بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت معصومہ علیہاالسلام کا ایران تشریف آوری کا راز

مقدمہ  :

مورخین اور تاریخ نگاروں نے حضرت معصومہ علیہاالسلام  کی ایران تشریف آ وری کے راز کے حوالے سے  بہت سارے  عوامل ذکر کئے  ہیں ۔ہم  پہلے ایک پس منظر علویوں کی ہجرت کے سلسلے میں ذکر کرتے ہیں ۔بعض  مورخین کا کہنا ہے کہ ایرانی قوم کا آل علی علیہ السلام سے محبت و مود ت کرناسبب بنا کہ خاندان اھل  بیت اور انکے چاہنے والے ایران کی جانب سفرکریں[1]۔بعص کا کہنا ہے کہ جب پیامبر گرامی اسلام کے خاندان والوں  کے لئے مدینہ میں زندگی گزارنادشوار ہوگیاتو انھوں نےآسایش و آرام کیلئے دوسرے ممالک اورشھروں  میں ہجرت کرنا شروع کردی  [2]۔بعص کا کہنا ہے کہ جب ایران کے لوگوں نے امام علی علیہ السلام کی ولایت کا اقرار کرتےہوئے  انکے خاندان والوں سے محبت کا اظہارکیا کرتے تھے اور ولایت کے پرچار کیلئے تمام ترکوششیں  کیں اور اس راہ میں جان ومال کی قربانی بھی منظور تھی اس لئے علویوں نے اپنی جان کی حفاظت کے خاطر ایران کا رخ کیا تھا [3]۔

ہجرت کے راز:

حضرت معصومہ  ؑ بھی دوسرے علویوں کی طرح سوچےسمجھے منصوبہ کے تحت مدینے سے ایران تشریف لائیں تھیں  بعص کہتے ہیں کہ چونکہ امام رضا علیہ السلام اور حضرت معصومہ دونوں  کی مادر گرامی ایک تھی اور ان دونوں میں محبت تھی اس لئے بھائی کی محبت ان کو ایران کھینچ کرلائی ۔اسلام میں محبت وعاطفیت  کا موٖضوع  ایک مھم موضوع ہے اس کے باوجودبھی ،میرے خیال میں  حضرت معصومہ ؑ کی ہجرت کو صرف ایک عاطفی اور احساسی ہجرت تلقی کرنا مناسب نہیں ہے بلکہ انکی ہجرت قرآن اور احادیث  کی روشنی میں اسلامی تعلیمات اور تفکرات کو عام کرنے کےلئے بھی تھی اور اس دور کے جابر اور ظالم حکمرانوں کے خلاف ایک عظیم کارنامہ تھا اور خاندان علوی کی بقا ءبھی اسی ہجرت کا مرہون منت ہے اوراس  طرح بہت سارے عوامل  موجودہیں۔

’تاریخ مذھبی قم ‘کے مصنف نے علویوں کے ایران آنے کے  تین رازذکر کئے ہیں ۔

[۱] سرزمین قم امام علی علیہ السلام کے چاہنے والوں کی بستی تھی اور خاندان امام علی علیہ السلام کے لئے امن وامان کا مقام تھا  درحالیکہ وہ  دوسرے شہروں میں مشکلات اور سختیوں سے  روبرو تھےاس دورمیں حالات اتنے خراب تھے کہ انکے خون بہانے  کا امکان تھا اس لئے انہوں نے ایران کی جانب ہجرت کی ۔

[۲]سرزمین قم کومعصومین علیہم السلام  نے   پناہگاہ آل محمد علیہم السلام [4]سے یا د کیا ہے اور اس راز سے علوی لوگ  اور قم والے باخبر تھے ۔اس لئے علویوں نے قم  کی طرف سفرکیااور قم کو اپنا مسکن و ماوی بنایا۔

[۳] علوی خاندان دوسری اور تیسری قرن میں بنی امیہ اور بنی عباس کے خلفا ءکے شکنجے کا شکار تھا ۔بعض خلفا ءجیسے منصور دوانقی اور متوکل نے خاندان امام علی علیہ السلام کے ساتھ دشمنی کی انتہا کردی تھی اس بناءپر جب مولا علی علیہ السلام کے خاندان والوں کو فرصت ملتی تھی تو وہ ہجرت کرتے تھے اور موقع ملنے پر خلفا ءسے جنگ کرلیا کرتے تھے کہ  جس میں کبھی کامیاب ہوتے اور کبھی شکست کا سامنے ہوتا تھا[5]۔

حضرت معصومہ علیھاالسلام کی ایران تشریف آوری کے بہت سارے راز ہیں جن میں بعض کا ہم تذکرہ کرتے ہیں ۔

(۱)عقیدہ  کی مضبوطی:

جس چیز کی انسان پر حکومت ہوتی ہے وہ اسی فکرو عقیدہ کی ہوتی ہےاس لئے  ایران کے لوگوں نے توحید کی  آواز اور نبوت کا پیغام سنا تو اس پر لبیک کہتے ہوئے اور جوق در جوق اسلام میں  داخل ہوئے ۔اور اسلام کی سربلندی کے لئے  دشمنوں کے ساتھ جنگیں کی  ۔ان کا عقیدہ اتنا مضبوط تھا کہ  اس کے لئے اپنی جان و مال نثار کرنے کے کئے تیار تھے  جب علوی خاندان  کو انکی محبت کا اندازہ ہو ا تو ایران کی طرف روانہ ہوئے اور ایران کو سکونت کے لئے انتخاب کیا ۔

(۲) ایران کی تاریخ  اور آب و ہوا:

ایران اور سرزمین قم کی اپنی ایک خاص تاریخ ہے قدیم ایام سے چلا آرہا ہے جو عبرتوں اور حوادث سے پر ہیں  اور فضائل شہر مقدس قم کے بارے میں بہت سی  روایتیں بھی موجود ہیں کہ جن کو سارے اھل عرب  ،بالخصوس علوی خاندان نے سناتھا اور   اسکے علاوہ ایران کی آب و ہو ابھی زندگی گزارنے کےلئے مناسب تھی  اور شاید یہی سبب بناہو کہ   حضرت معصومہ ؑ اور دوسرے امام زادے قم تشریف لائیں  ۔

(۳)  قم کی امنیت :

سرزمین قم دوسرے  شہروں اور ممالک  کی نسبت،امام علی ؑکے خاندان کے لئے امنیت کی جگہ تھی  بعض لکھتے ہیں کہ امام علی ؑ کے خاندان والوں نے شھرقم اس لئے ھجرت کی تاکہ بنی امیہ اور بنی عباس کے ظالم حکمرانوں کے ساتھ مقابلہ کرسکیں [6]۔اور قم میں موجود امام کے چاہنے والوں نے بھی اسلام کے ترویج کی خاطر خود کو تیار کیا ہوا تھا اور پرچم اسلام کے سائے میں اپنی جان ومال عزت و آبرو کو قربان کرنے کیلئے تیار تھے۔

(۴)  امام رضا علیہ السلام کی ہجرت :

حضرت معصومہ ؑ کا ایران سفرکرنے کے عوامل میں ایک  مہم عامل امام رضاعلیہ السلام کی ہجرت تھی اور امام رضا علیہ السلام خاندان نبوت کے آٹھویں جانشین تھے اس لئے انکے چاہنے والے ان سے ملنے کے لئے ایران آیا کرتے تھے  تاکہ دینی اور دنیوی سوالوں کو انکی خدمت میں پیش کیا کرسکیں ۔

حضرت معصومہ ؑ کے قم تشریف آوری کے سلسلے سے بہت سارے تحلیلات اور نظریات موجود ہیں لیکن ایک چیز جو مسلّم ہے وہ یہ ہے کہ سن ۲۰۰ ہجری میں امام رضاعلیہ السلام کو اجبارا مدینے سے خراسان لایا گیا اور مامون نے ولایت عہدی کے سلسلے میں انکو ایران بلایا اور بعض لوگوں  نے یہ سمجھا کہ اب مامون ولایت عہدی  امام رضا ؑ کو دے گا جب یہ خبر پورے مدینے میں پھیلی تو امام کے چاہنے والے ایران کی طرف روانہ ہوئے اور ان میں ایک حضرت معصومہ علیھاالسلام بھی تھیں جو اپنے بھائی سے ملنے کیلئے مدینے سے ایران روانہ ہوئی تھیں۔

تاریخ قم‘ ایک قدیم تاریخی کتاب ہے جو امام رضا علیہ السلام اور حضرت معصومہ ؑ کے حوالےسے ایک مھم منبع تاریخی ہے اسکا مولف لکھتا ہے کہ (جب امام رضا علیہ السلام کو سن ۲۰۰ ہجری میں ولایت عہدی کے بھانے  خراسان لایا گیا تھا اس کے کچھ عرصے بعد حضرت معصومہ ؑ ، خود امام کے حکم سے سن ۲۰۱ ھجری میں ایران تشریف لائی تھیں[7]۔)

ان سب کے علاوہ اور بھی انکے سفر کے رازہیں جو مختلف کتب[8] میں موجود ہیں ہم ان میں سے بعض کو اس مقالے میں تحریر کرتے ہیں۔

  • امام رضا علیہ السلام اور حضرت معصومہ علیھاالسلام  دونوں کی والدہ گرامی ایک تھی [9] اس لئے انکے مابین گہری محبت تھی لہذا حضرت معصومہ ؑکے لئے امام رضا علیہ السلام سے دوری قابل تحمل نہ تھی اس لئے بھائی کے دیدار کی خاطر خراسان کی جانب روانہ ہوئی۔
  • امام رضا علیہ السلام نے مدینہ سے نکلتے وقت اپنی شھادت کی خبر دے دی تھی اور امام لوگوں سے اس طرح ملتے تھے کہ اب انکو  دوبارہ مدینے واپس نہیں آنا ہے یہ خبر بھی سبب بنی کہ حضرت معصومہ ؑ نے مدینہ چھوڑا اور قم کی طرف روانہ ہوئیں۔
  • حضرت معصومہ کے کچھ بھائیوں نے بھی جب ایران جانے کا عزم کیا تو حضرت معصومہ ؑ  کے شوق میں اضافہ ہوگیا لہذا انہوں نے اپنے ان بھائیوں کے ساتھ امام سے ملاقات کی خاطر ایران کا رخ کیا۔
  • منقول ہے کہ امام رضا علیہ السلام نے  ایک خط کے ذریعے حضرت معصومہ ؑ کو ایران بلایا تھا  جسکو انہوں نے ایک مورد  اعتماد شخص کے ساتھ ارسال کیاتھا اور حضرت معصومہ ؑ نے اس خط کو پاتے ہی ایران آنے کا ارادہ  کرلیا [10]۔
  • مورخین کا کہنا ہے کہ حضرت معصومہ ؑ نے سیاسی حالات کو دیکھ کر یہ پیشنگوئی کی تھی کہ امام رضاعلیہ السلام کی شہادت کے بعد مدینے کی حالت بہت خراب ہوجائےگی اور اس وقت خاندان پیامبر اسلام پر سختیوں میں اضافہ ہوجائے گا۔ اس لئے انہوں اپنی اور خاندان والوں کی جان بچانے کے لئے ایران کا رخ کیا تھا۔
  • حضرت معصومہ ؑ کا مدینے سے ہجرت ایک سوجی سمجھی پلاننگ کے تحت  طے پایا تھا اور انکی یہ ھجرت دوسرے علویوں کی طرح حکومت ظلم کے خلاف ایک احتجاج  اور حکومت میں موجود منافقوں کے گندے منصوبوں کو ناکام کرناتھا اور ساتھ ساتھ اسلام کی تعلیمات اور معارف کی نشر و اشاعت بھی تھی۔
  • امام رضا علیہ السلام سے پہلے دوسرے آئمہ اطہار علیہم السلام کے دورحیات میں  شہر قم ،خراسان ،ری اور دیگر ایران کے شہروں میں علویوں کاانسجام اور اتحاد تھا انکے درمیان کسی امام کا امام زادے کا تشریف لانا انکے ارادوں  میں تقویت تھی ۔دوسری جانب  ظالم حکرانوں  کی نظر ان مراکز پر  جمی ہو ئی تھی اس کے باوجود علویوں کی کوشش یہ تھی کہ ایک مرکز اھل  بیت علیہم السلام کی تعلیمات اور معارف کی نشر کے لئے قیام کیا جائے کہ جس سے شیعہ فرہنگ اور ثقافت کی ترقی ہو[11]۔

ْحضرت معصومہ علیھاالسلام کی ایران تشریف آوری کے راز کے حوالے سے مذکورہ باتیں  ان سے متعلق لکھی جانے والی کتب[12] میں پائی جاتی ہیں لیکن تاریخ کی کسی کتاب میں یہ سب  راز بیان نہیں ہوئی ہیں  بلکہ ہم ان باتوں کو تحلیل گروں اور مصنفوں  سے نسبت دے سکتے ہیں یہ اہمیت اور عظمت سے بھرپور مسئلہ خواہ اسکی تاریخی کوئی سند نہ  بھی ہو لیکن  اس  کی بررسی کی جانی چاہئے ۔

اس  حوالے سے ہم کسی ابتکاری عمل کا دعوا    دار نہیں ہیں  لیکن اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارے تاریخ میں موجود ماہر ین اور تجربہ کاروں کے نظریات ،انکی شخصیات ،فرہنگ اور عقاید بھی ان مسائل کے حل کے لئے موثر ہیں ۔کسی بھی تاریخی واقعے کی تحلیل کے لئے اس واقعے میں موجود ماہرین  کے عقاید ،انکی طرز تفکر اور انکے  اجتماعی وقار سے غافل نہیں ہونا چاہئے ۔بلکہ اسی طرح ہم نے بھی  حضرت معصومہ ؑ کی شخصیت کی تحلیل کی ہے حالانکہ انکی ہجرت کے حوالے سے ہمیں کوئی خاص مطالب تاریخ میں  نظرنہیں آتا ہے لیکن جب ہم انکی شخصیت ،مقام و منزلت کو آئمہ اطہار علیہم السلام کی احادیث میں دیکھتے ہیں  تو انکو شافع ،کریمہ اھل  بیتؑ،معصومہ ،ثانی فاطمہ ؑ ،عالمہ ۔۔۔ پاتےہیں روایت ہے کہ (ہمارے سارے شیعہ انکے واسطے سے بھشت میں جاینگے [13]

نتیجہ :

حضرت معصومہ علیہاالسلام کی ہجرت بھی دوسرے علویوں کے مانند باہدف تھی اس کے مختلف اسباب و عوامل ہیں جن میں سے بعض کو ہم نے اس مقالے میں ذکرکیا ہے جو ان کی اس عظیم ہجرت  میں موثر رہےہیں۔حضرت معصومہ ؑ کی علمی شخصیت[14]  کو مدنظر رکھتے ہوئے انکی اس ہجرت کی تحلیل کی جانی چاہئے جس امام حسین علیہ السلام کے عظیم مشن کو دنیاتک پہچانے کیلئے حضرت زینب ؑ نے قربانی دی تھی اسی طرح حضرت معصومہ ؑ نے امام رضاعلیہ السلام کے مشن کو باقی رکھنے کےلئے ہجرت کی تھی جس طرح حضرت زینب ؑ نے بنی امیہ کے خونخوار بادشاہوں کے خلاف قیام کیا تھا ویسے ہی حضرت معصومہ ؑ کا  بنی عباس [15]کے  ظالم حکرانوں کے خلاف قیام تھا۔اگر چہ اس سلسلے  میں ہمارے پاس تاریخی منابع بہت کم ہے مگر حضرت معصومہ ؑ جیسی باوقار شخصیت ،جو مظہر عقل اور صاحب فکر تھیں انکی اس ہجرت کو ایک عادی اورمعمولی ہجرت سے تعبیر کرنا مناسب نہیں ہوگا ۔تاریخ میں ہے کہ امام رضاعلیہ السلام نے خود حضرت معصومہ کو خط کے ذریعہ بلایا تھا [16]۔

قم کے حوالے سے قدیم ترین تاریخ نے بھی حضرت معصومہ ؑ کے ایران تشریف آوری کے راز کے سلسلے میں لکھا ہے کہ حضرت معصومہؑ اپنے بھائی امام رضاعلیہ السلام سے مقالات کے لئے ایران تشریف لائی تھیں[17] ۔مزید مطالب کےلئے  محققین  سے عرض ہے کہ انکے حوالے سے لکھے گئے کتابوں کی جانب رجع فرمائیں۔

                                                                                            

منابع:

  • تاریخ قم ,حسن بن محمدبن حسن سائب بن مالک اشعری قمی ۳۷۸ ہجری ،تاریخ نشر ۱۳۶۱،زبان فارسی ،سبک تاریخی ،ایک جلد۔
  • تاریخ مذھبی قم ، مولف علی اصغر فقہی ،ناشر حرم حضرت معصومہ ؑ،سال ۱۳۸۵۔
  • بحار الانوار علامہ مجلسی۔
  • کریمہ اھل البیت،آثار  مہدوی پور۔
  • حضرت معصومہ فاطمہ دومْ،محمد محمدی اشتہاردی  ،
  • یادگار عصمت ،مولف علی رضا۔
  • نجمہ خاتون، آ ثار حمید احمدی جلفایی ۔

 

 

 محمدجواد حبیب

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

 

[1]   یادگارعصمت ص ۷۴۔

[2]  یادگارعصمت ص ۷۴۔

[3]   یادگارعصمت ص۷۵۔

[4]   قم عشق ٓال محمد و ماوی شیعتھم ۔

[5]  تاریخ مذھبی قم ص ۷۸،۷۷۔

  یادگارعصمت ص ۷۷۔[6]

[7]       تاریخ قم ص ۲۱۳

[8]    تاریخ قم ،تاریخ مذھبی قم ،حضرت معصومہ فاطمہ دوم ،کریمہ اھل البیت ،بانوی ملکوتی ،ھجرت کریمہ ۔۔۔ سے اقتباس کیا ہے ۔

[9]      نجمہ خاتون، اثرحمید احمدی جلفایی ۔

[10]  کریمہ اھل البیت ،علی مھدی پور ص ۴۹۳۔

[11]      تاریخ قم ،تاریخ مذھبی قم ،حضرت معصومہ فاطمہ دوم ،کریمہ اھل البیت ،بانوی ملکوتی ،ھجرت کریمہ ۔۔۔ سے اقتباس کیا ہے ۔

[12]   تاریخ قم ،تاریخ مذھبی قم ،حضرت معصومہ فاطمہ دوم ،کریمہ اھل البیت ۔

[13]    یادگارعصمت   ۸۰۔

[14]    حضرت معصومہ کی عظمت و شخصیت کے حوالے سے بھہت سے کثیر روایات ہماری روائی کتابوں میں موجود ہیں ۔بحار الانوار ۶۰ص ۲۲۸

[15]     اس عظیم ہجرت کے اسباب و وسایل کے حوالے سےہمیں تاریخ میں خاص مطالب دستیاب نہیں ہے اما جیسے کہ جانتے ہیں کہ مامون کا اصل ہدف یہ تھا کہ امام کو لوگوں سے دور کیا جائے اور شیعہ مکتب کو نابود کیا جائے اس لئے مختلف فرقہ وجود میں لائے (واقفی گری )جو امامت کو امام موسی بن الکاظم علیہماالسلام تک محدود جانتے تھے اس لئے ضروری تھا کہ حضرت معصومہء بھی حضرت زینب کی طرح قیام کریں اور ان ظالم حکمرانوں کی گندھی سازش کو مٹی میں ملادیں۔

[16] سفرنامہ ی صفا السلطنہ مشتاقی ،تحفہ الفقراء،اگر امام رضا علیہ السلام نے ولایت عھدی کو قبول کرنے کے بعد حضرت معصومہ ؑ کو دعوت دی تھی تو ان کو انکی سلامتی کے لئے بھی کچھ تدبیر کرلیتے حالانکہ انکے کاروان پر ایران آنے کے بعد حملہ ہو ا   اور انکے ساتھ آنے والے شھید ہوئے اور خود حضرت معصومہ ؑ زخمی ہوئی تھیں اس پر غور کیا جائےہے ۔

[17]   تاریخ قم ۲۱۳۔

مولانامحمد جواد حبیبی

آج کی دنیا کو اسلام کی ضرورت

 

بیشک اسلام ایک نظام زندگی ہے۔ جس پر عمل کرنے سے انسان سعادت و کمال پر پہونچ سکتا ہے ۔ اسلام انسانوں کے فطرت اور غریزہ کےمطابق ہے اور اسی حساب سےوہ انسانوں کو صحیح راستہ کی ہدایت کرتا ہے کہ جس کی ہدایت نے آج تک لوگوں کو ہر طرح کے خوف و خطر سے بچا کے امن و امان کی دنیا میں قدم رکھوایا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا آج کے لوگوں کو اسلام کی ضرورت ہے ؟ کیا اسلام آج کے لوگوں کو امن و امان عطاکرسکتا ہے ؟ کیا اسلام آج کی موڈرن دنیا کے لئے ہے؟کیا اسلام لوگوں کو ظلم و بربریت سے نجات دے سکتا ہے و۔۔؟اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آج کے لوگوں کواسلام کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی ماضی میں زندگی کرنے والوں کو تھی ۔ یہ اسلام ہی ہے کہ لوگوں کو ستمگاروں کےخونی پنجوں سے اور ظالموں کے چنگل سے نجات دے سکتا ہے۔ جیسا کہ ۱۴سوسال پہلےانسانیت کو ظالموں کے قید سے نکالا تھا۔ واضح ہے آج ستمگار بہت ہے ان میں بعض بادشاہ ہیں اور بعض صاحب حکومت ہیں اور کچھ سرمایہ دار گروہ ہے کہ یہ سارےلوگ مختلف وسائل کے ذریعہ زحمت کشوں کے خون چوس رہے ہیں۔ اسلحہ کے زور پر ان کو فقر اور محتاج کی حالت میں سرکوب کرتے ہیں ۔ اور کچھ خونخوار دیکٹاٹور گروپ مال و دولت کے زور پر جان لیوا اسلحے بناتے ہیں تو کچھ غلط افواہوں کے لئے مختلف قسم کے چینلرز بنارہے ہیں تاکہ وہ اپنے ان ذرائع ابلاغ کے ذریعہ سیدھی سادھی عوام کے جذبات سے کھیلیں اوران کے عقائد و افکار پر اپنے غلط افکار کا رنگ چڑھا سکیں۔ یہ لوگ وہ ہیں جو طاقت کے زور پرخود کو عوام کا محافظ اور مجری تصور کرتے ہیں ۔ اور بے دفاع اور رنجیدہ طبقہ کو اپنا خادم اور نوکر بنانا چاہتے ہیں لیکن انہیں یہ نہیں معلوم کہ اس ظلم و جبر سے بھری دنیا کو اسلام کے سواکوئی نجات نہیں دے سکتا ہے۔

