاقی اقدار پر ترجیح دی جاتی رہے گی، اس وقت تک تشدد کی جڑوں کو کہیں اور تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ یہ جڑیں برسوں کی اس مدت میں بتدریج مغرب کی ثقافتی پالیسیوں کی گہرائیوں تک پھیل گئی ہیں اور ایک خاموش اور نامحسوس یلغار کا راستہ ہموار ہوا ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک اپنی ملی و مقامی ثقافت پر ناز کرتے ہیں، ان ثقافتوں پر جو بالیدگی و نمو کے عالم میں سیکڑوں سال سے انسانی معاشروں کو بنحو احسن سیراب کرتی آئی ہیں۔ عالم اسلام بھی اس سے مستثنی نہیں ہے۔ لیکن دور حاضر میں مغربی دنیا پیشرفتہ وسائل کی مدد سے دنیا کی ثقافتوں کو ایک جیسا بنا دینے پر بضد ہے۔ میں دیگر اقوام پر مغرب کی ثقافت مسلط کئے جانے اور خود مختار ثقافتوں کو پست قرار دئے جانے کو ایک خاموش اور انتہائی زیاں بار تشدد مانتا ہوں۔ غنی ثقافتوں کی تحقیر اور ان کے محترم ترین پہلوؤں کی توہین ایسے عالم میں کی جا رہی ہے کہ اس کی جگہ لینے والی ثقافت میں ہرگز جانشینی کی لیاقت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر دو عناصر 'جارحانہ رویہ' اور 'اخلاقی بے راہروی' نے جو بد قسمتی سے مغربی ثقافت کے بنیادی پہلو بن چکے ہیں، اس کی مقبولیت اور پوزیشن کو خود وہاں تنزل سے دوچار کر دیا ہے جہاں یہ وجود میں آئی۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر ہم روحانیت سے گریزاں، تشدد پسند اور فحاشی کی ثقافت کو قبول نہ کریں تو کیا ہم گنہگار ہیں؟ اگر ہم اس تباہ کن سیلاب کا راستہ روک دیں جو نام نہاد آرٹ کی گوناگوں شکلوں میں ہمارے نوجوانوں کی طرف روانہ کیا جاتا ہے تو کیا ہم نے جرم کیا ہے؟ میں ثقافتی رشتوں کی قدر و قیمت کا منکر نہیں ہوں۔ یہ رشتے جب بھی فطری حالات میں اور میزبان معاشرے کے احترام کے ساتھ قائم ہوئے ہیں، ان سے نمو، بالیدگی اور بے نیازی ملی ہے۔ اس کے برخلاف ناہموار اور مسلط کردہ رشتے ناکام اور ضرر رساں ثابت ہوئے ہیں۔ نہایت افسوس کے ساتھ مجھے کہنا پڑتا ہے کہ داعش جیسے پست گروہ امپورٹڈ ثقافتوں سے انھیں ناکام رشتوں کی پیداوار ہیں۔ اگر خرابی عقیدے میں ہوتی تو استعماری دور سے پہلے بھی عالم اسلام میں ایسے گروہ نمودار ہوتے۔ جبکہ تاریخ اس کے برخلاف گواہی دیتی ہے۔ مسلمہ تاریخی حقائق سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ کس طرح ایک بادیہ نشین قبیلے کے اندر موجود انتہا پسندانہ اور رد کر دئے گئے نظرئے سے استعمار کے ملاپ نے اس علاقے میں انتہا پسندی کا بیج بو دیا؟! ورنہ کیونکر ممکن ہے کہ دنیا کے اخلاقی ترین اور انسان دوست ترین مکتب فکر سے جس کے بنیادی متن میں ایک انسان کی جان لینے کو تمام بشریت کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہو، داعش جیسا کوڑا باہر آئے؟