یہاں پر بعض یہ سوال کرسکتے ہیں کہ اگر اسلام اس طرح نجات بخش ہے تو کیوں اپنی مظلوم ملتوں کو حکمرانوں کے چنگل سے نجات نہیں دیتا؟

جواب اس کا یہ ہے کہ ابھی اسلام ان ممالک میں حکم فرمانہیں ہے یا ابھی ان ملتوں میں اسلام کی حکومت نہیں ہے ۔ حتیٰ اس محیط میں رہنے والے مسلمان بھی واقعی اسلام سے نا آشنا ہیں اور اسلام سے انہوں نے فقط مسلمانی نام کو حاصل کیا ہے ۔ اور اس کے سوا کچھ نہیں ۔ لہذا قرآن کا یہ حکم اس گروہ کے لئے کاملاً صادق اور صحیح ہے کہ خدا وندعالم فرماتا ہے ۔َمَنْ لَمْ یحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ یعنی وہ لوگ جو خدا کے حکم کے خلاف حکم دیتے ہیں کافر ہیں ۔{ سورہ مائدہ ، آیۃ ۴۴}

نیز دوسری جگہ خدا وندعالم پیامبر اکرم(ص)سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا[ کہ ان سے کہہ دیجئے ہر گز یہ نہ کہے کہ ہم مومن ہیں بلکہ کہو کہ ہم بنا چار اسلام لائے ہیں اس لئے کہ ابھی ایمان تمہارے دلوں میں نہیں آیا ہے قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا یدْخُلِ الْإِیمَانُ فِی قُلُوبِكُمْ {سورہ حجرات۱۴}

البتہ آج ہم جس اسلام کی طرف دعوت دے رہے ہیں بالکل اس کے مخالف ہے کہ بعض مسلمان نما گروہ مشرق زمین میں یا بعض حکمران جو خدا کے قوانین کے مخالفت کرتے ہوئے دعوت دیتے ہیں یا کبھی یورپ کے دستوراور اس کے منشاءکے مطابق ، کبھی حکم خدا کے موافق اور کبھی مخالف عمل کرتے ہیں ۔ ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ قرآن خود کہتا ہے فَأَمَّا الزَّبَدُ فَیذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا ینْفَعُ النَّاسَ فَیمْكُثُ فِی الْأَرْضِ كَذَلِكَ یضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ{سورہ رعد آیہ ۱۷}

کہ جھاگر خشک ہوکر فنا ہوجاتا ہے ، اور جو لوگوں کو فائدہ پہونچانے والا ہے وہ زمین میں باقی رہ جاتا ہے ۔ اور خدا اس طرح مثالیں بیان کرتا ہے ۔

ایک عام بات ہے جب اسلام حکومت کرے گا تو اس طرح ہوگا کہ خدا کے حکمرانی کے سوا کسی ظالم و ستمگار کو اسلامی ملتوں میں حکمرانی کا حق نہیں ہوگا ۔ اس لئے کہ اسلام ہرگز کسی جفا کار کو اہمیت نہیں دیتا ہے۔ اور نہ ہی کسی کو اپنی مرضی سے حکومت چلانے کی اجازت دیتا ہے۔ بلکہ اس وقت ہر جگہ ہر وقت ہر کوئی خدا کے حکم کے مطابق اور رسول خدا (ص) کے بنائے ہوئے قوانین پر چلنے چلانے ہوگے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خدا کی حکومت,عدل و انصاف کی عدالت ہوگی۔ ہاں جس دن اسلام کی حکومت کی ذمہ داری کو اپنے ہاتھ میں لےلےگا تو کچھ جوان مومن اور مجاہد کو اسلام کے زیر سایہ تربیت کرے گا ۔کہ کوئی بھی حکمران خود بخود معزول ہوجائے گا اور لوگوں کو اس کی اطاعت کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔

جیسے "خلیفہ اول ابوبکر نے اپنے زمانے میں کہا تھا کہ اے لوگو:جب تک میں خدا کےحکم پر عمل کررہا ہوں تو تم لوگ میری پیروی کرنا اور جب بھی تم یہ دیکھنا کہ میں منحرف ہورہا ہوں یا گناہ کررہا ہوں تو تم مجھ سے حق زمامداری چھین لینا اور میری پیروی نہ کرنا"

اسلام نے یہ اجازت دے رکھا ہے کہ لوگ خود اپنی حکومت کو چلانے کے لئے ایک شائستہ شخص کا انتخاب کریں۔ کہ وہ لوگوں کے ساتھ بہترین رفتار کرے ۔ جس دن اسلام حکومت کرے گا تو وہ لوگوں کو اپنی مرضی کے مطابق ریاست یا حکومت چلانے کا حق نہیں دے گا ۔ اور نہ زبر دستی کرنے کا حق دے گا ۔ اسی طرح جفاکاروں کے شر سے ملتوں کو نجات دے گا ، اور استعماری ملتوں کے آفتوں سے محفوظ رکھے گا ۔ چونکہ اسلام عزت و شرف کادین ہے ہمیشہ اپنے نور سے استعماری تاریکیوں کو زائل کرتا رہا ہے اور لوگوں کے سامنے اسلام دشمن عناصر کے مکدر چہرہ سے نقاب کشائی کی ہے ,اور یہی اسلام ہے کہ جس نے لوگوں کو ہر جگہ ہر زمانے میں ہر وسائل اور ابزار کے ساتھ استعمار کے خلاف قیام اور جنگ کرنے کی دعوت دی ہے ۔ پس آپ نے دیکھا کہ آج ہمیں اسلام کی کتنی ضرورت ہے اور اسلام کے زیر پرچم رہنے کی کتنی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے ملک کو قوم و قبیلہ کو استعمار سے پاک رکھیں اپنی فکروں کو عقائد , روح و اموال کو اور ناموس کو استعمار کے زہریلے ہاتھ سے چھین لیں۔ اس وقت خدا وند کے حکم میں ہم شامل ہوں گے کہ فرماتا ہے " آج ہم نے دین کو مکمل کیا اور اپنی نعمت کو تمہارے اوپر تمام کیا اور اسلام کو بہترین دین قرار دیا"۔الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت نعمتی و رضیت الاسلام دیناً۔

اس بنا پر اسلام کو پہچا ننا اور اسے لوگوں تک پہونچانا نہ فقط مسلمانوں کی ذمہ داری ہے بلکہ دنیا کے تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بڑی نعمت کو کہ جسے خالق کائنات نے عطاکیا ہے ہاتھ سے جانے نہ دیں۔

اور آج دنیا دو طاقتوں میں تقسیم ہو چکی ہے ۔ ایک طرف خطرناک کمونیسٹ طاقت اور دوسری جانب سے سرمایہ داری تبہکار طاقت ۔ یہ دونوں طاقت کافروں کے ہاتھ میں ہے اور دنیا میں حملہ کرنے کے لئے بے چین ہیں اور ایک دوسرے سے لڑرہے ہیں, ظاہراً تو یہ دونوں ایک دوسرے سے لڑتے اور جنگ کرتے ہیں لیکن اگر ہم غور کریں تو یہ معلوم ہوجائے گا کہ یہ دونوں مظلوم اور بے گناہ افراد کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے اور ان کے خون سے ہولی کھیلتے ہیں ۔ یہ دونوں جفا کار ہمارے مجروح سینے پہ آکر کشتی لڑتے ہیں ۔ ان کی نظر میں ہماری کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ ہم ان کی نگاہ میں ایک کالا, مال و ثروت کہ مانند ہیں کہ ایک مالک سے دوسرے مالک کی طرف منتقل ہوتے رہیں۔لیکن یہ کہ مسلمان ہوش میں آئیں اور اپنی کھوتی ہوئی عزت و آبرو ,شان و شوکت پھر سے حاصل کرنے کی کوشش کریں۔جیسا کہ آج ہم عالم اسلام میں رونما ہونے والے ایک فکری انقلاب کا مشاہدہ کررہے ہیں ٹیونس، مصر، لیبیا، یمن، اردن ،بحرین اور سوریہ وغیرہ میں لوگوں کی بیداری اس بات کی دلیل ہے کہ یہ لوگ اپنی عظمت کو حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ اسی طرح ہر مظلوم اگر ظالموں کے خلاف آواز بلند کرے تو یقینی طور پر یہ دنیا امن و آمان کا گہوارہ بن جائے اور ان دو بڑی طاقتوں کی جگہ تیسری طاقت آجائے جو ایک معتدل طاقت ہو ۔ اور یہ ایک سرمایہ داری طاقت کو نفوذ کرنے سے اور کمیونیسٹی طاقت کو غلبہ ہونے سے روکے گی۔ اس وقت نہ یہ شوروی روسیہ ہمارے اوپر حملہ کرے گا اور نہ امریکی سرمایہ داری ۔آنکھ اٹھا کے دیکھے گا بلکہ اس وقت تو یہ دونوں اسلام کی طرف بھاگیں گے اور مسلمانوں کی خوشنودی کے لئے ایک دوسرے سے قریب ہوکر کام کریں گے ۔ اس بناپر آپ دیکھے کہ آج دنیا کو اسلام کی کتنی ضرورت ہے ۔ اس وقت اسلام کے علاوہ کسی اور چیز کی پیروی نہیں ہوگی ۔ اور فقط اسلام اس دنیا کو خوف و ڈر سے روانی اور روحی ناراحتی اور بیماری سے نجات دے گا۔ اس دنیا کو اسلام کی کتنی ضرورت ہے کہ اس کو سلطانوں اوربادشاہوں کی شہوت سے بچائے ۔ اور یہ یورپ جو شہوت کی دنیا میں غرق ہے اپنے کو تمدن اور متمدن یافتہ تصور کرتا ہے ، در حالیکہ یہ شہوت کی آماجگاہ سے باہر آنے کی قدرت بھی نہیں رکھتا ہے۔اور اس طرح شہوت پرستی میں مست ہے کہ اس کا اپنا کنٹرول بھی ہاتھ سے نکل چکا ہے ۔ تو جب یہ یورپ خود کو شہوت پرستی سے نجات نہیں دے سکتا ہے تو دوسروں کو کیسے نجات دے سکتا ہے!؟

آج لوگ کہتے ہیں کہ سائنس اور تجربہ نے ترقی کی ہے ، لیکن افسوس عالم بشریت نے کیا ترقی کی ہے؟ اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ لیکن یہ غور کرنے کی بات ہے کہ آج تک ہم نے کبھی۔۔۔ دیکھا کہ وہ جامعہ یا وہ ملک جو اسیرِ شہوت پرستی ہوگیا ہو۔ اور محسوسات مادی کے علاوہ کچھ حُسن بھی نہ رکھتا ہو وہ ترقی اور پیشرفت کرے اور زندگی کو آرامش اور و آسائش سے لبریز کرے ۔ یعنی ایسا واقعہ تاریخ میں نہیں گذرا ہے ۔

ہاں آج کی دنیا میں علم {سائنس} کی ترقی نے مشرق اور مغرب کے کونہ کونہ میں بعض لوگوں کو جذب کرلیا ہے ۔ اور یہ بے فکر لوگ تعجب کرتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ ہوائی جہاز کا بنانا، ایٹمی بمب بنانا، ہیڈروجن کا ایجاد کرنا ، ریڈیو و ٹیلی ویژن کا بنانا اور الکٹریسٹی کا کیٹرول بنانا، انٹرنیٹ ، فیکس ، ٹیلی فون کا بنانا فقط وسیلہ ہے ترقی کا۔ مگر افسوس صد افسوس کہ صحیح ترقی اور پیشرفت کی اصل میزان و معیار یہ نہیں ہے ۔ بلکہ وہ صحیح میزان جو کبھی غلط نہیں ہوسکتا وہ یہ ہے کہ انسان ہر جگہ اور ہر وقت اپنی شہوت پر کامیاب ہوجاءے اور اچھی طرح اپنی فطری خواہشات کو پورا کرے ۔ اس لئے کہ انسان جتنا شہوت پر کنٹرول کرے گا اتنا تمدن سے نزدیک ہوگا ۔ یہ میزان اعتباری اور جعلی نہیں ہے۔ کہ جس کو بغیر کسی ادیان و مذاہب اور علم اخلاق کے بنایا گیا ہو بلکہ یہ ایک تطبیقی قانون اورفطری میزان ہے ۔ کہ خدا نے ا نسانوں کے بدن میں رکھا ہے ۔ اس لئے اچھا ہے کہ ہم چند ورق تاریخ کا مطالعہ کریں اور تھوڑی دیر بڑے بڑے ممالک اور ملتوں کے بارے میں فکر کریں کہ کتنے ایسے ممالک تھے کہ ان کے پاس قدرت تھی زندگی تھی ہنر و فن تھا بشریت کے لئے بہترین کام کرسکتے تھے۔ لیکن کوشش نہیں کی، بلکہ اس کے بجائے اپنے کو شہوت پرستی میں غرق کردیا تو آخرکاران کا انجام کیا ہوا؟ بُرا انجام ان کے نصیب ہو عذاب میں گمراہی میں غرق ہوگئے۔ قدیم یونان کے وہ با عظمت محل کو کس چیز نے ویران کیا ؟ قدیم روم اور ایران کے امپراطوری کوحکومتوں کو کس چیز نے نابود کیا ؟ اسلامی دنیا کی قدرت کو ، حکومت عباسی کی آخری دور میں ان کو کس چیز نے نابود کیا ؟ فرانس کی شہوت پرست قوم نے جنگ اول اور جنگ دوم میں کیا شجاعت دیکھا؟ کیا جب پہلی ضربت ان پر پڑی تو تسلیم نہیں ہوئے ۔ اس لئے کہ فرانس کی قوم و ملت نے اپنی تمام طاقتو ں کو تن پروری اور شہوت پرستی اور عیاشی میں صرف کر رکھا تھا ۔ اس حد تک یہ لوگ بے خبر ہوگئے تھے کہ جب جنگ ہوئی تو ان کے پاس کوئی ایٹمی اور طاقت نہیں تھی ، کہ اپنی مادی اور معنوی سرمایوں کا دفاع کرسکیں۔اور اپنی قوم و قبیلہ اور زمین کا دفاع کرسکیں۔

آج ہم نے ترقی کی میزان اور معیار کو اپنے سے دور کردیا ہے تو ہر گز دنیا شہوت کی دریا میں غرق ہوکر ترقی نہیں کرسرکتی ہے ، اب آپ نے یہ ضرور محسوس کیا ہوگا کہ آج کی متمدن دنیا کو بھی اسلام کی کتنی ضرورت ہے اس طرح جیسے آج سے ۱۴ سو سال پہلے ضرورت تھی ۔ جب تک اپنے کو شہوت پرستی سے نجات نہ دے اور اپنی زندگی کو بشریت کی حمایت کے لئے وقف نہ کرے دنیا کے کونہ کونہ میں خیر و برکت کو پہونچائے بغیر، افتخار کے لباس کو پہنے بغیر کوئی یہ نہ کہے کہ اس طرح کے مطالب پرانے ہو گئےہیں۔

اس بارے میں گفتگو کرنا بے فائدہ ہے ۔ دوسری عبارتوں میں اس طرح کا تلاش بے سود ہے ، خستگی اور تھکاوٹ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ تو ہم ان کے جواب میں کہیں گے کہ اس سے پہلے بھی انسانیت تجربہ کے ذریعہ یہاں تک پہونچ چکی تھی کہ عقیدہ اور ایمان کی بنا پر ترقی کرسکتے ہیں ۔ اوریہ مسلم ہے کہ جو کام ایک بار انجام ہوا ہووہ دوبارہ بھی انجام پائے ۔ یہ ممکن ہے آج کا انسان بھی وہی انسان ہے کوئی بھی تغییرات کی طبیعت اور فطرت میں نہیں ہوا ہے اور یہ نکتہ قابل انکار نہیں ہے کہ اسلام سے پہلے والی دنیا بھی بندگی کی کثیف ترین گندے سمندر میں غرق ہو کر شہوت کے بندے بنے ہوئے تھے ۔ کوئی بھی فرق نہیں تھا آج کی دنیا سے۔

آج کی دنیا میں فقط شہوت رانی کے وسائل و آلات کا ایجاد نہیں ہے بلکہ کل قدیم روم و یونان میں بھی یہ تباہی اور فساد کے وسائل موجود تھے ۔ آج کے پیریس اور لندن اور امریکہ کے شہروں سے کم نہیں تھی قدیم ایران جس طرح اخلاقی ہرج و مر ج میں مبتلا تھا کہ جس کا آج کمونیزم دنیا میں ہم مشاہد کررہے ہیں ۔

لیکن جیسے یہی اسلام آیا ، ان تمام برائیوں پر پابندیاں عائد کردیں اس بُری اور گندی زندگی کو ایک آبرو مندانہ زندگی میں بدل ڈالا۔ اس زندگی کو ترقی اور رشد و نشاط میں تبدیل کرکے خیر و صلا ح کے لئے زمین پر آمادہ کیا ۔ اور غرب اور شرق کے انسانوں کو اخلاق کی طرف دعوت دیا ۔ اور ہرگز اس زمانے کے شر اور فساد سے عاجز ہوکر پیچھے نہیں ہٹے ۔ بلکہ اس زمانے کے حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف روانہ ہوا ۔ جس کی بنا پر کافی دنوں تک اسلامی دنیا اس جہان کے لئے منشا نور اور منبع سعادت اور رہبر کاروان رہا ہے ۔ وہ لوگ کبھی بھی خودکو مادی قدرت حاصل کرنے کے لئے یا علمی و فکری ترقی کے لئے شہوت رانی کو اپنی ضرورت نہیں سمجھتے تھے اور اخلاقی ہرج و مرج میں مبتلا نہیں ہوتے تھے ۔ بلکہ اسلام کے پیروکار ہر جگہ اور ہر وقت انسانیت کے لئے ایک واضح اور روشن نمونہ بنتے گئے ، یہاں تک کہ عالم اسلام کے حکمرانوں نے جب بے توجھی سے کام لینا شروع کیا تب سے قوم اور ملت کے اخلاق اور آہستہ آہستہ انحطاط اور پستی کی جانب جانے لگا ۔ آخر کار مسلمان بھی شہوت کا غلام بنا اور سنت خدا کے مخالفت کرنے لگا ۔ اب اس پریشانی سے اسلام کے سوا ے کوءی نہیں بچا سکتا ۔ لہذا اے مسلم بھائیوں اپنے کو روشن فکر بناؤ ۔ اس لئے کہ جب تک ہم روشن فکر تھے تب تک دنیا کا حاکم بنا رہے لیکن جس دن سے ہم نے روشن فکری چھوڑ دی تب سے ہم غلام بنائے ہوئے ہیں ۔ اور روشن فکری بغیر اسلام کے تعلیمات کے نہیں ہوسکتا اس لئے ضروری ہے کہ اسلام کوسمجھیں ۔ تاکہ اس گھٹن کی زندگی سے نکل کر امن و امنیت کی دنیا میں قدم بڑھاسکیں۔ نتیجہ یہ کہ آج کی دنیا کو صرف اسلام ہی نجات دے سکتا ہے اور آج کی دنیا کو صرف اسلام ہی کی ضرورت ہے۔

والسلام

منابع:

قرآن، تاریخ اسلام، استعمار شناسی، آیا ما مسلمان ھستیم، حاکم افکا

 

بسم الله الرّحمن الرّحیم

 

غصب فدک،سامراجیت اور ایک استکباری حرکت

(تحریر:خادم حسین آخوندی)

 

مقدمہ: 

      کوثر رسول(ص) ، ہمسر  قسیم النار و الجنۃ، سیدۃ  النسا‏ء اہل الجنۃ، حضرت فاطمہ زہرا(س) کے فضائل و مناقب  بیان کرنا  انسان کیلئے  ایک سادہ اور آسان کام نہیں ہے۔چونکہ حضرت زہرا مرضیہ(س)  کے وجود مقدس کی حقیقت کو درک کرنا ہر کسی کی بس کی بات نہیں ہے۔ اللہ  سبحانہ  و تعالی نے اپنے حبیب  سے مخاطب ہوکر فرمایا: " اگر زہرا(س) کو خلق نہ کیا ہوتا ،تو میں آپ (ص) اور علی(ع) دونوں کو  وجود میں نہ  لاتے، نیزجن کے  بارے میں رسول خدا(ص) نے فرمایا:" فاطمہ میرا ٹکڑ ا ہے،جس نے ان کو ازیت پہنچائی،  اس نے  مجھے  ازیت پہنچائی ہے"۔ ان  کے علاوہ ہمارے  تمام اماموں نے اس و جود مقدس کا احترام اور ان کو اپنے لئے حجت اور نمونہ قرار  دے دیا ہے۔ حضرت مہدی آل محمد(عج) جن کے حوالے سے  امام صادق(ع) فرماتے ہیں:" اگر میں نے امام زمانہ(ع) کے ظہور کو  کو درک کیا ،تو عمر  بھر ان کی خدمت کرتا رہونگا،  فرماتے ہیں: «اِنَّ لی فی ابنة رسولِ الله اُسوةٌ حَسَنَةٌ»[1] رسول خدا کی بیٹی میرے لئے  بہترین نمونہ ہے۔

     جی ہاں! جن کے بطن  پاک سے  گیارہ امام  معصوم وجود میں آگئے ہوں،اور  آخری حجت خدا ان کو  اپنے لئے  اسوہ قرار  دے رہا ہو،  رسول خدا(ص) نے  جن کو اپنی نبوت کا حصہ  قرار  دے دیا ہو،  اس عظیم ہستی کی حقیقت  کو کون  صحیح طریقے سے درک کرسکتا ہے؟!  خداوند متعال قرآن مجید  میں شب قدر کے بارے میں  اپنے حبیب سے   مخاطب ہوکر ارشاد  فر ما رہا ہے:

" وَ ما أَدْراکَ ما لَیْلَةُ الْقَدْرِ* لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْر"ٍ

  ( تو کیا جانتاہے   لیلۃ  القدر کیا ہے؟ لیلۃ القدر ہزار مہنوں سے افضل ہے)۔

   روایت میں آیا ہے کہ  شب قدر، جناب فاطمہ زہرا(س)  ہے۔چنانچہ  صادق آل محمد(ع) فرماتے ہیں:

"انّا انزلناه في ليلة القدر. ليلة‌: فاطمه والقدر: الله، فمن عرف فاطمة حق معرفتها فقد ادرك ليلة‌القدر، وانها سميت فاطمة لان‌ّ الخلق فطموا عن معرفتها"[2]

"لیل (رات)سے مراد حضرت زہرا(س)،  اور قدر سے مراد اللہ ہے، جس نے حضرت زہرا(س)  کی معرفت اس  انداز سے حاصل کی جیسے معرفت حاصل کرنے کا حق ہے، اس نے  شب قدر کو درک  کر لیا ہے، جناب زہرا کا اسم گرامی فاطمہ اس لئے  مقرر کیا گیا ہے، چونکہ مخلوقات ان کی معرفت سے (بچھڑے ہوئےہے)  جدا ہے"

     پیامبر گرامی اسلام)ص) کی    جانگدازوفات کے بعد   اس  عظیم ہستی کی  مختصر سی زندگی میں بہت سارے  ناگوار حوادث رونما ہوئے، امت نے  عصمت کبرا کی حرمت کی پائمالی کرتے ہوئے  ان کے ساتھ ناروا سلوک اختیار کیا  اور ان کو  اپنے حقوق سے بھی محروم کیا ۔  ان پائمال شدہ حقوق میں، غصب خلافت اور  فدک تاریخ میں سر فہرست ہیں۔

    مقالہ ھذا میں "فدک" کے  موضوع کے حوالے سے  بحث کرنا مقصد نگارش ہے۔ در اصل فدک سے  مربوط چند اہم سوالوں کے جواب قارئین کرام  کے اذہان شریف  تک پہنچانے کی کوشش ہوگی۔ ان ممکنہ سوالات مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ فدک کیا ہے اور یہ کہاں پر واقع ہے؟ 2۔کیا   فدک  رسول خدا(ص) نے جناب زہرا(س) کو   بخشش یا ہبہ کے  طور پر  تقدیم کیا تھا،  یا بطور ارث آپ(س) کو ملا تھا؟3۔  کیا  انبیاء (ع)  ارث نہیں چھوڑتے ہیں اور  ان کا ترکہ صدقہ ہے؟ 4۔کیوں حضرت زہرا(س) نے غصب فدک کے فورا  بعد مسجد میں حاضر ہوکر فدک کی باز یابی کے سلسلے میں خلیفہ وقت پر احتجاج کیا؟

5۔ غاصبین فدک  کن مقاصد کے پیش نظر    جناب زہرا(س) کے حق   پر  قابض ہوئے؟6۔ ائمہ معصومین(ع) نے  کیوں  ہمیشہ  موضوع فدک کو  زندہ رکھنے کی کوشش کر تے رہے؟ ۔۔۔

 

 

فتح خیبر اور فدک کے مکینوں کا رسول خدا(ص) کے ساتھ فدک کا مصالحہ

   ساتویں صدی  ہجری میں پیامبر اسلام(ص) نے لشکر اسلام کو  یہودیوں کے سب سے مضبوط گٹھ  یعنی خیبر کو فتح کرنے کا حکم صادر کیا اور  لشکر اسلام رسول خدا(ص) کی قیادت میں سرزمین خیبر کی طرف روانہ ہوئے۔ جب یہودیوں کو  لشکر اسلام کے آمد کی خبر موصول ہوئی،  اپنے تمام تر دفاعی وسائل کو بروی کار لاکر   مجاہدین اسلام سے نبرد ازما ہو نے کیلئے تیار ہوگئے۔  اور اپنے مضبوط قلعوں کو مزید مستحکم بنا نے میں سرگرم ہوگئے،   تاکہ دشمن کے متوقّع حملوں کی آنچ سے  بچ سکے۔

 جنگ کا آغاز اور فتح خیبر

    جب  سپاہیان اسلام  خیبر پہنچ گئے  تو سب سے پہلے قلعوں کا محاصرہ کیا اور کئی روز تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ بعد میں رسول خدا (ص) نے  قلعوں پر حملہ کرنے کا حکم دیا اور  یہودی قلعے  یکی بعد دیگرے فتح ہوگئے، ان میں سے  سب سے   پہلا قلعہ ـ جو مسلمانوں نے فتح کیا ـ قلعۂ ناعم تھا۔ یہ قلعہ خود کئی ذیلی قلعوں اور حصاروں پر مشتمل تھا اور رسول اکرم(ص) نے ان پر حملہ کرنے کے لئے اپنے اصحاب کی صف آرائی کا اہتمام کیا۔ یہودیوں نے مسلمانوں کو تیروں کا نشانہ بنایا اور اصحاب نے اپنے جسموں کو رسول خدا(ص) کے لئے ڈھال قرار دیا۔ اس روز آپ(ص) نے اپنا سفید پرچم دو مہاجروں ( ابوبکر اور عمر) اور ان کے بعد ایک انصاری کے سپرد کیا؛ لیکن وہ کچھ زیادہ کام کئے بغیر میدان جنگ سے پلٹ آئے؛ بعد میں رسول خدا(ص) نے اعلان کیا  کہ کل   پرچم  ایسے شخص کے ہاتھ میں دونگا   چو کرار ہے فرار نہیں۔ اس ماجرا کو  فریقین نے نقل کیا ہے  جیسے اہل سنت کی  مشہور کتاب  صحیح بخاری  میں بھی   صحیح سند کے ساتھ یوں ذکر ہوا ہے:

"عن أبي حازم قال : اخبرني سهيل بن سعد رضي لله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوم خيبر: لأعطين هذه الراية غدا رجلا يفتح الله على يديه ، يحب الله ورسوله ، ويحبه الله ورسوله۔[3]"

   ابن حازم سے روایت کی ہے کہ سہیل بن سعد نے مجھے خبر دی کہ بتحقیق رسول اللہ(ص) نے خیبر کے دن فرمایا:

  بتحقیق کل میں یہ پرچم اس مرد کو دوں گا جس کے ہاتھوں خداوند عالم اس قلعے کو فتح فرمائے گا؛ وہ ایسا مرد ہے جو خدا اور اس کے رسول(ص)  سے محبت کرتا ہے اور خدا اور اس کا رسول(ص) بھی اس سے محبت کرتے ہیں؛ وہ کرار اور جم کر لڑنے والا اور غیر فرار ہوگا۔

اگلے روز رسول اللہ(ص ) نے علی بن ابی طالب(ع) کو بلایا جو آشوب چشم میں مبتلا تھے اور پیغمبر خدا(ص) کے معجزے سے آشوب چشم میں افاقہ ہوا تو پیغمبر اسلام(ص) نے پرچم آپ(ع) کے سپرد کیا۔

   مروی ہے کہ خیبر کے قلعوں میں سب سے بڑا، سخت اور مضبوط قلعہ "قموص" تھا اور رسول خدا(ص) نے اس کی فتح کا پرچم علی(ع) کو عطا کیا اور علی(ع) نے مرحب کو ـ جس کا نام اس قلعے کے لئے مختص تھا ـ ہلاک اور قلعے کو فتح کردیا۔[4]

   ابو رافع کی روایت کے مطابق، ایک یہودی نے قلعے کے دروازے کے پاس حضرت علی(ع) پر  وار کیا  اور آپ(ع) کی ڈھال گر گئی چنانچہ آپ(ع) نے قلعے کے ایک دروازے کو اکھاڑ کر اس کو اپنی ڈھال قرار دیا اور اسی دروازے کو ہاتھ میں لے کر آخر تک لڑتے رہے یہاں تک کہ قلعہ آپ(ع) کے ہاتھوں فتح ہوا اور اسی قلعے (یعنی قلعۂ مرحب) کی فتح کی خوشخبری رسول خدا(ص)  کے لئے بھجوا دی [5]۔ ایک روایت کے مطابق جس یہودی مرد نے آپ(ع) پر تلوار کا وار کیا تھا، وہ مرحب ہی تھا۔[6] مروی ہے کہ جنگ کے بعد 40 یا 70 افراد اس دروازے کو اٹھانے میں کامیاب ہوسکے تھے۔[7]  خیبر کی فیصلہ کن فتح امام علی علیہ السلام کے فضائل و مناقب میں شمار ہوتی ہے جس پر بہت سے مؤرخین اور محدثین کا اتفاق ہے۔

تسلیم فدک

    خیبر فتح ہوتے ہی یہودیوں نے ہتیار ڈال کر تسلیم ہوگئے۔ ابن ابی الحدید معتزلی ، سیرہ ابن اسحاق سے  یوں نقل کرتا ہے:

 جونہی مسلمانوں کے ہاتھوں خیبر کے  مضبوط قلعوں کے فتح کی خبر  اہالیان فدک نے سنی، خوف اور وحشت نے  ان کے وجود کو گھیر لیا اور خوف کے مارے  اپنے ایلچیوں کو فورا ْ رسول خدا(ص) کی خدمت میں بھیج دیے اور مصالحہ کی درخواست کی۔  اس مصالحے کے مقابلے میں فدک کا نصب حصہ رسول خدا (ص) کو عطاء کرنے کی پیشکش کی۔ آنحضرت(ص) نے ان کی درخواست کو قبول کیا، تب ہی سے فدک رسول خدا(ص) کی مخصوص  جا‏ئداد میں شامل ہوگئی۔[8]

   تمام  شیعہ اور سنی مفسریں نے  متفقہ طور پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ  فدک کے باغات، کسی  قسم کی خونریزی یا جنگ کے بغیر  حاصل ہوئے تھے ،( اس قسم کی زمینوں(مال غنیمت) کو اصطلاح فقہی میں"فئ" کہا  جاتا ہے  )جوکہ قرآن کی نص کے مطابق رسول خدا(ص) کی مخصوص ملکیت  ہوتی ہے:

"وَمَا أَفَاءَاللّه عَلَی رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَلاَ رِکَابٍ وَلَکِنَ اللّه یُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَی مَنْ یَشَاءُ وَاللّه عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ*مَا أَفَاءَاللّه عَلَی رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَی فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِی الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینِ وَابْنِ السَّبِیلِ کَیْ لاَیَکُونَ دُولَةً بَیْنَ الاْءَغْنِیَاءِ مِنْکُمْ"[9]  

اور  خدا نے  جو کچھ ان کی طرف سے مال غنیمت اپنے رسول کو دلوایا ہے جس کیلئے تم نے گھوڑے یا اونٹ کے ذریعے کوئی دوڈ دھوپ نہیں کی ہے۔۔۔ لیکن اللہ اپنے رسولوں کو غلبہ عنایت کرتا ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے۔

 تو کچھ بھی اللہ نے اہل  قریہ  کی طرف سے  اپنے رسول کو دلوایا ہے(فیئ)  وہ سب  اللہ، رسول اور رسول کے قرابتدار، ایتام، مساکین اور مسافران غربت زدہ کے لئے ہے تاکہ سارا مال صرف مالداروں کے درمیان گھوم پھر کر نہ رہ جائے۔

  مذکورہ   دو آیتوں سے  یہ  ثابت ہوجاتا ہے کہ جو مال غنیمت، کسی قسم کی  جنگ اور جہاد کے بغیر حاصل ہوتا ہے،  یہ سب اللہ اور اس کے رسول(ص)  سے تعلق  رکھتا ہے۔ اور باقی مسلمانوں کا اس میں کوئی حق نہیں ہوتا۔

       اور  جب  یہ اموال رسول خدا (ص) کے ہاتھ آجاتے ہیں، تو آنحضرت(ص)  ولی  امر المسلین  کی حیثیت سے   اسلام اور مسلمین کی مصلحتوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر، خرج کر دیتے ہیں۔نیز ان کو  سرمایہ دار افراد کے لئے ذخیرہ قرار نہیں دیتے۔ آیت جن موارد کو مصارف کے عنوان پر نشاندہی کر رہی ہے ، وہ  اس طرح سے  ہیں:راہ خدا،  رسالت نبوی کے بلند اہداف اور مقاصد،  ترویج و تقویت دین اسلام،  رسول خدا(ص) کے قرابتداروں،  یتیموں، مسکینوں اور غربت زہ  مسافروں کے لئے  ہیں۔

  رسول خدا(ص) کی وفات کے بعد ان تمام امورات کے بھاگ دوڑ،  ان کے جانشین برحق ، امام عادل کے  اختیار میں ہوتا ہے۔

 نخلستان فدک اور اس کی مالی ارزش

 فدک زمین کے اعتبار سے ایک زرخیز اور  کاشت کاری کے لئے نہایت ہی موزون  سرزمین تھی،اس کے رطب( کھجور کی ایک قسم) بہت مشہور تھے۔  اس  نخلستان کے کھجوروں  کی قیمت کا تخیمنہ  تاریخ میں مختلف ذکر ہوہاہے۔

       بعض مؤر‎‎خین کا  دعوا ہے کہ  فدک کے نخلستانون کا  اندازہ، چھٹی صدی  ہجری میں، کوفہ کے نخلستانوں کے برابر تھا[10]۔

   ابن ابی الحدید معتزلی لکھتا ہے: جب خلیفہ دوم نے فدک کے یہودیوں کو  وہاں سے  جلاوطن کرنے کا ارادہ   کیا   تو انپے بعض کارندوں کو  وہاں بھیج دئے ، تاکہ فدک کے اس نصف حصے کی قیمت کا حساب کیا جائے،  جو ان یہودیوں کے اختیار میں تھا، اس موقع پر عمر نے عراق سے  جو  بیت المال اس تک پہنچا تھا،  اس میں سے پچاس ہزار درہم ان کے اختیار میں دے کر وہاں سے ملک بدر کردیا۔[11]

    محدث قمی  کے نقل کرتے ہیں:سید ابن طاووس اپنی  " کشف المحجہ" نامی کتاب میں، شیخ عبداللہ بن حماد سے روایت نقل کرتے ہوئے،  فدک کے سالانہ  درآمد کا تخمینہ  ستر ہزار درہم ذکر کیا ہے۔[12]

فاطمه علیهاالسلام کو فدک کی واگذاری

   چنانچہ شیعہ اور اہلسنت دونوں کی روایات میں آیا ہے کہ رسولخدا(ص) نے اپنی رحلت سے تین سال قبل یعنی اپنی حیات میں  ہی ،فدک حضرت زہرا(س) کو واگذار کیا تھا۔

 صاحب مجمع  البیان، اس آیہ شریفہ«وَآتِ ذَاالْقُرْبَی حَقَّهُ وَالْمِسْکِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ»[13]  کی تفسیر کے ذیل میں، حضرت امام محمد باقر(ع) اور امام صادق(ع)، نیز   ابو سعید خدری سے اس طرح سے روایت نقل کر تے ہیں:

"إنّه لَمّا نَزَلَتْ هذِهِ الآیَة عَلَی النَّبِی صلی الله علیه و آله أَعْطاها وَ سَلَّمَها فَدَکا وَ بَقِیت فِی یَدِها ثَلاث سَنَوات قَبْلَ وَفاتِ النَّبِیّ".[۱۰

  جونہی یہ آیہ کریمہ رسولخدا(ص) پر نازل ہوئی کہ ذوی القرباء کو اپنا حق دے دیجئے،آنحضرت(ص) نے  فدک کو حضرت زہرا(س) کو دے دیا؛  اور رسول خدا(ص) کی وفات سے تین سال قبل یہ جناب زہرا(س) کے اختیار میں تھا۔

   اسی مطلب کو اہل سنت کے مشہور مفّسر سیوطی نے اپنی  کتاب(تفسیر) "الد ر المنثور"  میں ابو سعید خدری سے یوں نقل کیا ہے:

"أخرج البزاز وابویعلی وابن حاتم و ابن مردویه عن أبی سعید الخدری، قال: لَمّا نَزَلَتْ هذِهِ الآیَة وَآتِ ذَاالْقُرْبَی حَقَّهُ... دعا رسول اللّه فاطمة فأعطاها فَدَکا"

  جب آیت نازل ہوئی،پیامبر صلی الله علیه و آله فاطمه علیهاالسلام کو طلب کیا اور فدک کو انہیں سپرد کردیا۔

 نیز اسی طریقے سے جناب ابن عباس سے نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے:

 "لما نزلت وَ آتِ ذَاالْقُرْبی حَقَّه أقطع رسول اللّه فاطمة فدکا" جب آیہ شریفہ نازل ہوئی، رسول خدا صلی الله علیه و آله نے فدک کو ملک فاطمه علیهاالسلام قرار دےدیا۔ [14]

  علامہ مجلسی ؒبحار الانوار میں  یوں نقل کرتے ہیں: پيامبر صلى الله عليه و آله  نے ایک ورقه‏ طلب کیا اور اميرالمؤمنين عليه‏السلام کو بلوا کر فرمایا:" فدك کی سند کو پیامبر(ص) کی بخشش اور عطیے کے عنوان سے تحریر کرو۔اميرالمؤمنين عليه‏ السلام نے اسے لکھا، اور خود حضرت(ص)  اور ام ‏ايمن نے اس پر گواہی دی ۔ پيامبر صلى الله عليه و آله  نے اس موقع پر ارشاد فرمایا:'ام ‏ايمن اهل بهشت میں سے ہے". حضرت زهرا عليهاالسلام نے اس مکتوب کو اپنے تحويل میں لے لیا، اور جب فدک کو غصب کیا گیا، تو اس وقت اسی تحریر کو لیکر ابوبکر کے پاس حاضر ہوکر سند کے طور پر پیش کیا۔ [15]

   حضرت زهرا عليهاالسلام  نے سرزمين فدك پر اپنا نمايندہ  مقرر کیا اور کچھ تعداد میں عملے بھی اس کے اختیار میں دے دئے۔ یہ لوگ اپنے اخراجات کا محاسبہ کرنے کے بعد سالانہ خالص منافع یا سود  کو حضرت زہرا(س) کی خدمت میں لاکر حوالہ کر دیتے تھے۔فدک کا سالانہ درآمد، سترہزار طلا‏ئی سکے سے ایک لاکھ بیس ہزارسونے کے سکے ذکر ہوا ہے۔[16]

حضرت زہرا(س) ہرسال اپنے مختصر مخارج کو نکال کر باقی سب فقراء کے درمیان تقسیم کر دیتی تھیں۔ اور رسول خدا(ص) کی رحلت تک یہی شیوہ جاری تھا۔[17]

‍‍ ابوبکر اور فدک کا حرجانہ

     ماجرای  سقیفہ اور غصب خلافت کے  فوراْ  بعدفدک کو حضرت زہرا (س) کے قبضے سے خارج کرنا ،خلیفہ وقت کا  سب سے اہم اور  پہلا اقدام  تھا۔ ابوبکر  نے جب مسند خلافت پر تکیہ لگا کر مسلمانوں کے  امیر بن بیٹھے، تو ا پنے بعض  سیاسی مقاصد کے  تناظر میں سب سے پہلے خاندان رسالت کے مال و دولت پر طمع کیا ،اور  اسی سلسلے  میں "نخلستان فدک"  جوکہ  اھلبیت (ع) کی سب سے بڑی  دولت اور جا‏ئداد شمار ہوتی تھی، اسے ہڑپ کرکے  بیت المال میں ضم کر دیا۔  اور وہاں سے حضرت زہرا(س) کے نمایندے اور عملوں کوزبردستی اخراج کردیا ۔ اگر چہ اس کام کا کوئی شرعی جوازیت اسکے پاس نہیں تھی، بلکہ صرف اپنی حکومت کو  استحکام بخشانے کی غرص سے اس  ناجائز فعل کا مرتکب ہوا۔ انہوں  نے اپنے اس فعل کو شرعی رنگ لگانے کے لئے ایک حدیث بھی گڑی  جس کا راوی   بھی تنہا خود ہے اور ان کے علاوہ کوئی دوسرے صحابی  نے  نقل نہیں  کیاہے۔

  صحیح بخاری میں حضرت عائشہ سے نقل ہوا ہے کہ  ابو بکر نے جناب زہرا(س) کی طرف سے غصب فدک کے متعلق کیئے ہوئے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا:

"إنّ رسول اللّه قال: لانورث ما ترکناه صدقة"؛[18]رسول خدا (ص)نے فرمایا: ہم ارث نہیں چھوڑتے ہیں، جو کچھ ہمارے بعد  رہ جائے وہ سب صدقہ ہے۔

او بعض دوسرے منابع میں اس طرح سے نقل ہوئی ہے: "نحن معاشر الانبیاء لانورث"۔

 ہم انبیاء کی جماعت،ارث نہیں چھوڑتے ہیں۔[19]  

     نیز بخاری نے جناب  عائشہ سےمزید  نقل کیا ہے ،   ابو بکر نے اسی بناء(حدیث) پر فدک کو واپس لٹانے سے انکار کیا، اسی  وجہ سے جناب زہرا(س) ابوبکر پر غضب ناک ہوئیں اور   آخری عمر شریف تک  ابوبکر سے بات نہیں کی۔  پیامبر(ص) کی وفات کے بعد انہوں نے صرف چھے مہینے زندگی کی اور  جب رحلت کرگئی  تو علی(ع) نے ان کو شبانہ دفن کیا اور ابوبکر کو تدفین  اور نماز کی خاطرخبر نہیں کی، اور  امام(‏ع) نے خود نماز پڑھ لی۔[20]

    صحیح بخاری کی  اس حدیث سے  معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکر نے  حضرت زہرا(س) کو  ازیت اور ان کے احساسات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ پس ابو بکر  نے اپنے غیر زمہ دارانہ عمل کے ذریعہ نہ صرف جناب زہرا کا دل دکھایا ہے   بلکہ  اللہ اور  اس کے رسول کو بھی غضبناک کیا ہے۔ چنانچہ روایت میں ہے :  

"إن الله يغضب لغضبك ويرضى لرضاك"[21] رسول خدا(ص) نے  جناب زہرا(س) سے مخاطب ہو کر فرمایا: یقینا خداوند آپ کی رضاء  پر راضی اور  آپ کی  نارضایتی پر ناراضی ہے۔

 "فاطمۃ بصضعۃ منی فمن اغضبھا اغضبنی"۔[22]

 فاطمہ(س) میرا  حصہ ہے، جس نے انکو غضبناک کیا،اس نے مجھ کو غضبناک کیا ہے۔

  حضرت زہرا(س) کا  عدم رضایت، صرف  خلیفہ اول  تک محدود نہیں ہے،  بلکہ خلیفہ دوم بھی اس میں شامل ہے، اب یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ  غصب خلافت اور فدک ، کے حوالے سے ان دونوں کا موقف یکسان تھا۔

 چنانچہ جناب "عبد المنعم حسن  سودانی" نے اپنی تحقیقی کتاب" اھتدیت بنور فاطمہ"( نور فاطمہ(س) کی برکت سے مجھے  ہدایت ہوئی) میں اس موضوع پر مفصل بحث کی ہے۔