دوسری جانب یہ سوال بھی کرنا چاہئے کہ وہ لوگ جو یورپ میں پیدا ہوئے اور اسی ماحول میں فکری و نفسیاتی پرورش پائی، اس قسم کے گروہوں کی جانب کیوں مائل ہو رہے ہیں؟ کیا یہ تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ کچھ افراد جنگ زدہ علاقوں کا ایک دو سفر کرکے یکبارگی اتنے انتہا پسند بن جائیں کہ اپنے ہی ہم وطنوں پر گولیوں کی بوچھار کر دیں؟ تشدد سے پیدا ہوئے آلودہ ماحول میں پوری عمر فاسد ثقافتی تغذیہ کی تاثیر کو ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ اس سلسلے میں جامع تجزیہ کرنا چاہئے، ایسا تجزیہ جو سماج کی پنہاں اور نمایاں آلودگیوں کا احاطہ کرے۔ شاید صنعتی و اقتصادی ترقی کے برسوں میں عدم مساوات اور بعض اوقات قانونی و ساختیاتی تفریق کے نتیجے میں مغربی سماجوں کے کچھ طبقات کے اندر بوئی گئی گہری نفرت نے ایسی گرہیں ایجاد کر دی ہیں جو وقفے وقفے سے اس بیمار شکل میں کھلتی ہیں۔
بہرحال آپ ہی کو اپنے سماج کی ظاہری پرتوں کو شگافتہ کرکے گرہوں اور کینوں کو تلاش اور ختم کرنا ہے۔ خلیج کو اور گہرا کرنے کے بجائے اسے پاٹنا چاہئے۔ دہشت گردی سے مقابلے میں سب سے بڑی غلطی عجلت پسندانہ رد عمل ہے جو موجودہ فاصلوں کو اور بڑھاتا ہے۔ ہیجان اور جلدبازی میں کیا جانے والا ہر اقدام جو یورپ اور امریکا میں سکونت پذیر مسلم برادری کو جس میں دسیوں لاکھ فعال اور ذمہ دار انسان شامل ہیں، الگ تھلگ، ہراساں اور مضطرب کرے، ماضی سے بھی زیادہ انھیں ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرے اور سماج کے اصلی دھارے سے دور کر دے، وہ نہ صرف یہ کہ مشکل کا حل نہیں ہے بلکہ فاصلوں میں مزید گہرائی اور کدورتوں میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔ سطحی اور انتقامی تدابیر، بالخصوص اگر اسے قانونی جواز بھی دے دیا جائے، کا نتیجہ موجودہ پولرائیزیشن میں مزید اضافے اور مستقبل کے بحرانوں کا راستہ ہموار ہونے کے علاوہ کچھ نہیں نکلے گا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق بعض یورپی ممالک میں ایسے قانون وضع کئے گئے ہیں کہ جو شہرویوں کو مسلمانوں کی جاسوسی کی ترغیب دلاتے ہیں۔ یہ برتاؤ ظالمانہ ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ ظلم لا محالہ (خود ظالم کی طرف) پلٹ کر آنے کی خاصیت رکھتا ہے۔ دوسرے یہ کہ مسلمان اس ناقدری کے مستحق نہیں ہیں۔ مغربی دنیا صدیوں سے مسلمانوں کو بخوبی پہچانتی ہے۔ اس دور میں بھی جب اہل مغرب اسلامی سرزمین میں مہمان بن کر آئے اور صاحب خانہ کی دولت پر ان کی نگاہیں گڑ گئیں اور اس دور میں بھی جب وہ میزبان تھے اور انھوں نے مسلمانوں کی فکر و عمل سے استفادہ کیا، اکثر انھوں نے مہربانی اور رواداری کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا ہے۔ بنابریں میں آپ نوجوانوں سے گزارش کرتا ہوں کہ ایک صحیح شناخت اور گہرے ادراک کی بنیاد پر اور ناگوار تجربات سے سبق لیتے ہوئے عالم اسلام کے ساتھ صحیح اور باعزت رشتے کی داغ بیل رکھئے۔ ایسا ہوا تو وہ دن دور نہیں جب آپ دیکھیں گے کہ اس 'نتیجے' کی بنیاد پر تعمیر کی گئی عمارت اپنے معماروں کے سروں پر اعتماد و اطمینان کا سایہ کئے ہوئے ہے، انھیں تحفظ اور آسودگی کی حرارت عطا کر رہی ہے اور روئے زمین پر تابناک مستقبل کی امیدوں کی روشنی بکھیر رہی ہے۔
سید علی خامنه‌ای
۸ آذر ۱۳۹۴ (ہجری شمسی مطابق 29 نومبر 2015

ذیلی زمرے