      ابن قتیبہ نے اپنی  تایخی کتاب میں نقل کیا ہے:ابوبکر اور  عمر دونوں حضرت زہرا(س) کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور جب آپ(س) کے  پاس میں بیٹھ گئے، تو حضرت زہرا(س) نے  اپنا رخ پھیرکر دیوار کی طرف   رخ کیا۔۔۔ ، اس کے بعد ان دونوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: آگر میں رسول خدا(ص) سے ایک حدیث نقل کروں ،تو کیا  آپ لوگ اس کو پہچان لوگے؟ اور اس پر عمل کروگے؟ انہوں نے  جواب مثبت میں دیا  ۔  حضرت(س) نے  فرمایا: " تمہیں خدا اور اس کے رسول(ص) کی قسم دے کر کہتی ہوں، کیا رسول خدا(ص) سے نہیں سنا تھا کہ آپ(ص) نے  فرمایا:  فاطمہ(س) کی خوشنودی میری خوشنودی ہے اور  ان کے ‏غم اور ناخوشی میری ناخوشی ہے، پس جس نے میری بیٹی فاطمہ(س) سے دوستی رکھی،  اس نے مجھ سے دوستی رکھی ہے،  جس نے ان کے خوشحال کیا، اس نے مجھ کو خوشحال کیا ہے، اور جس نے ان کو غضبناک کیا، اس نے مجھ کو غضبناک کیا ہے" ان دونوں نے جواب دیا: ہاں؛  ہم نے یہ حدیث  رسول اللہ  (ص) سےسنی ہے! حضرت زہرا(س) نے فرمایا: پس میں  اللہ اور  فرشتہ گان کو گواہ رکھ کر اعلان کرتی ہوں کہ تم لوگوں نے  مجھ کو غضبناک کیا ہے،مجھ کو خوشحال نہیں کیا ہے، اگر میں رسول خدا(ص) سے روبرو ہوجاؤں، تو   آپ(ص) سے تمہاری شکایت کرونگی۔ اس کے بعد مزید فرمایا: خداکی قسم! ہر نماز میں تمہارے لئے نفرین کرونگی۔[23]

غصب فدک کے بعد حضرت فاطمه (س) کے  عملی اقدامات

الف:اسناد کی پیشکش

   حضرت امام محمد باقر(ع) سے روایت ہے ،  جب   ابو بکر نے  غاصبانہ طور پر فدک پر قبضہ جمایا، تو  حضرت زهرا عليهاالسلام نے ابوبکر سے فدک کی واپسی کا تقاضا کیا اور اس کے متعلق پیامبر اکرم(ص) کی تحریری سند کو بھی پیش کیا، نیز ابوبکر سے مخاطب ہوکر فرمایا: یہ رسول خدا(ص)کی وہ تحریری  سند ہے ،جس میں پیامبر(ص) نے فدک کو مجھے اور میرے فرزندان کو بخشایا ہے۔[24]

       اگر غائر نگاہ سے  ملاحظہ کیا جائے تو  معلوم ہواتاہے کہ حضرت(س)    اس عکس العمل  کے ذریعے  ابوبکر  کے اس بےتکانہ  ادعا کو  مسترد کر  دینا چاہتی ہیں، جس میں وہ پیامبر(ص) کی ارث کا بہانہ بناکر  فدک کو  چھینے  کی راہ  ہموار کرنا چاہتا تھا۔  یعنی حضرت زہرا(س) نے  اس بات کی یادآوری کی کہ  فدک ،رسول خدا(ص) نے اپنی حیات میں ہی  عطیہ اور بخشش کے طور پر عطاکیا تھا، ایسا  ہرگز  نہیں  ہے کہ  یہ ارث کے طور پر ملا ہو،   چونکہ ارث اس ترکہ کو کہا جاتا ہے جو انسان  کی  موت کے بعد اس کے وارثین  کومنتقل ہوتاہے،جبکہ فدک کا قضیہ اس کے برعکس ہے۔

     واضح رہے کہ جس روایت سے ابوبکر نے  غصب فدک کے سلسلے میں استناد کیا،  وہ  سند کے  اعتبار سے ضعیف ہے اور  بقول ابن ابی الحدید، متکلمین  اور فقہاء نے اس حدیث کی مخالفت کی ہے۔ اور علماء نے اس  پر عمل نہیں کیا ہے[25]۔

  ابو بکر کی اس حدیث کے حوالے سے چند نکات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے۔

 اس زمانے تک ابوبکر کے سوا کسی دوسرے صحابی نے اس حدیث کو  پیامبر(ص) سے نہیں سنا تھا ، اور  بہت سارے محدثین  نے اس بات  کا اعتراف کیا ہے۔  البتہ بعد میں مالک بن اوس، عمر، زبیر،طلحہ اور عائشہ نے اس قول کی تائید کی۔[26]

2۔ ایک طرف سے ابو بکر تنہا اس حدیث پیامبر(ص) کے ناقل ہے ، اور اس کے مقابل میں حضرت زہرا(س)، حضرت علی(ع) اور ام ایمن  تینوں   رسول خدا(ص)  کے کردار اور سخن کے  ناقلین ہیں،  جو  سب مل کر  گواہی دے رہے ہیں کہ فدک کو رسول خدا(ص) نے اپنی حیات میں جناب زہرا کو  بخشایا تھا،  اس کے علاوہ  یہ حضرات  معمولی  انسان  نہیں ہیں بلکہ  آیات قرآن اور احادیث نبوی، ان کی صداقت اور پاکیزہ گی پر مؤید ہیں، لہذا   ابوبکر کے قول کے مقابلے میں ان کے قول معتبر  اور قبول کرنا   ناگزیر بن جاتا  ہے۔

یہ حدیث، ان  متعدد آیات قرآنی سے منافات رکھتی ہے، جن میں  میراث انبیاء(ع) کا تذکرہ ہوا ہے۔ اور یہ بات عیاں ہے کہ صرف ایک ضعیف روایت کو لے کر متعدد آیات قرآنی کے مقابلے میں  مقاومت کرنا درست نہیں ہے۔

4۔ اگر فرض کریں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور پیامبر اکرم(ص) نے کسی قسم کی ارث نہیں چھوڑی ہے، تو ایسا کیونکر ممکن ہے کہ  خود اہل سنت کے نقل کے مطابق پیامبر (ص) کے  اموال میں سے بعض چیزیں جیسے آنحضرت(ص) کے شخصی  وسایل اور حجرے ارث کے طور پر جناب زہرا(س) کو ملے تھے؟!۔[27]

ب): حضرت زہرا(س) کا ابوبکر اور عمر کے سامنے دلائل کی پیشکش۔

   حضرت فاطمه (س) کو جب معلوم ہوا کہ  خلیفہ کے حکم پر اپنے مسلمہ حق کا تاراج ہواہے تو   فورا ْ  اس مجلس کی طرف روانہ ہوئی جہاں ابوبکر اور عمر بعض دوسرے افراد کے ہمراہ   حاضر تھے، اور ان پر احتجاج کرتے ہوئے اپنی حقانیت  کے اثبات کے  سلسلے میں اور ان کے غاصب ہونے کے  حوالے سے ٹھوس دلیلوں کا  اقامہ کیا ۔

   ان  شواہد اور دلائل میں سے بعض جن کے ذریعے حضرت(س) نے اپنے ادّعا کی صداقت کے سلسلے میں دلیل کے طور پر پیش کیا ، وہ درجہ ذیل موارد پر مشتمل ہیں:

  اوّل یہ کہ، پيامبر صلى الله عليه و آله کی حیات  کے زمانے میں فدك زیر تصرف حضرت زہرا(س) تھا۔

2۔ یہ کہ، حضّار مجلس نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ رسول خدا(ص) نے جناب زہرا(س) کو خواتین جنت کے سررار قراردے دیا تھا، لہذا اس عظیم ہستی سے باطل ادّعا کا سرزد ہونا، تصوّر سے باہر ہے۔

3۔ یہ کہ، حضرت‎(س) کا شمار، اھلبیت پیامبر(ص) میں ہوتا ہے اور نص آیہ تطہیر کے مطابق خدا وند متعال نے انہیں ہر قسم کی پلیدی اور رجس سے پاک و منزہ قرار دیا ہے۔ لہذا کسی قسم کی دلیل کے بغیر ان کو جھٹلانا تو دور، ان کے بر علیہ شہادت کا قبول کرنا بھی ناجائز بن جاتا ہے۔

4۔ یہ کہ، اللہ نے فدک کے سلسلے میں آیت نازل کی، اور پیامبر(ص) کو حکم ہوا کہ اپنے قرابت داروں کو،اپنا حق ادا کرو۔

"فَآتِ ذَا الْقُرْبى حَقَّهُ"؛ اور قرابتداروں سے مراد حضرت(س) اور ان کے فرزندان ہیں۔

5۔ یہ کہ، فدک اس وقت حضرت زہرا(س) کے قبضے میں تھا، اور فقہی قاعدے کے مطابق اس شخص سے گواہ طلب نہیں کیا جاتا جس کے قبضے میں مال ہو، بلکہ مدّعی سے شہادت طلب کیا جاتا ہے، لہذا جناب زہرا(س) سے  فدک کی مالکیت کے سلسلے میں شہادت طلب کرنا، جبکہ فدک سالوں سال سے ان کے قبضے میں تھا، شرعی ضوابط کے خلاف ہے۔

ج)؛ جناب زہرا(س) کی طرف سے گواہوں پیش کرنا

    ابو بکر اور عمر نے  دلائل کے باوجود ، حضرت زہرا(س)  سے اپنے ادّعا کو  ثابت  کر نے کے حوالے سے،گواہیں پیش کرنے  کی درخواست کی اور حضرت(س) نے گواہوں کے طور پر امیر المؤمنین( علی) ، حسنین(ع) اور جناب ام ایمن  کو  حاضر کیا۔ لیکن عمر نے  امام علی(ع) اور حسنین (ع) کی  شہادت کو رشتہ داری کا  بہانہ کرکے  قبول کرنے سے انکار کیا۔  اور   اسی طرح ام ایمن کی گواہی کو بھی  نوکرانی اور عجمی ہونے کا  بہانہ کرکے مسترد کردیا![28]

 د)؛ حضرت فاطمه سلام الله علیها کا مسجد میں خطبه

     جب حاکم وقت کی جانب  سے فدک  کا رسول خدا(ص)  کی حیات  پربرکت میں جناب فاطمہ(س) کو ھبہ یا بخشش کے  طور پر عطاء کرنے  کی تصدیق نہیں ہوئی! تو آپ(س) نے  ارث کے عنوان پر  اپنے حق  کو حاصل کرنے کی ٹھان لی،    لہذا  حضرت زہرا(س) اپنے استحقاق حق کے سلسلے میں مزید اقدام کرتے ہوئے اس بار، بنی ہاشم کی بعض خواتین کے ہمرا مسجد کی طرف تشریف لے گئیں۔ اور  ایک  فصیح و بلیغ  خطبے کے ذریعے لوگوں پر اتمام حجت، نیز  ابو بکر کی طرف سے  خلافت اور  فدک کے غصب کرنے  پر  سختی سے اعتراض کیا۔ اس  خطبے میں سے وہ مطالب جو  فدک کے متعلق ہیں، یہاں پر اشارہ کردیتے ہیں۔

 چنانچہ حضرت فاطمہ زہرا(س) نے  مسجدمیں حاضر لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایا:

اور تم لوگوں نے یہ گمان کیا کہ ہمارے لئے کوئی ارث نہیں ہے؟

"أَ فَحُكْمَ الْجاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَ مَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْماً لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ"۔[29]

   کیا یہ لوگ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں جبکہ صاحبان یقین کے لئے اللہ کے فیصلہ سے بہتر کس کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔

 کیا یہ نہیں جانتے ہیں؟ ہاں؛  تم لوگوں کو بخوبی علم ہے کہ میں کس کا  فرزند ہوں، اوریہ تمہارے نزدیک آفتاب کی مانند روشن ہے۔

   ای مسلمانو! کیا یہ شائستہ ہے کہ مجھ سے میرے باپ کی ارث چھین لیا جائے؟! ای ابو قہّافہ کا بیٹا( ابوبکر) کیا اللہ کی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ تم اپنے باپ کی ارث تو لے سکتے ہو،  اور میں اپنے باپ کی ارث  سے محروم رہ جا‎‎ؤں؟! تم نے نہایت ہی گٹھیا اور تازہ امر کو لایا ہے۔ کیا تم   دانستہ طور پر اللہ کی کتاب کو ترک کر رہے ہو؟  کیا قرآن اس بات کی طرف اشارہ نہیں کررہا ہے:

"وَ وَرِثَ سُلَیْمانُ داوُدَ"[30]

اور پھر سلیمان داوود کے وارث ہوئے۔

  نیڑ قرآن حضرت ذکریا(ع) کے حوالے سے  فرماتا ہے: "فَهَبْ لی مِنْ لَدُنْكَ وَلِیّاً یَرِثُنی وَ یَرِثُ مِنْ الِ‏یَعْقُوبَ"[31]

تو اب مجھے ایک ایسا ولی اور وارث عطا فرمادے جو میرا  اور آل یعقوب کا وارث ہو۔

 اور  مزید فرماتا ہے:"وَ اوُلُوا الْاَرْحامِ بَعْضُهُمْ اَوْلی بِبَعْضٍ فی كِتابِ اللَّهِ"[32]

 اور کتاب اللہ کی رو سے رشتے دار، آپس میں مؤمنین اور مہاجرین سے زیارہ حقدار ہیں۔

" یُوصیكُمُ اللَّهُ فی اَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ"[33]

 اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں ہدایت فرماتا ہے، ایک لڑکے کا حصہ دوکڑکیوں کے برابر ہے۔

" ۔۔۔انتَرَكَ خَیْراً الْوَصِیَّةَ لِلْوالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبَیْنِ بِالْمَعْرُوفِ حَقّاً عَلَى الْمُتَّقینَ"[34]

 جب تم میں سے کسی کی موت سامنے آجائے تو اگر کوئی مال چھوڑا ہے تو اپنے ماں باپ اور قرابتدارون کیلئے وصیت کردے یہ صاحبان تقوا پرایک طرح کاحق ہے۔

 کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ مجھے اپنے والد کی طرف سے کوئی سھمیّہ یا حصہ نہیں نصیب ہوا ہے؟ کیا اللہ نے تم پر کوئی نئی آیت نازل کی ہے  جس کے مطابق میرے والد کو باقی لوگوں سے استثناء (مستثنی) قرار دیا گیا ہے ؟! یا یہ کہنا چاہتے ہو کہ  دو  الگ دین کے مانے والے  ایک دوسرے سے ارث نہیں لیتا؟، کیا میں اور ومیرے والد کے دین الگ ہے؟! یا یہ کہ تم قرآن مجید کے عام وخاص کے سلسلے میں میرے والدگرامی اور میرے چچازاد(علیؑ) سے زیادہ علم رکھتے ہو!؟

      اب یہ تم ہو اور یہ تمہارے لگام اور زین زدہ اونٹ،اس کو پکڑ اور لیجا!(یہ جملہ کنایتاْ  استعمال ہواہے اس سے مراد "اب تم جو کرنا چاہتے ہو کر لو" ہوسکتاہے)۔ اور میں قیامت کے دن تم سے ملاقات کرونگی۔ کس قدر،اللہ بہترن فیصلہ کرنے والا اور پیامبر(ص) عدالت کرنے والا ہے،اور روزقیامت کس قدر نیک وعدہ گاہ ہے، اس دن اہل باطل زیان اور گھاٹے میں ہوگا، اور اس دن پشیمانی تمہارے لئے سودمند ثابت نہ ہوگا، اور ہر ایک اخبارکے لئے ایک قرارگاہ معیّن ہے، پس عنقرب جان لوگے کہ ذلیل و خوار کرنے والے عذاب، کس پر نازل ہوتا ہے، اور جاودانہ عذاب کس کے شامل حال ہوتاہے۔[35]

 خاتون جنت  فاطمہ زہرا(س) سے فدک  غصب کرنے کے  سیاسی عوامل اور وجوہات

     خلیفہ وقت کے توسط سے حضرت زہرا(س) سے فدک کا غصب کرنے کا مقصد صرف ایک مالی اور اقتصادی مسائل تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس کا اقتصادی پہلو صرف ظاہری پہلو شمار ہوتا ہے، جبکہ اس کا اصلی مقصد پیامبر اکرم(ص) کی رحلت کے بعد  رونما ہونے والے سیاسی صورتحال میں ہی مضمر ہے، لہذا موضوع فدک کو  اس زمانے کے دیگر حوادث  اور سیاسی جریانات سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔

اس تاریخی غاصبانہ اقدام کے  وجوہات ،در جہ ذیل عوامل ہو سکتے ہیں:

1۔ فدک کا   خاندان پیامبر(ص) کے ہاتھ میں رہنا، ایک  بہت بڑا معنوی امتیاز  محسوب ہوتا تھا، اور  ایسا ہونا اس بات کی ٹھوس دلیل تھی کہ اللہ  تعالی کے نزدیک اس خاندان  کا ایک خاص مقام اور منزلت  ہے، اور یہ حضرات،   پیامبر(ص) کے نزدیکترین  رشتہ دار ہیں۔ خاص کر ایسا ہونا اس بات سےاور واضح ہوجاتا ہے کہ، روایات شیعہ اور اہل سنت کی رو سے چنانچہ اس سے قبل بھی اشارہ ہوا،جب آیہ «و آت ذالقربی حقه» نازل ہوئی پیامبر(ص) نے فاطمه(س) کو  طلب کیا اور سرزمین فدک کو انہیں بخشایا۔

     واضح ہے کہ فدک کا ان تمام فضائل اورایک خاص مستقل تاریخ کے ہوتےہوئے، یہ اہلیبت(ع) کے قبضے میں رہنا، اس بات کا باعث بن جاتا تھا کہ لوگ پیامبر (ص) کے باقی آثار، خاص کر مسئلہ خلافت اور آپ(ص) کے جانشینی کو بھی، اسی  نجیب خاندان میں جستجو کریں۔ اور ایسا ہونا دشمنان اھلبیت(ع) کے لئے ہرگز گوارا نہیں ہوسکتا تھا۔

یہ مسئلہ ،سیاسی ابعاد کے علاوہ اقتصادی اعتبار سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل تھا،چونکہ اگر امیر ا لمؤمنین علی(ع) اور ان کے  خاندان ایک شدید معیشتی مشکلات  سے روبرو ہوتے، تو  ان کی سیاسی قوت اور  اثر رسوخ بھی تقلیل یا کمزور پڑھ جاتے۔  دوسری عبارت میں سرزمین فدک کا ان بزرگواروں کے ہاتھ میں ہونا، مسئلہ ولایت کے سلسلے میں ایک  مضبوط  پشت پنا ہ ثابت ہوسکتا تھا،چنانچہ اس سے پہلے صدر اسلام میں حضرت خدیجہ(س) کے وافر  اموال،  اسلام کی پیشرفت  کے سلسلے میں انتہائی کارآمد ثابت ہوا تھا۔

      ہمیشہ سے مخالفین حق اور مستکبرین عالم کا، اپنے  مدمقابل کو تسلیم ہونے پر وادار کرنے  کے سلسلے میں، یہی غیر انسانی رفتار اور شیوہ رہا ہے۔ چنانچہ تاریخ اسلام میں، یہ واقعہ  ثبت ہوچکا ہے  کہ دشمنان اسلام نے جب یہ دیکھا کہ سول خدا(ص) اور ان کے  پیروکار، جنگ یا  طرح طرح کے مختلف حربوں سے مرعوب نہیں ہو تے، اور  اپنے اسلامی مشن کو آگے بڑھانے  پر مصر ہیں،  تو  ان کو شکست دینے کی غرض سے  ان پر شدید ترین اقتصادی پابندیاں لگائی۔  مسلمانوں کے ساتھ ہر قسم کی  اقتصادی اور  ثقافتی معاملہ کرنا ممنوع قرار دیا گیا، رسول گرامی اسلام (ص) اور مسلمانوں کو ایک تنگ درّے( شعب ابی طالب) کے اندر مسلسل  تین سال تک محاصرہ کر کے رکھے گئے،  اور مختلف قسم کی سختیاں جیلنے پر مجبور کیا۔

          استکبارجہانی کا  یہ  مزموم شیوہ آج بھی  اپنے تمام تر  قوت کے ساتھ باقی اور  بدستور جاری ہے۔ آج امیریکہ جوکہ شیطان اکبر کے نام سے مشہور ہے ، تمام دنیا کو اپنا غلام بنانا چاہتا ہے ،اور اگر کوئی ملک ان کے حکم سے  سرپیچی کرے تو  اس پر  سخت ترین اقتصادی پابندیاں عائد کرکے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرتا ہے، آج کیوبا، شمالی کوریا اور  جمہوری اسلامی ایران جیسے ممالک سالوں سے  ان غیر انسانی اور غیر اخلاقی رفتار  کے زد میں ہیں۔  اگرچہ دنیا کے متعدد ممالک ایسی مشکلات سے  دچار ہیں،  لیکن استکبار جہانی کا معادنانہ رفتار جمہوری اسلامی ایران کے ساتھ باقی ممالک کے بہ نسبت پیچیدہ اور انوکھا ہے، اس کی  وجہ  مملکت  ایران کا  منفرد خصوصیت کا حامل ، "انقلاب اسلامی" ہے۔ جوکہ  کامیابی کے دور سے لیکر آج تک ان مستکبرین جہان کی آنکھوں کی دھول بنی ہوئی ہے، اور  ان کی مخاصمانہ سازشوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر مضوط چٹان کی طرح کھڑا ہے۔ در اصل   اسلامی انقلاب نے عملی طور پر یہ ثابت کردیا ہے کہ  امریکا اور صہیونی ریاست کے مقابلے میں استقامت اور مقاومت کر کے بھی،  ترقی اور پیشرفت کو  تیزی سے جاری رکھا جا سکتا ہے۔  یاد  رہے کہ آج  "جمہوری اسلامی ایران" ان تمام  مشکلات اور  رکاوٹوں کے باجود، مختلف فیلڈ میں، جیسے سائنس اور ٹکنالوجی، اور  دفاعی سکٹر میں، مشرق وسطی کے اندر  پہلا مقام اور پوری دنیا میں  ان ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتا ہے ،جن کی تعداد بہت کم ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے  میں  خطے کے  وہ  ممالک جو امریکا کو اپنا آقا ء سمجھتے ہیں، سب ایران سے بہت پیچھے ہیں۔  اس سال  دنیا کا معتبر ترین ادارہ گلوبل فائر پاور(Global fire power) کی  جانب سے ایران کو دنیا کا تیرواں سب سے  طاقتور ملک  قرار دے دیا ،جبکہ اسرائیل اور سعودی عربیہ جو کہ  اپنی اسلحوں اور فوجی طاقت پر فخرفروشی ،  اور جمہوری اسلامی ایران پر آئے دن حملہ کرنے کے ڈنڈورے پیٹتے  رہتےہیں، ان  کا رتبہ  ایران سے بہت پیچھے ہے ۔  درواقع ایران کے اس شائستہ شاہکار نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیاہے۔

3۔ اگر یہ لوگ   اس موقع پر فدک کو میراث ، بخشش  اور ہبہ کے عنوان پر، حضرت زہرا(س) کے اختیار میں قرار  دے دیتا،  تو   خود بخود مسئلہ  خلافت کے مطالبہ کے لئے بھی راہ ہموار ہوجاتا،  اس بات کا اشارہ ، ا ہل سنت  کے ایک دانشمند  ابن ابی الحدید نے

 "شرح نہج البلاغہ" کے اندر ایک ظریف انداز میں  یوں  کیا ہے:

 میں نے اپنے استاد(علی بن فاروقی) مدرس بغداد، سے سوال کیا: کیا حضرت فاطمہ زہرا(س) فدک کی مالکیت کے متعلق کئے  ہوئے  دعوے میں صادق(سچی) تھیں؟

 انہوں نے کہا:ہاں!

میں کہا: تو پھر خلیفہ اول نے ان کو فدک کیوں نہیں دیا ،جبکہ فاطمہ(س) ان کے نزدیک راستگو (سچّی) تھیں؟

 یہ سن کر ان نے تبسم کیا ؛ اور ایک خوبصورت  اور طنزیہ انداز میں کہا،  جبکہ انہیں  ہرگز شوخی اور  مزاق کرنے کی عادت نہیں تھی۔

"لو اعطاها الیوم فدکاً بمجرد دعواه لجائت الیه غداً و ادعت لزوجها الخلافة و زحزحته من مکانه، و لم یمکنه لاعتذار و المدافعة بشیئی لانه یکون قد اسجل علی نفسه بانها صادقة فیما تدعیه، کائنا ما کان، من غیر حاجة الی بینة"

      اگر اس وقت ابوبکر فدک کو صرف حضرت زہرا(س) کی مالکیت کا دعوا کرنے کی بناء پر انہیں واپس کردیتا،تو کل وہ  دوبارہ ابوبکر کے پاس آکر، اپنے شوہر کے لئے خلافت کا دعوا کر دیتی! اور ان کو منصب خلافت سے بر کنار کردیتی،اور اس دعوے کے مقابلے میں ابوبکر کے پاس عذر یا دفاع کے لئے کوئی راستہ باقی نہ رہ جاتا، چونکہ اس نے فدک کو تحویل دے کر گویا یہ قبول کر لیا تھا کہ جو کچھ  جناب زہرا(س) دعوا کرے، وہ سچ اور حقیقت ہے، اور اس سلسلے میں بیّنہ اور دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔

  ابن ابی الحدید اس داستان کے بعد لکھتا ہے : اگرچہ میرے استاد نے اس کو مزاحیہ انداز میں بیان کیا، لیکن یہ ایک واقعیت ہے۔[36]

    اہل سنت کے ان دو معروف دانشمندوں کے اعتراف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ داستان فدک، کس حدتک سیاسی پہلو رکھتا ہے۔

4۔ در اصل فدک کی مالکیت کا دعوا، ایک بہت بڑے مسئلے کی حقیقت کے سلسلے میں ایک مقدمے کی مانند تھا، اور  وہ اساسی مسئلہ،  ولایت امیر المؤمنین (ع) اور  پیامبر (ص)کے جانشینی کا مسئلہ تھا، تاریخی شواہد اور قرائن کے علاوہ،  ائمّہ معصومین (ع) کی سیرت و احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زہرا (س)  فدک کے موضوع کو صرف  مالی اور اقتصادی پہلو کو مدنظر رکھ کر، خلیفہ وقت کو نہیں للکارا تھا، بلکہ ان کا اصلی ہدف اور مقصد، رسول خدا(ص) کی  جانشین برحق کے مبینہ طور پر تاراج کیا ہوا مسلّمہ حق کی بازیابی اور ان کے حقوق سے دفاع کرنا تھا۔

  چنانچہ امیرالمؤمنین علی(علیه السلام) نهج البلاغه  نامہ 45 میں عثمان بن حنیف کو مخاطب کر کے  فدک کے مسئلہ کو اس انداذ میں بیان فرمارہے ہیں:

"۔۔۔بَلَى كَانَتْ فِي أَيْدِينَا فَدَكٌ مِنْ كُلِّ مَا أَظَلَّتْهُ السَّمَاءُ، فَشَحَّتْ عَلَيْهَا نُفُوسُ قَوْمٍ وَ سَخَتْ عَنْهَا نُفُوسُ قَوْمٍ آخَرِينَ، وَ نِعْمَ الْحَكَمُ اللَّهُ. وَ مَا أَصْنَعُ بِفَدَكٍ وَ غَيْرِ فَدَكٍ؟وَ النَّفْسُ مَظَانُّهَا فِي غَدٍ جَدَثٌ۔۔۔"[37]

جی ہاں؛ جن اشیاء پر آسمان کا سایہ ہے، ان میں سے صرف فدک ہمارے ہاتھ میں تھا،پس بعض لوگوں نے اس پر بھی بخل کیا اور بعض لوگوں نے سخاوتمندانہ انداز میں اس کے بہ نسبت چشم پوشی کی، بہترین حکم اللہ کی زات ہے،ہمیں فدک اور غیر فدک سے کیا کام جبکہ انسان کی منزل قبر ہے۔

 امیرالمؤمنین علی(ع) کی یہ نورانی کلام چند اہم مسئلوں مشتمل ہے۔

1۔"کانت فی أیدینا" یہ جملہ واضح طور پر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سرزمین فدک پر ان کا قبضہ تھا۔

"فَشَحَّت علیها نفوس قوم" یہ جملہ اس اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ فدک کو ایک قوم نے غصب کیا تھا۔

" سَخَت عنها نفوس قوم آخرین " اس جملے سے مراد یہ ہے کہ بنی ہاشم کی قوم یا انصار نے اس موضوع پر سکوت اختیار کیا۔

"نعمَ الحَکمَ الله"یہ جملہ امام(ع) کی مظلومیّت کی غمازی کرتا ہے جو رحلت رسول(ص) کے بعد روا ہونے والے ظلم و زیادتی کی طرف اشارہ ہے۔ لہذا امام(ع) فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔

امام علی(علیه السلام) آگے جاکر  متاع دنیا کے بہ نسبت اپنی بے رغبتی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

" و ما أصنَعُ بفدک و غیر فدک، و النفسُ مظانّها فی غدٍ جَدَثٌ"۔

      امام (ع) نے یہ جملہ اس لئے فرمایا کہ آیندہ آنے والے لوگ جب تاریخ کے اندر جستجو کرینگے، تو معلوم ہوجائے گا ،  فدک کی بازیابی کے سلسلے میں تلاش کرنا، دنیا پرستی،مال دنیا کی طرف رغبت اور لالچ کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ "فدک" اپنے پائمال شدہ

 "حق "یعنی خلافت اور جانشینی پیامبر(ص) کا ایک شاخص تھا۔

    امیر المؤمنین علی(ع) کے بعد باقی ائمّہ معصومیں(ع) نے بھی مسئلہ "فدک"کو ہر گز فراموش نہ ہونے دیا چونکہ اگر یہ تاریخ میں محو ہوجاتا،  تو ولایت اور خلافت کا مسئلہ بھی تاریخی افسانوں میں تبدیل ہوجاتا،چنانچہ غاصبین خلافت کے طرفداروں کی یہی کوشش رہی ہے۔ لہذا ائمہ ھداء(ع) نے اس موضوع کو خلافت کی مضوع سے الگ نہ ہونے دیا۔ اور اس مسئلے کا زندہ ثبوت تاریخ میں امام کاظم علیه السلام اور ہارون رشید کی بیچ ہونے والی گفتکو ہے۔

     هارون الرشید نے امام کاظم(ع)  سے عرض کیا کہ فدک کو اپنے قبضے میں لے لو، امام علیه السلام نے قبول نہیں کیا۔ اورجب هارون نے   اپنےموقف پراصرار کیا تو وامام کاظم(علیه السلام)نے فرمایا:"میں فدک کو اس شرط پر قبول کرونگا  کہ اس کے تمام حدود کو معین کرکے ہمیں بخشایا جائے۔ ہارون ہے کہا:  اس کے حدود کیا ہے؟ امام(ع) نے فرمایا: اس کی پہلی حدعدن ہے، یہ سنتے ہی ہارون کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ دوسری حد سمرقند ہے، تیسری حد افریقا اور اس کی چوتھی حد بحر خذر اور ارمنستان ہے۔ ہارون رشید جوکہ بہت پریشان تھا، طیش میں آکر کہا:«فلم یبق لنا شیء»؛ «پس ہمارے لئے کچھ باقی نہیں رہ جاتا ہے۔[38]

  امام(علیه السلام) حدود فدک کو اس طرح ترسیم کیا کہ ہارون رشید کی حکومت کی تمام حدود کو شامل ہوتا تھا۔ در اصل امام(ع) نے ہارون کو یہ پیغام دینا چاہا کہ فدک صرف زمین کے ایک ٹکڑے تک محدود نہیں ہے،  بلکہ یہ مظلومیت اهلبیت(علیهم السلام) اور حاکمان ظلم وجور کے ہاتھوں غصب شدہ، خلافت اور جانشین رسول خدا(ص) کا ایک زندہ نمونہ اور شاخص ہے اور  یہ مسئلہ تا قیام قیامت لوگوں کے اذہان میں باقی رہے گا۔

مختلف ادوار تاریخی میں مالکیّت فدک کی کیفیت

     سرزمین فدک خلفاء  ثلاثہ  کے بعدمختلف ادوارتاریخ میں، بنی امیہ اور بنی عباس کے خلفاء کے قبضے میں رہا ہے۔ صرف بعض مختصرمقاطع تاریخ میں  اولاد فاطمہ(س) کے ہاتھ میں تھا۔
 بنی عباس کے خلفاء جن کے قبضے میں" فدک" رہا تھا،  ان کے اسامی بترتیب اسطرح سے ہیں:

۱. عمر بن عبدالعزیز،۲۔ ابوالعباس سفاح، ۳. مهدی پسر منصور عباسی، ۴. مأمون.

    مامون کے بعد، متوکل عباسی نے دستور دیا کہ فدک کی مالکیت کو دوبارہ اپنی سابقہ حال(یعنی مامون سے پہلے کی حالت) کی طرف پلٹایاجائے۔ اکثر تاریخی کتابوں نے متوکل عباسی کے دور کے بعد فدک کی وضعیت کے حوالے سے کوئی تذکرہ نہیں کیا ہے۔
 لکھا ہے کہ مامون عباسی نے ارادہ کیا کہ فدک کو اولاد حضرت فاطمہ(س) کو واپس دلوایا جائے۔  لیکن بہت سارے افراد نے اس کی مخالفت کی، لہذا  مامون نے اس زمانے کے  دو سو سے زائد برجستہ علماء کو اپنے شاہی در بارمیں مدعو کرکے ان سے تقاضا کیا کہ، فدک کو اولاد فاطمہ(س) کی ملکیت میں دینے کے حوالے سے اپنی آراء  کو بیان کیا جائے۔ مجلس میں حاضر دانشمندان  نے کافی بحث و مباحثے کے بعد  ، یہ حضرات اس نتیجے پر پہنچے کہ فدک چونکہ حضرت زہرا(س) کی ملکیت تھی، لہذا آج اس کو انہی کے وارثین اور اولاد کے سپرد کرنا چاہئے۔ اس فیصلے کے بعد مخالفین نے پھر سے اس فیصلے  کے سلسلے مین تجدید نظر کرنے کی اپیل کی اور اپنےموقف پر سختی سے اصرار کیا۔

    فدک کو اولاد زہرا(س) کے تحویل میں دینے کے اس فیصلے کی مخالفت کر نے والوں کے اصرار اور دبا‎ؤ کو دیکھ کر، مامون نے دوبارہ علماء حضرات کو دعوت کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن اس دفعہ پہلے کے مقابلے ميں زیادہ وسیع تعداد میں علماء اور دانشوروں کو بلا کر ان اسے فدک کو واپس اولاد فاطمہ(س)  کو لوٹانے  کے حوالے سے رای اور مشورت چاہی۔ اس دفعہ بھی سابق کی طرح علماء نے مامون کے اس فیصلے کی تائید اور حمایت کی۔  اسی دوران مامون نے سنہ 210ہ ق کو مدینہ کے گورنر، قثم بن جعفر کو ایک خط کے ذریعے، فدک کو اولاد فاطمہ(س) کے سپرد کرنے کہ حکم دیا، اس طرح سے فدک ایک بار پھر اس کے مالکان حقیقی کو مل گیا۔

 اس مسرّت بھری خبر کو سن کر  معروف شاعر اھلبیت(ع) جناب دعبل خزاعی نے اشعار کے ذریعہ اظہار رضایت کیا۔ ان اشعار کا پہلا مصرع یوں ہے:

"اَصْبَحَ وَجْهُ الزَّمانِ قَدْ ضَحِکاً بِرَدَّ مَأْموُنُ هاشِمُ فَدَکاً"
ترجمه:

" زمانے کے رخ پر خوشی کا تبسم آگیا، مامون نے جب فدک بنی ہاشم کو واپس لوٹا دیا۔"[39]

سرزمین فدک  کی موجودہ صورت حال

    سر زمین  فدک جوکہ آج "حرّہ ھتیم" کے نام سے جانا جاتا ہے،جوکہ حرہ خیبر کے مشرقی علاقے میں واقع ہے۔ کتاب"مدینہ شناسی" کے مؤلف  لکھتاہے کہ میں نے  سر زمین فدک کے  آثار کو جاننے کےحوالے سے بہت جستجو کی ،اور  ایسا لگتا ہے کہ اس کا موجودہ نام "حائط" ہے اور سنہ 1975ء میں اس علاقے میں 21 بستیاں موجود تھیں۔  ان بستیوں میں رہائش پذیر افراد کی تعداد اس وقت گیارہ ہزار تھی۔  لیکن یہ سرزمین اس موقع پر بھی سابق کی طرح، کھجور کے گنّے دختوں سے پوشیدہ  تھی، اس کے علاوہ کاشت کاری کے لئے بھی ذرخیز نظر آرہی تھی۔

      حائط کا علاقہ(فدک) جوکہ پہلے مدینہ  جانے والے راستے میں آتا تھا، آج کل اپنے سابقہ شکل و  شمائل سے مزیّن نہیں ہے بلکہ مخدوش شدہ چہرے کے ساتھ ایک متروکہ بیابان میں تبدیل ہوگیا ہے۔

 حالت کہ کیفیت سے ایسا لگتا ہے کہ اس علاقے کی زمینیں، عبوری طور پر وہاں  کے مکینوں کے تحت تصرف میں ہیں اور اس کا درآمد بھی انہی لوگوں کی معیشت پر صرف ہوتا ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ سرزمین سعودی شاہنشاہی سلطنت کے  ذیر نظر میں ہے اور مستقل طور پر کسی خاص جگہ کا گوئی مخصوص مالک نہیں ہے۔

 آل سعود اور وہاں کے وہابی لوگوں نے باقی اسلامی آثار کی نابودی کی طرح فدک کے اسلامی اور تاریخی آثار کو بھی مسمار کررہے ہیں جوکہ تاریخ اسلام اور خاص کر رسول گرامی اسلام (ص)اور ان کے اھلبیت(ع) کے ساتھ کھلی خیانت ہے۔[40]

 نتیجہ:

    یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے  کہ صدیقہ طاہر ہ (س)کی نورانی وجود مقدس کی حقیقت کا درک ہونا،ایک مشکل امرہے۔آیات قرآنی اور احادیث نبوی کی رو سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ آپ(س) ایک بے نظیر فضیلت کے مالک خاتون تھیں۔ لیکن ان تمام فضائل اور مناقب کے ہونے کے باوجود امت نے ان باعظمت خاتون کے حق میں اس قدر ظلم و  جفاء کی انتہا کی،کہ اگر یہ مصیبت روشن دن پر پڑھ جاتی،تو تاریکی میں تبدیل ہوجاتا۔

   جناب زھرا(س) کے ساتھ ہوئے یہ ظالمانہ برتاؤ غیروں کی جانب سے نہیں ہوا، بلکہ پیامبر (ص)کے بعض نام نہاد صحابیوں کے ایماء اور اشارے اور انہی کی سوچی سمجھی سازش  کی تحت عمل میں آگیا ، جو کہ فریقین کی روایات سے ثابت ہوتا ہے ۔ حضرت زہرا(س) کے حق میں جتنے بھی مظالم روا  رکھے گئے،  ان میں سے سب سے اہم اور  المناک ظلم،غصب خلافت کا مسئلہ تھا۔      یادرہے کہ حضرت زہرا (س)کے توسط سے  فدک کی بازیابی کے سلسلے میں کئے ہوئے اقدامات،نیز  ائمہ معصومین(ع) کی طرف سے مسئلہ فدک کو ہمیشہ زندہ رکھنا، خلافت کے موضوع کو جاویدانی بخشنے  کے سلسلے میں  ایک اہم کردار تھا۔

    دشمنان اھلبیت(ع) نے فدک کو اس غرض سے مستبدّانہ انداز میں تاراج  کیا ، تاکہ ان نجیب خاندان کی معیشتی حالت کو ابتر بنا یا جائے،   تاکہ ان سے قدرت مقاومت کو سلب کیاجائے۔ واضح رہے کہ یہ رویہ ہمشیہ سے مستکبرین جہاں اور باطل قوتوں کا اپنے مخالفین پر دباؤ ڈالنےکی  غرض سے استعمال کیاجاتا ہے،جس کانام آج اقتصادی پابندی کے نام سے تعبیر کیا جاتاہے اور اسی طرح آل سعود کی جانب سے اسلامی آثار قدیمہ،جیسے قبرستان بقیع کی مسماری، پیامر(ص) اور ان کے اصحاب کرام کے دولت خانوں کو ختم کر کے دوسری چیزوں میں تبدیل کرنا اور سرزمین فدک کو متروکہ کھنڈرات میں تبدیل کرنا وغیرہ سب انہی مزموم سازشوں کا حصہ ہے ۔

28جمادی الاول1440ھ.

Email:This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

منابع و حوالہ جات



[1]الغیبه، للطوسی؛ ص 286 ۔

[2] بحارالانوار، ج ۴۳، ص ۶۵، روايت ۵۸۔

[3] صحيح البخاري، ج5، ص134۔

[4]تاریخ الیعقوبی، ج2، ص56۔

[5] کتاب المغازی، واقدی ،ح2،ص655۔

[6] امتناع الاسماع بما لنبی۔۔، مقریزی،ج1،ص310۔

[7] الارشاد، ج2، ص128-129۔

[8] شرح نهج البلاغه ابن ابی الحدید، ج 4، ص 108.

[9] سوره حشر، آیات 6 و 7.

[10] آیت الله شهید سید محمدباقر صدر، فدک در تاریخ، ص 27.

[11] شرح نهج البلاغه، ج 4، ص 108، چھاپ بیروت.

[12] محدث قمی، بیت الاحزان، ص 82.

[13]  سورہ اسرا، آیہ 26۔

[14]  مسندابی یعلی ، ج2،ص 534،حدیث436۔  تفسیر الدر المنثور،ج5، ص274۔

[15] بحار الانوار: ج 21 ص 23.

[16] اسرار فدک، محمد باقر انصاری، ص22، بحار الانوار: ج 29 ص 118.

[17] اسرار فدک، محمد باقر انصاری، ص22، بحار الانوار: ج 29 ص 123 ح 25۔

[18] صحیح بخاری، ج 8، ص 3 و 4 ،و ج 5 ص 82۔

[19] شرح نهج البلاغه ابن ابی الحدید، ج 4، ص 117۔

[20]  صحیح بخاری،ج 3،ص 252۔ کتاب المغازی،باب 155 غزوہ حیبر،حدیث704۔

[21]  کنز العمال،ج13،ص 674، حدیث37725۔

[22]  صحیح بخاری،ج 5، ص96۔

[23] تاریخ الخلفاء،ص20۔

[24] بحار الانوار، ج1، ص23 و مكاتيب الرسول صلى الله عليه و آله و سلم، ج‏1، ص 291۔

[25]  شرح نہج البلاغہ، ج 16 ص221،227۔

[26] شرح نهج البلاغه، ج 16، ص 221و227۔

[27] فدک فی التاریخ، ص 149 .

[28]   بحار الانوار، ج1، ص23 و مكاتيب الرسول صلى الله عليه و آله و سلم، ج‏1، ص 291۔

[29] سوره المائدہ، آیه 50۔

[30] سوره نمل، آیه 16۔

[31] سوره مریم، آیه ،5،6۔

[32] سوره احزاب، آیه 6۔

[33] سوره نساء، آیه 11۔

[34] سوره بقره، آیه 180۔

[35] بحار الأنوارج‏29، ص226 و 227۔

[36] شرح ابن ابی الحدید) بر (نهج البلاغه) جلد 4 ص .78۔

[37] نہج البلاغہ،نامہ،45۔

[38] سیره پیشوایان،ص461۔

 [39] Irna.ir

[40] ۔( yjc.ir مدینه شناسی، ج 2، ص 492.

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

(تحریر:کےایچ آخوندی)

*پورنو گرافی ،سافٹ وار کا ایک مہلک ہتیار!*

 

     تمدّن اور ثقافت کسی بھی قوم و ملت کی  پہچان ہوتی ہے، یعنی ہر کسی قوم  کا تشخص اور  حیثیت  اس کے کلچر سے منسلک ہے، لہذا بیدار اور زندہ  قوم  اپنی  قومی اور مذہبی  تمدّن کو ہر حالت میں  تحفظ فراہم کرنے  کے حوالے سے کوتاہی نہیں کرتی،   بلکہ  اس کی حفاظت کرنا اپنے اوپر  لازم سمجھتی ہے، دوسری طرف  جب کوئی   دشمن اپنے حریف  کو شکست دینا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اس کے ثقافتی آثار کو مسمار کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس کے بہت سارے نمونے ہمارے سامنے موجود ہیں جیسے (جنت البقیع کی مسماری، مغول حکمرانوں کا سرزمیں ایران ، عراق اور شامات پر  چڑھائی کرکے اسلامی اثار کو ختم کردینا اور  حال حاضر میں عالمی  استکبار  کا   داعش جیسے دہشتگردوں  کے ہاتھوں ،  لاکھوں اسلامی آثار کا تباہ کر وا دینا  وغیرہ ) ۔

     رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای(دام ظلہ) نے سنہ 21 مارج 2014 ،(ایرانی کلنڈر کے مطابق 1393ھ ش ) کو حضرت امام رضا(ع) کے روضہ مطہر میں نئے سال کےآغاز کے موقع پر  لاکھوں ارادتمندوں سے خطاب فرمایا، اپنے اس خطاب میں میں موصوف نے نئے‏ سال کانام"معیشت اور کلچر،  قومی عزم و ارادہ اورمدیریت جہادی"  اعلان فرمایا۔ اس سالانہ خطاب میں آپ نے  (اسلامی) ثقافت اور کلچر کے مفہوم کی وضاحت فرماتے ہوئے، اس کو ہوا یا آکسیجن(Oxygen)سے تعبیر  فرمایا۔ یعنی ہر انسان خواہ نہ خواہ ا س کو استعمال کرتا ہے،  چاہے صاف ہو یا آلودہ، چونکہ انسان کی حیات اور بقاء کیلئے آب ہوا کا ہونا لازمی،  اور اس کے بغیر زندگی کرنا ناممکن ہے۔ جب آب ہوا صاف اور پاکیزہ ہو تو اس کے آثار بھی مثبت ہونگے؛   نیز ایسی آب و ہوا انسانی حیات زندگی کی خاطر سازگار ہوگا۔ اس کے برعکس اگر آب و ہوا آلودہ اور ناپاک ہوں، تو ضرور اس کے آثار بھی منفی اور انسان کی صحت و سلامتی کیلئے مضر ہوگا؛ اور نتیجہ کے طور پر سماج کے اندر طرح طرح کے امراض پھوٹ پڑیں گے،چونکہ اس آلودہ آب ہوا سے بچ کے رہنا  انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔

   بلکل اسی کی مانند اگر ہماری ثقافت اور کلچر پاکیزہ اور ہرقسم کی آلودہ گیوں سے منزہ ہو،  تو ہمارا معاشرہ بھی مہذّب ، شائستہ اور خوشگوار ہوگا، لیکن اس کے برعکس  ہماری  اسلامی ثقافت اور کلچر کروٹ  بدل کر اھرمنی طرز  و  تفکر کی بنیاد پر وجود میں آجائے، تو  ہماری سوسائٹی کے اندر کسی قسم کی خیر کی توقع نہیں رکھی جاسکتی،   اور نہ ہی   انسانی اقدار کی  کوئی قدر ہوگی۔

  ہم نے  کم و بیش اس بات کو سنا ہے کہ آج  دنیا کے اندر  Cultural War)) یا ثقافتی جنگ ہو رہی ہے، مغربی ممالک اور  امریکہ یا دوسرے الفاظ میں عالمی استکبار نے پوری دنیا پر  اس جنگ کو مسلّط کر رکھا ہے،  اور خاص طور پر ممالک اسلامی میں یہ جنگ انتہائی مخرّب انداز میں جاری رکھی ہوئی ہے۔ اس  کی اصلی عّلت  یہ ہے کہ ایران میں  اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد پوری دنیا اور  خاص کر ملت اسلامی  پر اس انقلاب کی تاثیر بڑھتی جارہی ہے، دنیا کے ہر باضمیر انسان نے مغربی  تباہ  کن اور   انسانی تہذیب دشمن  کلچر کو ٹھکرا کر  اسلامی فرہنگ  اور ثقافت کی طرف  اپنا  رجحان  بڑھایا ہے؛  اسلامی انقلاب کی بڑھتی ہوئی اثر رسوخ کو دیکھ کر   امپریلیزم جہانی اور عالمی صہیونیزم اپنی پوری قوت کے ساتھ اس انقلابی تحرکات اور اثررسوخ کو کچلنے کیلئے میدان میں قدم  جما کر ہر ممکن  وسائل کو بروے کار لاکر اس پر  جارحانہ حملے کر رہے ہیں۔ مجوعی طور پر  دوقسم کی جنگ اس کے خلاف تھونپے جارہے  ہیں، ایک سخت جنگ(Hard War) اور نرم جنگ(Soft War) ان میں سے اوّل الذّکر جنک میں ان کو ناقابل تلافی شکست ہوئی ہے جو کہ پوری د نیا  جانتی ہے۔  لیکن ثانی الذکر  جنگ یعنی  سافٹ وار  آج  بھی شد ومت کے ساتھ جاری ہے۔ جنگ نرم میں دشمن کسی قسم  کے متعارف اسلحے استعمال نہیں کرتا بلکہ اس میں نامحسوس ہتیار جیسے اقتصادی محاصرے اور ثقافتی یلغار وغیرہ سب سے کارساز اور مؤثر ہتیار مانا جاتا ہے۔

    جب  ان شیطانی ٹولوں پر یہ ثابت ہوگیا کہ جنگ اور اقتصادی پابندی کارساز نہیں ہے ، لہذا  ثقافتی جنگ مسلط کرنا مناسب سمجھا ، چونکہ انہوں نے اس جنگ کا تجربہ  اسے پہلے  سر‌زمین اسپین (Spain)  پر کیا تھا اور اس کا  تسلی بخش نتیجہ بھی حاصل ہوا تھا چونکہ اس  سرزمین پر جو مسلمانوں کا آٹھ سوسالہ(800) حکومت تھی،  اس  کو ختم کرنے میں کامیابی ملی تھی۔

    ایران پر مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے خاتمے کے بعد جب عالمی صہیونزم کو بخوبی احساس ہوا کہ ان کو عبرت ناک  شکست ہوئی ہے،  تو  یہ بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا، اور اپنے تمام تر صلاح مشورے کے بعد اس نتیجے پر  پہنچا کہ  جمہوری اسلامی ایران کو صرف  ایک ہی چیز  شکست دے سکتی ہے  وہ ہے کلچرل وار یا ثقافتی یلغار۔  یہی وجہ ہے کہ"  نتان یاہو" جو  ابھی   اسرائیل کا صدر نہیں بنا تھا، اس نے  اعلان کیا تھا  اگر امریکا یہ چاہتا ہے کہ ایران پر اپنا  تسلط جمایے،  تو  اسے چاہے کہ ایران کے خلاف ثقافتی جنگ چھیڑا جائے، اور میڈیا کے توسط سے یہ جنگ شروع کرکے ایرانی ریڈیو ،ٹلی ویژن پر کنٹرول حاصل کرنا چاہئے۔

      آج عالمی صہیونزم پوری دنیا پر  اپنا تسلّط  برقرار کرنے کی غرض سے دنیا والوں کو طرح طرح کے سبز باغ دکھا کر فریب دینا چاہتا ہے۔ ایک طرف سے میڈیا کی بالادستی  ان کے ہاتھ میں ہے ،وہی دوسری طرف انہی کو  وسیلہ قرار دے کر اپنے مزموم سازشوں کو عملی جامہ پہناتے ہیں، انٹر نٹ، سٹلائٹ چنلز  کے علاوہ باقی سوشل ذرایع ابلاغ پر ان کا قبضہ ہے لہذا ان چیزوں کا استعمال کرتے ہوئے پوری دنیا کے اندر پروپیگنڈا   اور   نفرت کی بیچ بو رہے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں ویب سائٹ تیار کراکے  نیز مختلف چینلوں کے ذریعے لوگوں کو خاص کر نوجوان طبقے کو گمراہ  کر رنے کے سلسلے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے۔

    تحقیقات کے ذریعہ معلوم ہوا ہے کہ   عالمی استکبار اور صہیونی ایجنٹوں نے انٹر نٹ پر دس میلین سے زائد  مبتزل اور گندی تصویروں کو اپلوٹ کر رکھے ہیں، اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں اسی نوعیت کے  ویڈیو کلیپس(Video Clips ) تیار کرکے منتشر کیا ہے،  تاکہ لوگوں کو شہوت رانی  کے بھوَر میں غرق کرکے نیز   ان کی استعداد  کا سبوتاج اور ان کی نگاہوں کو محدود کر کے  اپنے مزموم مقاصد میں کامیابی حاصل  کر سکے۔  حال ہی میں ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے اعلان کیا کہ صرف ایرانی قوم کو گمراہ کرنے کی خاطر ایکسو چونتیس(134) سٹلائٹ چنلز فارسی زبان میں میں  براٹ کاسٹ کیا جارہا ہے۔

    واضح رہے کہ عالمی صہیونیزم نے  دنیا کو تباہ کرنے کی غرض سے ان  وسائل کے علاوہ ایک اور   تباہ کن ابزار  کا استعمال کرنا   شروع کیا ہے  جو  غالبا ہمارے نوجوانوں کو نشانہ  بنانے  کیلئے  تیار کیا گیا ہے، اس  انتہائی مہلک  نرم ابزار کا نام  پورنوگرافی(Porno grapy )  ہے۔

    پورنوگرافی سے مراد  ایسی  کتابیں، مجلات، کارٹون، اینمیشن، عریان اور نیم عریان تصویریں اور فلمیں ہیں،  جن کو صرف انسان کی  جنسی غریزے کو  تحریک کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔[1]  صہیونی  عناصر اس غیر اخلاقی  فعل کے ذریعہ  کافی  درآمد حاصل  کر رہے ہیں۔ ایک عالمی نجی تحقیقی ادارہ " فوسٹر" کے  رپوٹ کے مطابق صرف سال 1998ء میں ان سے حاصل کی ہوئی رقم کا تخمینہ 750 میلین ڈالر سے لیکر ایک ارب ڈالر لگایا گیا ہے!

     یہ بات قابل ذکر ہے کہ عالمی صہیونیزم  اپنے مادّی اہداف کو حاصل کرنے کے سلسلے میں ہر  قسم کے  حربے استعمال کرتے ہیں، چاہے وہ غیر اخلاقی اور انسانی  اقدار کی منافی بھی کیوں نہ ہو۔  ان کے یہاں صرف ہدف اور مقصد کا حاصل ہونا اہمیت رکھتا ہے، یہ لوگ اپنے سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی اہداف کو حاصل کرنے کے سلسلے میں ہرنوع انتہائی گٹھیا اور پست   طریقے بروی کار لانے سے شرم نہیں کرتے، اس کا ایک  زندہ نمونہ چند سال قبل اسرائیل کے سابقہ وزیر خارجہ( ٹی زیپی لیونی) کا  بے حیائی پر مبنی بیان ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا اگر فلسطینی زمامداران یا سیاسی رہنماوں نے ہمارے ساتھ صلح کا راستہ انتخاب نہیں کیا،  تو میں  ان  اسرار کو فاش کرونگی جو میری زات اور ان کے درمیان  واقع ہوچکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ہے: عرب ممالک کے کچھ رئساء اور فلسطینی سیاستمداروں کا میرے ساتھ جنسی ارتباط رہ چکا ہے اور میرے پاس  ثبوت کے طور پر وہ سیڑیاں بھی  موجود ہیں جو  ان غیر اخلاقی کاموں سے مربوط ہیں![2]  

    جمہوری اسلامی ایران کے ایک معروف   روزنامہ "مشرق نیوز" کے رپوٹ کے مطابق  350 غیر اخلاقی ویب سائٹیں صرف ان ایٹرنٹی سرور(Servers) کے ذریعہ ادارہ  ہوتے ہیں جو مقبوضہ فلسطین میں موجود ہے۔

     اگر  ا سرائیلیوں کے امریکا میں وارد  ہونے کی  تاریخ پر نظرڈالی جائے تو مزید ان کے متعلق  معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ جس وقت انہوں نے  سرزمین امریکہ پر قدم رکھا اس وقت  نہ ان کے پاس کوئی سرمایہ موجو تھا اور نہی ان کی کوئی حیثیت تھی، بلکہ دوسروں کی مالی حمایت کے بغیر  ان کا امریکہ  تک پہچنا ہی ناممکن تھا۔   یہی وہ زمانہ ہے کہ یہودیوں نے اپنی اجتماعی موقعیت اور جایگاہ کو تثبیت کرنا شروع کیا، اور  تاریخ بشریت میں پہلی مرتبہ انہوں نے  اپنے آپ کو سرمایہ دار بنانے کی غرض سے غیر انسانی اور غیر اخلاقی  کاموں یعنی" پورنو" وغیرہ  کے ذریعہ سرمایہ جمع کرنا شروع کیا۔  اس  طرح سے عالمی صہیونی عناصر نے دنیا کی ثقافت اور تمدّن کا استثمار کرنے کے حوالے سے پڑے پیمانے پر غیر اخلاقی فلمیں، تصاویر، رسالے، اور کتابیں ،غیرہ تیار کرکے پوری دنیا میں منتشر کردیا،  اور رفتہ رفتہ یہ کام ان کیلئے درآمد کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن گیا۔  جب  ہم ان غیر اخلاقی اور گمراہ کن  مطالب پر مشتمل مجلات اور کتابوں کی تاریخ کی طرف ملاحظہ کرتے ہیں تو  معلوم ہوتاہے اکثر  ان مطالب کے لکھنے والوں میں ان یہودیوں کا نام سامنے آتا ہے جنہوں نے  1890ء  سے لیکر 1960ء تک   کے عرصے میں امریکہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ یہ افراد  اس قدر بے حیاء بد اخلاق تھے کہ اپنے تحریری مطالب کے  ساتھ ساتھ گندی اور بترین نوعیت کی  تصاویر بھی چھپوادیتے تھے۔

اس طرح  سے امریکا میں یہودی لوگ  پورنو گرافی کی صنعت میں مشہور ہوگئے، اگر چہ اس وقت امریکہ میں ان کی تعداد بہت کم تھی لیکن  انہی غیر اخلاقی فعل کی وجہ سے انہیں بہت شہرت حاصل ہوئی۔

  امریکہ کے ایک معروف دانشمند "جی اے گرٹزمن" کے بقول یہودیوں نے امریکا کے تمام قوانین کو پائمال کرکے ثروت اور شہرت حاصل کرنے میں لگ گئے۔

       یاد رہے کہ یہودیوں نے اس غیر انسانی حرکت کا آغاز  تو قلم کے ذریعے کیا ،لیکن بعد میں تصویر، انمیشن اور فلموں کی شکل میں اس میں  مزید توسیع دے دی ، یہاں تک کہ ہالیووڈ اور دوسری فلمی اینڈسٹریس نے بھی  دنیا  کی ثقافت پر قبضہ جمانے کے سلسلے میں کافی حد تک ان کی  مدد بھی  کی، اور اس کے بعد  ہالیوود کے بڑے بڑے  اینڈسٹریس بھی اسی شوم مقاصد کی حصولی کی خاطر صہیونی عناصر نے  تاسیس کی، ان فلمی اینڈسٹریس میں بہت سارے  ایسے لوگ کام کرتے  تھے جو پورنوگرافی بنانے  یا مبتزل  داستان سرائی میں معروف تھا، ان میں سے ایک مشہور  شخص جس کا نام رابی اسٹرورمن(Rabi Storman)تھا جو کہ خود ایک یہودی تھا۔  انہوں نے پورنوگرافی کی صنعت کو توسیع دینے  کے  مقصد سے مختلف طریقے اپنائے اور  اس قسم کی تحریری اوراق یا انمیشن و غیرہ تیار کرنے کیلئے ہر قسم کے ابزار کا استعمال کیا  یہاں تک کہ وہ اس زمانے میں امریکہ کے  معاشرے میں بدنام زمانہ میں تیدیل ہوگیا اور لوگ ان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اس کے بدنام ہونے کی علت  یہ تھی کہ اس زمانے میں امریکہ کے  بہت سارے ماہرین نفسیات نے  اسے ایسا کرنے سے  منع کیا تھا؛ کیونکہ ان کی نازیبا حرکات  کی وجہ سے نوجوانوں کا ایک  خاص  بڑا طبقہ متاثر  ہورہا تھا۔ لیکن انہوں نے ان کی ایک بھی نہ سنی اور ا پنے موقف پر مصر رہے۔ آخر میں  اس  شخص  کو  مالیات کی عدم آدائگی کی وجہ سے زندان جانا پڑا اور  وہی اس کی موت واقع ہوئی۔

      خود یہ شخص تو مرگیا،  لیکن اس کی موت کے  بعدبھی صہیونیوں نے  نہ صرف  اس کے مشن کو روکا  بلکہ اس کے کم و کیف میں اور شدّت لائی۔ یہودیوں نے ہالیووڈ کے فلم ایڈسٹریس پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے ان میں بھی    غیر اخلاقی اور فحاشی فلمیں وارد کرنا شروع کیا ۔  اس سلسلے میں وہ  پہلے خوبصورت  جوان  لڑکیوں کو فلموں میں کام کرنے کا بہانہ بناکر  دعوت کر تے تھے ، بعد میں ان کو  جھانسہ دیکر ان سے ایسی فلمیں تیار کرنے لگ جاتے تھے، جن میں جنسی رابطے کی نمائش دی جاتی ہے۔

  ابتداء میں اس قسم کے فلمیں صرف انہی کی مخصوص کمپنیوں کے   ذریعے تیار کئے جاتے تھے، تاکہ زیادہ سے زیادہ منافع کما سکے، لیکن جب راۓ عامہ(Public opinion ) کی طرف سے ان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو انہوں نے ہالیووڈ کو بھی اپنے ہمراہ کر کے اس کام کو عمومیت دینے کی کوشش کی  ، تاکہ اس طر یقے سے  اپنے اوپر کئے جارہے  ان اعتراضات کو کم کیا جا سکے جو دنیا بھر کے  روشن فکر افراد اور مذہبی طبقوں کی جانب سے ان پر  کئے جارہے تھے۔ اس طرح سے  یہودیوں نے  ہالیووڈ کے اندر  غیر اخلاقی یا  جنسی موضوع سے مربوط فلموں کو تیار کرنے  کا زمہ اپنے عہدے میں لے لیا، یہاں تک کہ کچھ عرصے کے بعد انسانی اسکینڈل یا غیرقانونی طور پر عورتوں اور جوان لڑکیوں کی خرید و فروخت کرنے والے عناصر سے جوان اور خوبصورت لڑکیوں کو خرید کر ان کو اس قسم کے فلموں میں کام کرنے پر مجبور  کرکے مزید فلمیں بناکر دنیا میں  منتشر کرنے لگے، اس طرح  سے پوری دنیا میں  شہوت رانی کو فروغ دے کر نوجوان طبقے کو  گمراہ کر رہے ہیں۔

   یاد رہے کہ انسانی اسکینڈل کرنے کا کام آج بھی پوری قوت کے ساتھ جاری ہے، آج  دنیا کے مختلف ممالک کے اندر  بہت سارے لوگ اس کام میں مشغول ہیں ، ان میں سے  بیشتر  افریقہ، مشرق  وسطی اور یہاں تک کہ بعض  یورپی ممالک سے غیر قانونی طور پر  یا اغوا کاری کے ذریعے بہت سارے انسان کو  مختلف اہداف کے پیش نظر  امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی  طرف منتقل کئے جارہے  ہیں۔ ان تمام  راستوں کا  تحفظ اور کنٹرول خود  غاصب  اسرائیلی حکومت کی طرف سے ہو تے ہیں، اس کے علاوہ باقی ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ امریکی ایجنسیاں بھی اس میں دخیل ہیں۔

    عالمی صہیونزم نے اس قسم کی سازشوں کا استعمال دنیا کے ہر مذہبی معاشرے میں کیا ہے (یا کر رہا ہے)، جن میں زیادہ تر اسلام اور عیسائیت کو نشانہ بنا یا جارہا ہے، تاکہ اس طرح سے ان  دو بڑے دینی طبقے کے اندر نوجوانوں کے استعداد کو نکھار نے  کا موقع نہ دے سکے۔

       صهیونی  عناصر اپنے محاسباتی عمل میں اس  نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ اسلامی معاشرے میں نوجوانوں کو بے راہ روی کی طرف  گامز ن، نیز ان کو  انسانیت کے اعلی درجے سے محروم کرنے کا  سب سے آسان طریقہ  یہ ہے کہ ہر جگہ سینماگھر بناکے اس میں غیر اخلاقی پکچرز یا  فلموں کو فروغ دے کر مسلمان  جوانوں  اور نو جوانوں میں جنسی غریزہ  کا موج ایجاد کیا جائے تاکہ ان سےشرم،حیاء، ایمان، غیرت، اخلاق اور انسانی اقدار و غیرہ کو ختم کرا یا جا سکے، اگر اس میں کامیاب رہیں تو  ، سامراجیت، لیبریلیزم، سیکولیریزم اور   عالمی استکبار کے مقا بلے میں ڑٹ کر مزاحمت کرنے والا  وہ اسلامی تمدن جو انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد، دنیا کے گوشہ و کنار اور  بالخصوص  ملت تشّیع کے اندر  ایجاد ہو چکا ہے ، اسّے  شکست سے دوچار کر سکتے ہیں۔ چونکہ  فحاشی گری،   ثقافتی یلغار یا سافٹ وار کا  الٹمیٹ (Ultimate)   ہتیار گنا   جاتا ہے، لہذا  آج  پہلے سے  کئی گنّا  زیادہ  اس پر کام کیا جا رہا ہے اور اس پروجٹ پر سالانہ اربوں ڑالر خرچا یا جا رہا ہے، اسی سلسلے میں چند سالوں سے دنیا کے مختلف مقامات پر اس کی نمائش گاہیں، فیسٹول اور انعامی مسابقے بھی منعقد کئے جارہے ہیں؛ ان میں سے بڑا  فیسٹول(Festival)  جس کا  ہر سال بڑے اہتمام کے ساتھ  انعقاد کیا جاتا ہے، اس میں دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی  منتخب ہوتی ہے۔   اسی طرح  سالانہ   ایک اور فیسٹول کا انعقاد ہوتا ہے جس میں ہر  کمپنی اپنے اپنے پورنو سے مربوط فلمیں، تصاویر، اور انمیشن و غیرہ کو نمائش کی صورت میں پیش کرتی ہے اور اس پروگرام میں بھی سال کا سب سے مقبول و مشہور  فیلم کا انتخاب ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا خطرناک حربہ ہے جو عالمی صہیونزم فحشاء اور منکرات کو رائج کرنے کی غرض سے انجام دے رہا ہے۔ ان شیطان صفت عناصر کی  کار کردگی کو دیکھ کر  آج یورپ کے اندر بھی   صدای احتجاج  بلند ہورہی ہے، چنانچہ  بعض سماجی  اور اجتماعی فلم  بنانے والوں نے ، ان بے شرمانہ پروگراموں کو انسانی اخلاق کی تدفین سے تعبیر کیا ہے۔

   اس  تہاجم فرہنگی یا  بہ الفاظ دیگر ثقافتی یلغال کا خطرہ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ عالمی تنظیم آیسکوبIOSCO[3]. بھی اس کو ثقافتی یلغار کا مصداق قرار دیتی ہے۔[4]  یہاں تک کہ  خود  غاصب اسرائیلی ریاست بھی اسے محوظ نہیں  ہے، چنانچہ ایک اور عالمی تنظیم(Amnesty international)   کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2000ء میں اسرائیل کے اندر ہر تیرہ گھنٹے کے بعد ایک عورت کی آبرور یزی ہو چکی ہے۔ اور سنہ 2009ء میں  یہ عدد بڑھ کر ہر چار گھنٹے کے بعد ایک اسرائیلی عورت کا جنسی استحصال ہوا ہے۔[5]

    واضح رہے کہ اس ثقافتی یلغار نے آج قلب اسلام کو نشانہ بنایا ہوا ہے،  چونکہ بشمول جمہوری اسلامی ایران کے ،  دنیا کے اکثر اسلامی ممالک نے  اس  تباہ کن جنگ کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ  عالمی صہیونزم اور استکبار نے اپنے طاقتور میڈیا کے ذریعے  ہمارے اسلامی کلچر پر  پے در پے کاری ضرب لگانے کی کوشش کر رہے ہیں، لہذا  ضرورت اس بات کی ہے  کہ ہم خود ہوشیار رہیں اور اپنی قوم، نسل  اور خاص کر ہمارے عزیز نوجوانوں کو کو  دشمن کی  مزموم سازشوں ہے آگاہ کریں اور ان کو تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے ہمیشہ کوشاں رہیں، تاکہ قوم کے جوان نسل دشمن کے جھانسے میں آکر   گمراہی کا شکار نہ ہوں اور ہمیں ناقابل تلافی نقصان سے روبرو نہ ہو نے پائے۔

       



[1]  سنہ 2015میں جہان نیوز کی رپورٹ کے مطابق فرانس میں ایک ایسی کمپنی ہے جو صرف مصنوعی لڑکیاں تیار کرتی ہے اور ان کو  شام کے اندر دہشتگردوں کے درمیان  مفت تقسیم کردیتی ہے، تاکہ ان کا جنسی غریزہ   پورا ہوسکے۔ یاد رہے کہ اس کمپنی کا مالک  قطری ایک شیخ بتایا جاتا ہے۔

[2] Jahadadgar.persianblog.ir.

[3] International organization of securities commission).)

[4] نقل  از مشرق نیوز، ویب سائٹ، 6 اپریل 2014۔  

[5] Mashreghnews.ir,2014

Description: C:\Users\muntazir mahdi\Downloads\زینب کبرا.jpg*بسم الله الرحمن الرحیم. *

(تحریر:خادم حسین آخوندی)

حضرت زینب(س)، مظہر علم  و کمالات

دو عالم بر علیؑ نازد، علیؑ بر همسرش نازد               علیؑ و همسرش زہرا(س)، به زینبؑ  دخترش نازد.

 مقدمہ:

    یه  ایک مسلَمه حقیقت هے، کہ انسان اپنی ‌زندگی کو بہتر اور سعادتمند بنانے کے لئے‎ ضروری ہے، کہ وہ کسی ایسے شخص کو اپنا آیڈیل قرار دے،  جو خود صاحب کمالات ہوں۔ تاکہ انسان،‏ اس انسان کامل کی پیروی کرتے ہوے، ان تمام کمالات کو اپنے اندر بھی پیدا کرنے کی کوشش کرے گا، جو اس ہستی کے اندر پایے جاتے ہیں۔تاکہ وہ اپنی زات کو بھی اس مرحلہ کمال پر پہنچادے، جس کمال کی اونچی چوٹی پر وہ عظیم ھستی فائز ہے۔

     ہر انسان کو اپنے ہدف اور مقصد کو پانے کی خاطر،بعض ایسے مراحل  کو طے کرنا پڑھتا ہے، جن کو تنہا طے کرنا اس کیلئے  نہ صرف دشوار ہوتا ہے، بلکہ  غیر ممکن ہوتا ہے۔لہذا س منزل مقصود  تک پہنچنے کے سلسلے میں بعض ایسی شخصیتوں کا سہارا لیتا ہے، جو خود اس مطلوبہ ہدف میں کامیاب ہوچکی ہوں۔نیز  اس شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس مربی یا استاد کی صحیح ڈنگ سے شاگردی ،اور ظریف و حساس نکات کو سیکھنے کی کوشش کرے،جو اس مقصد کو پانے کی راہ میں کارآمد ثابت ہوں۔

    بہرحال،  انسان کو اللہ تعالی نے اس دنیا  میں اشرف  المخلوقات کے عنوان سے مزین کر کے بھیجا ہے ،اوراس کے ساتھ ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی اس پر عائد کر رکھی ہے۔ ان ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوے، انسان کو  اس مقصد کی جانب آگے بڑھنا ہے، جس مقصد  والا کی خاطر اس کو خلق کیا گیا ہے۔

   اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنی لطف و کرم سے، اپنے بندوں کی ہدایت اور راہ نمائی کیلئے کچھ ہستیاں اس کائنات کے اندر بھیجی ہیں،جن کو انسان اپنے لئے نمونہ عمل قرار دے کر،  نیز  ان کی اطاعت کر کے اپنی زندگی کو اس راہ  پر گامزن کردیتا ہے، جو سعادت اور خوشبختی کے منزل تک لے جاتی ہے۔ ان عظیم ہستیوں سے مراد انبیا‏ءا ور اولیا‏ء الہی کے علاوہ اور بھی کچھ صاحب عظمت، اللہ کے مخلص بندے ہیں، اگر چہ یہ بندے صاحب عصمت  نہیں ہیں،  لیکن ان کے عظیم اور مثالی کارنامے، عالم بشریت کے لئے لمحہ فکریہ بنا ہوا ہے؛  اور یہ حضرات ہدایت کےسرچشمے ہیں۔اگر ہم دنیا اور آخرت کی سرخ رویی کے متمنی ہیں ،تو ان کی  ہی دہلیز پر حاضری دینا ، اور انکو اپنی زندگی میں نمونہ قرار دیکر جینا، ہمارے لئے ناگزیر بن جاتا ہے۔

ان عظیم ہستیوں میں سے ایک، جن کے تاریخی  بے مثال کارنامے کسی پر ڈھکی چھپی نہیں ہے، وہ نامدار ہستی ، عقیلہ بنی ہاشم ،عالمۃ غیرمعلمۃ ، صدیقہ صغراء، حضرت زینب  سلام اللہ علیہا ہیں۔

  حضرت زینب(س) کا اجمالی تعارف:

       آپ(س) نےچھٹی صدی ہجری میں خانہ بطول(س) میں آنکھیں کھولیں۔جس دن حضرت زینب(ع) کی ولادت ہوئی، اس دن رسول گرامی اسلام(ص) سفر پر تشریف لے گئے تھے۔حضرت زہرا(س) نے امیر المؤمنین علی(ع) سے درخواست کی کہ اس مولودہ مبارکہ کا نام معین کیا جائے، لیکن مولای کائنات(ع) نے فرمایا:میں آپ کے والد ماجد پر سبقت نہیں لے سکتا، لہذا بہتر ہے کہ رسول خدا(ص) کے واپس تشریف آوری تک صبر کیا جائے، تاکہ خود آنحضرت(ص) انکا نام انتخاب کریں۔

    جب رسول گرامی اسلام(ص) ،سفرسے واپس تشریف لےآئے،  تو حضرت علی (ع) نے آگے بڑھ کر بچی کی ولادت کی خبر  دےدی۔

   پیامبر گرامی اسلام(ص) نے ارشاد فرمایا: اولاد فاطمہ(س)، میری اولاد ہیں،لہذا  خدا وند متعال کی زات خود اس حوالے سے فیصلہ کرے گا ۔ چند لمحے کے بعد جبرئیل امین،  اللہ کی طرف سے پیام لے کر نازل ہوئے،  اور عرض سلام اور ادب کے بعد فرمایا: اللہ رب العزت نے بچی کا نام "زینب" انتخاب کیا  ہے، اور لوح محفوظ پر یہ نام ثبت ہوچکا ہے۔

    اسی دوران رسول اکرم(ص) نے نورچشم فاطمہ زہرا(س) کو گود میں لے کر بوسہ دیا ، اور فرمایا:میں وصیت کرتا ہوں کہ سب لوگ اس  بچی کا احترام کریں، چونکہ یہ بچی  جناب خدیجہ(س) کی مثل ہے۔

     واضح رہے کہ رسول خدا(ص) نے یہ مطلب اس لئے ارشاد فرمایا کہ جس طرح حضرت خدیجہ کی فداکاری اور  بے پناہ قربانیاں،رسول خدا(س) کے بلند اہداف اور اسلام کی پیشرفت کے سلسلے میں ثمر بخش تھیں،  بالکل اسی طرح  ثانی زہرا حضرت زینب(س) کے صبر اور استقامت، اسلام کی بقاء اور جاودانی کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

  زینب کی معنی:

    زینب کی معنی باب کی زینت ہے، اور خداوند متعال نے یہ نام ایک ایسی خاتون کے لئے انتخاب کیا ہے ، جو ختم رسالت کےبعد، تاریخ بشریت کی خاطر زینت کا باعث ،نیز خاندان ولایت  کے لئےباعث افتخارہیں۔

     یہی وجہ ہے کہ جناب زینب ‎(س) کے نام گرامی، تاریخ نہضت عاشورا میں ہمیشہ محور توجہ اور درخشاں نظرآتا ہے۔

 حضرت زینب(س) نے اپنی بچپن کی زندگی، نانا اور مادرگرامی کے آغوش میں گزاری اور ان کے نورانی ماحول میں پرورش پائی۔

   آپ(س) نے سنہ 17 ہجری میں اپنے چچازاد ،عبد اللہ بن جعفر سے شادی کی۔ جب حضرت علی ابن ابی طالب(ع) ظاہری خلافت پر فائز ہوئے، تو امام(ع) مدینہ سے کوفہ کی جانب تشریف لےآئے ، اور شہر کوفہ کو اپنی حکومت کا دار الخلافہ مقرر کیا،اس موقع پر جناب زینب(س) بھی والد گرامی کے ہمراہ کوفہ تشریف لے آئیں۔

      حضرت زینب(س) صاحب معرفت، اور مظہر علم و کرامت تھیں،چنانچہ جس زمانے میں کوفہ میں زندگی گزاررہی تھیں، وہاں لوگوں کی علمی اور عملی خدامات انجام دینے کے سلسلے میں کوئی دقیقہ فروگزار نہیں کیا۔ حضرت زینب(س) کوفہ کے اندر  تفسیر قرآن، احکام اور مختلف علوم کے درس دیتی  تھیں۔  ان کی معرفت کے کمالات کا اندازہ اس طرح سے کیا جاسکتا ہے کہ، ایک دن حضرت علی(ع) نے ان سے یوں سوال کیا: اے میری بیٹی !کیا تم اپنے بابا سے  محبت کرتی ہیں؟ تو جناب زینب(س) نے  جواب مثبت  دےدیا۔ پھر امام(ع) نے جناب زینب(س) سے مخاطب ہو کر فرمایا:" والدین اپنی اولاد کو دل سے محبت کرتے ہیں!" اس پر حضرت زینب(س) نے فرمایا:" محبت اورعشق حقیقی، مخصوص خدا کی ملکیت ہے،اور اظہار  انس والفت ،اولاد کی خاطر ہے۔

    جب حضرت علی(ع) کے سر مبارک پر ضربت لگی،   تو اس مشکل اور کٹھن موقع پر بھی جناب زینب(س) اپنے بابا کو دلاسہ اور تیمارداری کرتی رہیں۔اسکے علاوہ حضرت امام حسن مجتبی(ع) کے عصر میں بھی ہمیشہ اپنے بھائی کے یار و ناصر بن کر رہیں۔

    جس وقت حضرت امام حسین(ع) نے مدینہ سے عراق کی طرف سفر کرنے کا عزم کیا،تو جناب ابن عباس نے امام(ع) کو  مسافرت سے منصرف ہونے کا مشورہ دیا، اور  جب امام(ع) نے  سفر کے حوالے سے اپنے مصمم ارادے کا اظہار کیا ، تو جناب ابن عباس نے بچوں اور عورتوں کو مدینے میں چھوڑ کر  تشریف لے جانے کی سفارش کی، اس وقت حضرت زینب(س) نے یہ تاریخی جملہ فرمایا:میں ہرگز  اپنے ویر حسین(ع) سے جُدا نہیں ہوسکتی ہوں، یہ کہہ کر اپنے شوہر جناب عبد اللہ بن جعفر کی خدمت میں جاکر ان سے اجازت لے کر امام حسین(ع) کے ہمراہ  سفر کیا، نیز ہر منزل پر نہضت امام حسین(ع) کی نصرت کی۔

     جیسے کہ ہم نے  پہلے  بھی  اس بات کی طرف اشارہ کیا ، کہ حضرت زینب(س)علم و کمالات کے مالک تھیں،ایسا ہونا، ان صاحب عصمت او رطہارت ہستیوں کو ہی زیب دیتا ہے۔حضرت زینب(س) کی پرورش ایسے گھرانے میں ہوئی  ، جس کے مکینوں کو اللہ نے  ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ  قرار دےدیا ہے۔ اگر چہ جناب زینب(س) عصمت کے اس درجے پر فائز نہیں تھیں،جس پر رسول خدا(ص)،حضرت زہرا(س) اور ائمّہ معصومین(ع)،فائز تھے۔لیکن اس کے باوجود ان کے وجود مقدس میں بھی عصمت کا عنصر پایا جاتا ہے۔چنانچہ ان کے القاب میں  سے ایک"معصومہ صغرا"ذکر ہواہے۔ ان کے القاب جو تاریخی کتابوں میں نقل ہوے ہیں ، وہ اسطرح سے ہیں: محدثہ،عالمۃ غیر معلّمہ،عقیلۃ النساء، الکاملۃ الفقاہۃ، صدیقۃ صغرا،نائبۃ الزہراء،فاضلہ، فہیمہ،عابدہ۔۔۔

محدّثہ:

    حضرت زینب(س) کے جملہ القاب میں سے ایک معروف لقب،محدّثہ ہے۔ اس  کی علت یہ ہے کہ ان سے متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔جیساکہ تاریخ کے مشہورترین راوی اور مفسّر قرآن، جناب ابن عباس نے خطبہ حضرت زہرا(س) کے سلسلے میں یوں فرمایا ہے:"حدثنی عقیلتنا زینب(س)"۔

عبادت:

     حضرت زینب(س) انتہائی  پارسا اورعبادت گذار خاتون تھیں، ہمیشہ  اللہ کی عبادت میں مصروف رہتی تھیں۔ انہوں نے اپنی پر برکت زندگی میں، کھبی بھی نافلہ شب ترک نہیں کیا۔ چنانچہ امام سجاد(ع) فرماتے ہیں: میری پھوپھی امّا  سے ،کسی بھی حالت میں نمازشب فوت نہیں ہوئی، یہاں تک کہ شب عاشور جب حضرت امام حسین(ع) ان کی خدمت میں رخصتی کے لئے حاضر ہوئے،  تو آپ(ع) نے بہن زینب(ع) سے مخاطب ہوکر یوں فرمایا:" يَا اُختَاه‏، لَا تَنسِينِی‏ فِي نَافِلَة الَّليل"ای خواہر گرامی! نماز شب میں مجھے فراموش نہیں کرنا۔

    اسی طرح جناب فاطمہ بنت  امام حسین(ع) سے مروی ہے : "اَمَّا عَمَّتِي زِينَب فَاِنَّها لَم تَزل قَائِمِة فِی تِلکَ الَّليلَة، (اَی العاَشِرَة مِنَ اَلمُحَرَّمِ) فِی مِحرَابِها" ہماری پھوپھی  زینب(س) نے اس رات(شب عاشور)(پوری رات)  جاگ  کرعبادت میں  گذاری۔[1]

    امام سجاد(ع) فرماتے ہیں: حضرت زینب(س) نے کربلا سے کوفہ،  اور کوفہ سے شام کے راستے میں بھی نمازشب ترک نہیں کیا اور چنانچہ بعض مقامات پر جسم کی کمزور ی اور نقاہت کی وجہ سے بیٹھ کر نمازادا کی۔[2]

 شجاعت حضرت سیّدہ  زینب(س):

      یہ ایک ناقابل انکار اور  مسلم بات ہے،  کہ حصرت زینب(س) شجاعت اور  بے باکی کے اعتبار سے، ایک بے نظیر خاتون تھیں، اس بات کا اعتراف دشمنان اھلبیت(ع) نے بھی کیا ہے۔ بھا‏ئی کی شہادت کے بعد، جس شجاعت اور جرئت کا  جناب زینب(س) نے مظاہرہ کیا، وہ تاریخ  بشریت میں ایک اہم نمونہ ہے۔

    عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی کا بھرا گھر اجڑ جاتا ہے،  اور اپنے آپ کو  دشمن کی اسارت میں پاتاہے، تو اس ستم دیدہ انسان کے وجود میں ہمیشہ خوف اور بےچینی کا عنصر پایا جاتا ہے۔    ایسی کیفیت کا پیدا ہونا،  ایک  عادی اور  معمولی امر ہے۔ لیکن جب ہم  داستان کربلا کی طرف نظر  ڈالتے ہیں، تو ہمیں قضیہ برعکس نظر آتا ہے۔ جناب سیدہ زینب(س)  نے کربلا کی ٹریجڈی کے  بعد ایک ایسی غیر معمولی کیفیت اپنے اندر پیدا کی، کہ اعداء آل محمد (ص)، بھی  دنگ ہو کر  رہ گئے۔ جناب زینب(س) نے نہ صرف اپنے آپ کو  اسیر کہلانا گوارا نہیں کیا، بلکہ پیامبر کربلا  بن کر دنیا والوں پر یہ ثابت کردیا کہ کون حق پر ہے، اور کون باطل پر۔

      اگر امام حسین(ع) نے اپنے پاک لہو  کے ذریعے،  اسلام کو  زندہ کیا ہے، تو  سیّدہ زینب(س) نے اس  خون پاک کی عملی تفسیر کر تے ہوئے، اپنے حیدری لہجے میں، گفتار کے ذریعے، اسلام کی ڈوپتی ہوئی کشتی کو نجات کا کنارہ   بخشا ہے۔

   شہادت امام حسین(ع) کے بعد حضرت زینب(س) پر  کچھ  نہایت سنگین زمہ داریاں تھیں؛جن میں یتیموں کی سرپرستی، حسینی مشن کی پاسداری، اہلبیت عصمت و طہارت(ع) کی حقانیت سے دفاع ،  آل ابوسفیان کے پلید   چہرے کا بے نقاب کرنا اور بنی امیہ کی منافقت کو  دنیا پر آشکار کرنا ،قابل ذکر ہیں۔

 جیسے کہ شاعر کہتا ہے:

سر نی در نینوا می ماند اگر زینب نبود* کربلا در کربلا می ماند اگر زینب نبود

چهره سرخ حقیقت بعد از آن توفان رنگ* پشت ابری از ریا می ماند اگر زینب نبود

" سر امام حسین(ع) نیزے کی انی پر کربلا میں ہی رہ جاتا، اگر زینب(س) نہ ہوتی*( نہضت) کربلا ، کربلا تک ہی محدود رہ جاتی، اگر زینب (س) نہ ہوتی۔"

" کربلا کے  سہمگین طوفان کے بعد، حقانیت کے سرخرو*( بنی امیہ کی) ریا کاری کی  کالی  گٹھا  کے پیچھے چھب کر رہ  جاتا، اگر زینب(س) نہ ہوتی۔"

         یقینا؛  اگر واقعہ  عاشورا کے بعدحضرت  زینب(س) نے وہ حماسی  کارنامے  انجام نہ  دیے ہوتے، تو آج نتیحہ کچھ اور ہوتا،  جس مقدس  مقصد کے تئیں امام حسین(ع) نے  قیام کیا تھا، وہ کسی  پر عیاں نہ ہوتا، اور  بنی امیہ اپنے مزموم مقاصد میں کامیاب ہو جاتے۔

    لیکن شیر خدا کی بیٹی نے  مختلف زمان و مکان پر اپنے  فصیح و بلیغ خطبوں کے ذریعے،باطل قوتوں کو ذلیل ،اور حقانیت کوعزت بخشی۔ دنیا کے تمام انصاف پسند اور  حق شناس لوگوں  کے ‍ضمیر کو جھنجوڑ کر غفلت کی نید سے بیدار کیا۔

       لکھا ہے کہ جناب زینب(س) کا وہ تاریخی خطبہ، جو  دربار  یزید(لع) میں دیا، اس قدر تاثیر گذار خطبہ تھا ، کہ لوگ  سن کر داڈھے مار کر  رونے لگے، اور یزید(لع) کے دربار میں ہلچل مچ گیا۔ لوگ اس انداز سے ثانی زہرا(س) کا خطبہ سن رہے تھے کہ گویا،علی علیہ السلام کا خطبہ سن رہے ہوں۔

       بہرحال،  سیّدہ زینب(س) کے خطبے نے دربار   بنی امیہ میں بھی لوگوں کے ضمیر کو  جگایا،  اور یزیدیت کو ہمیشہ کیلئے ذلیل و خوار کر کے رکھ دیا۔

 

 حجاب و عفت:

    جناب زینب(س) کی حیا ء اور عفت  کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ، نبی گرامی اسلام(ص) اور امام علی(ع) کے زمانے سے لیکر  عاشورا تک، کسی  نامحرم نے  حضرت زینب(س) کو نہیں دیکھا۔

  یحیی مازنی جن کا شمار مشہورترین علماء اور راویان میں ہوتا ہے،وہ  یوں نقل کرتے ہیں:

   " کافی مدت سے میں مدینہ میں زندگی گزار رہا تھا، اور میرا گھر امیر المؤمنین علی(ع) کے دولت خانے کے ہمسایے میں واقع تھا، اور زینب(س)  بنت علی(ع) اسی دولت خانے میں زندگی گذار رہی تھیں؛ میں نے اس دوران حتی ایک مرتبہ بھی نہ جناب زینب(س) کو دیکھا،   اور نہ ان کی آواز سنی۔ جب  اپنے نانا  رسول خدا(ص) کی قبر شریف کی زیارت کے مشتاق  ہو تی، تو رات کے  اندھرے میں،  اس شان وشوکت کے ساتھ جایا کرتی تھیں، کہ امام  علی(ع) اور حسنین(ع) ان کے ہمراہ ہوا کرتے تھے۔ اور جب رسول اللہ(ص) کی روضہ اقدس کے نزدیک ہو جاتے،تو امام علی(ع) آگے بڑھ کر قبر شریف  کے اطراف سے چراغ  بجھا یا کر تے تھے۔

 ایک دن امام حسن(ع) نے چراغ  خاموش کرنے کی علت پوچھی ،تو  امام علی(ع) نے  فرمایا:

 " «اَخشی اَن یَنظُر اَحَد اِلی شَخصِ اُختِکَ زَینَبَ" ۔ مجھے اس بات کا خوف ہے کہ کوئی اس روشنی میں،تمہاری خواہر گرامی کی طرف نگاہ کرے۔ [3]

       یہ تھی غیرت علوی اور حیاء زینبی  کی حد! آج  ہمارے   مَروں کو غیرت علوی،  اور ہماری ماں بہنوں کو ، حیاء  زینبی کی اشد ضرورت ہے۔ جس سوسائٹی کے اندر  انسانی اقدار، غیرت اور حیاء ختم ہوجائے، تو اس معاشرے  میں فساد، ظلم،بی عدالتی اور بے راہ روی کا عام ہونا، یقینی ہے۔  نیز اس سماج میں موجود افراد کی کوئی خیر نہیں ہوگی۔ جیسے روایت میں آیا ہے:" مَن لاحَیاءَ لَهُ لاخَیر فِیهِ" [4]جس انسان کے اندر حیا نہ ہو، اس کے اندر کوئی خیر نہیں ہوتی۔

   لہذ ان  مشکلات سے نمٹنے کا واحد راستہ، سیرت اہلبیت(ع) پر گامزن رہنا ہے۔

        یہی وجہ ہے کہ  روایات معصومین(ع) میں ، بے حیائی کو، بے دینی  اور بی ایمانی سے تعبیر کیا ہے۔

امام صادق (ع) فرماتے ہیں: "لاایمانَ لِمَن لاحَیاءَ لَهُ"۔[5]  جس کے پاس حیا نہیں ہے،  اس کے پاس ایمان نہیں ہے۔

     امام باقر (ع) فرماتے ہیں: "اَلحَیاءُ وَ الاِیمان مَقرُونانِ فی قَرنٍ فَاِذا ذَهَبَ اَحَدَهُما تَبَعهُ صاحِبهُ" ؛ [6]حیا اور ایمان  ہمیشہ ایک دوسرے کے قرین اور  ہمراہ ہوتے ہیں، اور اگر ان میں سے ایک چلا جائے، تو دوسرا  بھی اس کی تبعیت میں چلاجاتا ہے۔

  امام حسین (ع) فرماتے ہیں: "لا حَیاءَ لِمَن لادِینَ لَهُ" [7]جس کے پاس  دین نہیں ہے،  اس کے پاس حیا ءنہیں ہے ۔

پیامبر اکرم(ص) فرماتے: "الحَیاءَ عَشرَةُ اَجزاءٍ فَتِسعَة فِی النِّساءِ وَ واحِدٌ فی الرِّجالِ"؛[8]

 حیاء کے دس جزء ہوتے ہیں،ان میں سے نو جزء عورتوں کے حصے میں ، اور ایک جزء مردوں  کے حصے میں ہے.

  حیا  صرف عورتوں سے مخصوص نہیں ہے،  بلکہ مردوں کو بھی اس کی رعایت کرنا ضروری ہے۔

    قرآن مجید،  غالبا ْکلی طور پر مسائل کو بیان کرتا ہے،لیکن بعض حیاتی اور اسٹراٹیجک مسئلے کو  بطور جزئی  اور تمام خصوصیات کے ہمراہ بیان کرتا ہے۔  ان اہمیت کے حامل  مسائل میں سے ایک، حضرت شعیب(ع) کی بیٹیوں کے داستان اور حضرت موسی(ع) کے   ان  کے ساتھ  مبینہ  سلوک اور رفتار ہے۔

        قرآن کریم اس  ماجرا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: جب حضرت موسی(ع)چاہ   مدین (مدین  شہر کی نواح میں واقع کنواں) پر پہنچے، تو ایک جماعت کو دیکھا،  جو اپنے مویشیوں کو  سیراب کرنے میں مشغول تھی ؛ ان   سے زرا  دور ، ایک مقام پر دو خاتون نظر آرہی تھیں ،جو  اپنے مویشیوں کی رکھوالی ،  اور  لوگوں کے کنویں سے دور ہونے کا انتظار کر رہی تھیں۔

  حضرت  موسی(ع) آگے بڑھ کر   ان سے  سوال کیا:تمہارے کام کیا ہے؟حضرت شعیب(ع) کی بیٹیوں نے کہا : ہم اپنے مویشیوں کو  تب تک پانی نہیں پلاتے،  جب  تک  لوگ کنویں کے پاس ہیں۔ حضرت موسی(ع) نے ان کی مدد کرتے ہوئے، مویشیوں کو سیراب کیا۔ ۔۔

     قرآن اس داستان کو جاری رکھتے ہوئے، حضرت شعیب(ع) کی ایک بیٹی کے واپس آنے  کی صورت حال  کی منظر کشی کرتے ہوے مزید ارشاد فرما رہا ہے:" فَجاءَتهُ اِحدا هُما تَمشی عَلَی اِستِحیاء قالَت اِنَّ اَبی یَدعُوک لِیَجزِیَکَ اَجرَما سَقَیتَ لَنا"۔[9]

   یکایک  ان  دو لڑکیوں میں سے ایک، "شرم و حیا  "کے ساتھ حضرت موسی(ع) کی خدمت میں آ کر عرض کیا : ہمارے والد نے آپ کو طلب کیا ہے ،تاکہ  اس  کام  کی اجرت ادا کیا جائے، جو آپ نے  جانورں کو سیراب کرنے کے سلسلے میں انجام دیا تھا۔

  اس آیہ شریفہ سے ہم چند اہم، حیا   اور پاکدامنی  کے نمونے دریافت کر سکتے ہیں:

1۔جب تک(نامحرم)  مردوں کی جماعت،  کنویں کے ارد گرد موجود تھی،حضرت شعیب(ع) کی بیٹیاں کنویں کے قریب نہیں گئیں۔

2۔ اس وقت اپنے جانوروں کو سیراب کرنے کیلئے تیار ہوئیں،جب سب لوگ وہاں سے چلے گیئے تھے۔

3۔شرم اور حیا  کے  ساتھ،  حضرت موسی(ع) کے پاس آگئی۔

4۔یہ نہیں کہا کہ ہم تمہاری مزدوری کو آدا کرنا چاہتے ہیں، بلکہ کہا: ہمارے والد آپ کو بلا رہے ہیں ، تاکہ  آپ کی اجرت ادا کریں۔

5۔جب حضرت موسی(ع) حضرت  شعیب (ع) کے گھر روانہ ہوئے، تو انہون نے بھی نہایت عفت اور حیا  کا  مظاہرہ کرتے ہوئے اس لڑکی سے کہا ،کہ میرے پیچھے پیچھے حرکت کرنا،تاکہ ان کی نظر اس لڑکی کے بدن پر نہ پڑھ  پائے۔

  ایثار و فدا کاری:

     حضرت زینب(‎س)  کی جملہ خصوصیات میں سے ایک ، ایثار اور فداکاری ہے،در حقیقت   فضیلت اور  خوبی ، ان زوات مقدسات کے وجود میں،  اتم اور اکمل طریقے سے موجود ہو تےہیں۔حضرت ز ینب(س) نے   اس خانوادے میں تربیت اور پرورش پائی ،جن کے ایثار اور فداکاری کو دیکھ کر  ،  اللہ  تعالی نے  قرآن مجید کے اندر ایک مکمل سورہ، "سورۂ الانسان" کے نام پر نازل کیا ہے۔

     جناب زینب(س) وہ  منفرد خاتون ہے،  جن کے نانا،والد، والدہ، اور  دو بھائی   معصوم  ہیں، اور ایسا ہونا ان کیلئے  ایک امتیاز شمار ہوتا ہے۔

     ایک دن حضرت علی(ع) نے ایک غریب اور نادار شخص کو  اپنے گھر لے کر آئے، تا کہ اس کو کھانے کیلئے کچھ دیا جائے۔

 جب حضرت زہرا(س) سے کھانے کا تقاضا کیا،   تو جواب ملا کہ گھر میں کھانے کیلئے کوئی چیز موجود نہیں ہے،مگر یہ کہ ایک مختصر سا کھانا ہے،  جو بیٹی زینب(س) کی خاطر بچا کر رکھا ہے۔

  حب سیّدہ زینب(س) نے  یہ گفتگو سنی، تو  فوراْ  فرمایا: میرا کھانا غریب مہمان کو دے  دیجئے؛  جب کہ ان کی عمر شریف صرف چار سال تھی۔

    ان  تمام صفات کے علاوہ اور بھی بہت  ساری  نیک خصوصیات ان بزرگوار میں پائی جاتی ہیں، جیسے صبر، بردباری، فصاحت و بلاغت اور سادہ زیستی وغیرہ۔

  اللہ ،ہم سب کو  اہل بیت(ع) کی سیرت پاک پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرما ئے۔آمین۔

11جنوری2019

          

حوالہ جات:


[1] عوالم العلوم و المعارف والأحوال من الآيات و الأخبار و الأقوال (مستدرك سيدة النساء إلى الإمام الجواد)، بحرانى اصفهانى، عبد الله بن نور الله‏، ج11، ص955، ايران؛ قم‏.
[10]. همان، ص 954.

[2] مجله فرهنگ كوثر شهریور 1376، شماره 6

[3] . شیخ جعفر نقدی، کتاب زینب کبری، ص 22، و ریاحین، ج3،ص 60.

[4] عبدالواحد آمدی، غررالحکم، ترجمه علی انصاری، ص 646.

[5] میزان الحکمه ص 717، روایت 4570.

[6] بحارالانوار، ج 78، ص 309.

[7] میزان الحکمه، ج 2، ص 717،

[8] میزان الحکمه، ج،2، ص 730، روایت 4603.

[9] قصص،آیت25۔

 

بسم اللہ  الرحمن الرحیم

٭نظام ولایت علی(ع) تا نظام ولایت فقیہ٭

(تحریر:خادم حسین آخوندی)

 

  مقدّمہ:

   انسان کو اچھی  اور سعادت مندانہ  زندگی گزارنے کی خاطر ایک بہترین قانون اور منظم نظام کا ہونا  ضرورت ہے ، اگر کسی سماج میں کوئی نظام اور قانون حاکم نہ ہو،  تو وہ سماج ایک دن بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔
     دوسری بات یہ کہ یہ قانون اور دستورات کون معین کرے،  خود انسان یا اس کا بنانے والا؟ واضح ہے کہ انسان اپنی ناقص عقل کے  بل بوتے پر اپنے لیے  ایک مفید قانون بنانے سے قاصر ہے۔  چونکہ وہ مکمل طور پر اپنے بارے میں معلومات نہیں  رکھتا۔ اور اگر با لفرض   دنیا ‏ئی اعتبار سےکو ئی اچھا سے اچھا قانون بنا بھی لے لیکن چونکہ اس کی زندگی اس  مادی دنیا میں محدود نہیں ہے بلکہ اگلی دنیا میں بھی جاری ہے اور یہ دنیا  اس لازوال دنیا کے لیے مقدمہ ہے ،لہذا  ایک  ایسا  جامع قانون کی ضرورت   ہے جس  پر عمل پیرا ہوکر انسان اس مادی  دنیا کے ساتھ ساتھ  اگلی  دنیا کی زندگی کو بھی سنوار سکے۔ تو ایسا قانون وہی بنا سکتا ہے جو انسان اور اس کی زندگی کی تمامتر جزئیات کے بارے میں سب سے زیادہ آشنا ہو۔ اور  وہ صرف اس کا  خالق ہی ہو سکتا  ہے وہی جانتا ہے کہ انسان کیسا مخلوق  ہے اور اس  کا مقصد حیات کیا ہے،   وہی بہتر جانتا  ہے کہ  اس دنیا میں جینے کا صحیح  سلیقہ کیا ہے۔ اور دنیای آخرت کی فلاح و بہبود کی خاطر کیا کرنا چاہئے۔
    یہی وجہ ہے کہ  اللہ نے انسان کے لیے قانون بنانے اور اس کو چلانے کا اختیار اپنی زات کے علاوہ کسی کو نہیں دیا ،اگر کسی کو دیا ہے تو وہ صرف اپنے مخصوص بندوں کو دیا ہے۔ قرآن نے واضح الفاظ میں فرمایا’’ لا حکم الا للہ ‘‘۔حکومت کا حق صرف اللہ کو ہے۔ لیکن چونکہ اللہ تعالی بنفس نفیس روئے زمین پر ظاہر ہو کر حکومت نہیں کر سکتا،  اس لیے کہ انسانوں پر حکومت کے لیے ضروری ہے کہ  کوئی انہیں کے جیسا جسم و بدن رکھنے والا موجود ہو جو ان کے درمیان نظام قائم کرے ، لہذا اپنے نمایندوں کے  طور پر انبیاء اور اولیاء(ع) کو اس مقصد کیلئے انتخاب فرمایا ۔

  سلسلہ انبیاء کے ختم ہونے کے بعد   اللہ نے  اپنے خاص بندوں کو  اپنا  جانشین مقرر کر  کے  انسان پر ان کی اطاعت واجب قرار دے دیا، ان میں سے  پہلا جانشین امام علی(ع) اور آخری حجت امام مھدی(عج) ہيں، ان  کی غیبت کے زمانے میں فقہاء عظام ان کے جانشین ہو تے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

نظام ولایت علی(ع) کی مشروعیت۔

     اسلام کے آنے سے قبل بالعموم دنیا  اور با لخصوص جزیرہ نما عربستان،   جہالت اور اندھیرے میں ڈوبے ہو ئےتھے، لوگ شرف انسانیت سے عاری ہوکر زندگی گزارہے تھے،قتل و غارت گری اپنے عروج پر تھے، انسان  حیوان کے ظرز کی زندگی گزار رہا تھا۔ 

     لیکن جب اس اندھیرے میں ڈھوبی  ہوئی سر زمین پر ، آفتاب اسلام   طلوع ہوا ، یکایک اس کی کرن کی  ضیاء اس  سناٹے پر غالب آگئی۔  یہ اسلام کا ہی کمال اور ہنر تھا کہ  جہالت اور تعصّب میں ڈوبی ہوئی قوم کو راہ ہدایت پر گامزن کر کے   انہیں سعادت اور خوشبختی کی زندگی جینے کا سلیقہ سکھا یا،امیر المؤ منین علی(ع) نہج   البلاغہ میں قبل از اسلام عربوں کی اجتماعی وضعیت کی طرف اشارہ  کرتے ہوئے فرما تے ہیں: "خداوند متعال نے محمد(ص)  کو  دنیا والوں کیلئےمبلّغ اور  رسالت اور نزول قرآن کے سلسلے میں امانتدار بنا کر بیجا۔ اور تم  ای  اہل عرب! تم لوگ بدترین دین  کے مانے والے اور بدترین معاشرے میں زندگی گزار رہے تھے،

 سخت  پتھروں اور بہرے سانپوں کے  درمیاں  زندگی گزارتے تھے، آلودہ پانی اور نامناسب ‏غذا کھا یا کرتے تھے، ایک دوسرے  کے خون بہانے سے باز  نہ آجاتے تھے،صلح رحم کو قطع کر دیتے تھے، بتوں کی پرستش کرتے تھے اور شدید ترین انحرافات اور گناہوں میں تم لوگ گرفتار ہو چکے تھے"۔[1]

        اب حضرت امیر(ع) کے اس نورانی کلام سے بخوبی اندازہ  ہوتا ہے کہ عرب معاشرہ انسانیت کی تہذیب سے کس قدر  گرا ہوا تھا، اسی وجہ سے  قرآن ، اس دور کو جاہلّیت  اولی ( پہلی جاہلیت)سے یاد کرتا ہے، اسے معلوم ہوتا ہے کہ  ایک  دوسری جاہلّیت بھی ہے ۔      اس جاہلّیت کا مقا بلہ کرنے کے سلسلے میں پیامبر(ص) کو انتھائی کٹھن  مراحل سے گذرنا پڑا، چنانچہ خود رسالت مآب(ص) فرماتے ہیں:" ما اوذی نبی بمثل ما اوذیت" کسی بھی نبی کو میری جیسی ازیت نہیں ہوئی۔[2] جب  پیامبر(ص) کے چاہنے والوں کی تعداد کسی حد تک بڑھ گئی اور زمینی سطح  پر نظام نبوت کی تشکیل کے زمینے فراہم ہوچکے، تو آپ(ص) نے پہلی اسلامی نظام حکومت کا قیام عمل میں لایا۔ اس الہی حکویت کی شروعات سے ہی مشرکین  اور مستکبرین نے  مزاحمتی محاز کھول دیئے اور  رسول اللہ (ص)کی اس خدائی مشن کو سدّباب،  نیز طرح طرح کی رکاوٹوں کو ایجاد  کر نے کے حوالے سے کوئی کسر  باقی نہیں  چھوڑی۔  پیامبر(ص) کی پر برکت  زندگی کے بیشتر اوقات  ،اسلام دشمن عناصر کے ساتھ جنگ لڑنے میں گزر گئے اور بہت سارے دینی، اجتماعی،سیاسی امور کی اصلاحات باقی رہ گئیں، لہذا  باقی ماندہ  امور کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی خاطر  حکم الٰہی کی تعمیل کرتے ہوئے، غدیر خم کے مقام پرامیرالمؤمنین علی(ع) کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ شیعہ اور سنی علماء نے اعتراف کیا ہے کہ آیہ بلّغ اسی موضوع کے بارے میں نازل ہوئی ہے، چنانچہ وہابی مسلک کے بانی ابن تیمیہ نے بھی اپنی کتاب میں اس بات کا  اعتراف کیا ہے ، آیہ بلّغ (يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ۔۔۔)[3] غدیر خم میں ہی نازل ہوئی ہے۔[4]

  تاریخی اسناد اور فریقین کی کتب احادیث سے یہ مطلب بلکل واضح ہے کہ امیرالمؤمنین(ع) کی نظام  حکومت کی مشروعیّت اللہ اور اس کے رسول(ص) کے دستور سے  نہ صرف ثابت ہے بلکہ یہ نظام حکومت، رسول اللہ کی نظام حکومت کا امتداد اور اسی کا سلسلہ ہے ا ور یہ سلسلہ مختلف  شکل اور کیفیت میں ہمیشہ  جاری رہےگا۔

*نظام ولایت فقیہ کی مشروعیت

     اصلِ  ولایت اور حکومت کا سلسلہ اللہ سے شروع ہوا،  جو اس نے اپنے نبیوں کے حوالے کیا۔ انبیاء(ع)  کا سلسلہ جب تک رہا انہوں نے حکومت قائم کرنے کی کوشش کی بعض اس راہ میں کامیاب ہوئے  اور  بعض ناکام،  اسی وجہ سے ہر نبی کی اپنے زمانے کے بادشاہ سے ٹکر رہی۔ انبیاء(ع)  کا سلسلہ جب ختم ہوا تو ایسا نہیں کہ ولایت اور حکومت کا سلسلہ بھی منقطع ہو جائے چونکہ انسان ابھی موجود ہے اور جب تک انسان ہے اسے نظام اور قانون کی ضرورت ہے۔ اور یہ طے ہے کہ نظام چلانے اور قانون بنانے کا حق صرف اللہ کو ہے ،یا پھر اس کے نمائندوں کو یہ حق دیا گیا ہے،  لہذا  ولایت اور حکومت کا سلسلہ ختم نہیں ہو سکتا، اس وجہ سے انبیاء(ع)  نے اس سلسلے کو اپنے اوصیاء کی طرف منتقل کیا ائمہ طاہرین(ع) جب تک موجود تھے، وہی الہی حکومت کے عہدہ دار تھے، اب دنیا کے شرائط نے انہیں حکومت کرنے دیا یا نہیں کرنے دیا،  یا وہ اپنی سعی میں کامیاب ہوئے یا نہیں ہوئے وہ الگ مسئلہ ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے جب تک وہ زندہ یا ظاہری طور پر موجود تھے حکومت اور ولایت کا حق انہیں کو حاصل تھا عصر غیبت کے شروع ہوتے ہی یہ سوال پیدا ہوا کہ اب یہ حق کس کی طرف منتقل ہونا چاہیے؟ کیا اس الہی نظام حکومت کا سلسلہ ختم ہونا جانا چاہیے یا آگے بڑھنا چاہیے؟ واضح ہے جب اللہ ہے،  اس کے بندے ہیں،  تو اس کی حکومت بھی ہونا چاہیے ؛یہ سلسلہ ختم نہیں ہو سکتا۔ لہذا بارہویں امام (ع)نے اس سلسلے کو فقہا کی طرف منتقل کیا ؛

"کتاب اکمال الدین اور تمام النعمۃ میں محمد بن محمد بن عصام بن محمد بن یعقوب بن اسحاق بن یعقوب سے منقول ہے کہ اسحاق بن یعقوب نے حضرت ولی عصر(ع) کو ایک خط لکھ کر اپنی مشکلات کا اس میں ذکر کیا جسے محمد بن عثمان عمری حضرت کے نائب خاص نے، حضرت کو یہ خط پہنچایا۔ اس خط کا جواب خود حضرت نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر بھیجا:’’ جو حوادث تم کو پیش آئیں ان میں ان کی طرف رجوع کرو جو ہم سے روایت نقل کرتے ہیں( یعنی علماء و فقہا) کیونکہ وہ تم پر ہماری طرف سے حجت ہیں اور ہم ان پر اللہ کی طرف سے حجت ہیں"۔[5]
   یہ حدیث جو تمام اہل تشیع کی حدیثی کتابوں میں موجود ہے ، میں واضح طور پر امام(عج) نے سماج کو پیش آنے والے جدید مسائل میں فقہا کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے،  اور یہ بات طے ہے کہ حدیث میں ’’حوادث واقعہ‘‘ سے مراد شرعی مسائل نہیں ہیں،  چونکہ پوچھنے والا یہ جانتا ہے کہ شرعی مسائل کس سے پوچھے جا سکتے ہیں ، اس لیے کہ ائمّہ(ع)  کے دور میں بھی شرعی مسائل کے لیے ائمّہ(ع)، فقہا کی طرف لوگوں کو لوٹا دیتے تھے۔ یہاں پر ڈھکے چھپے الفاظ میں جو ’’حوادث واقعہ‘‘ کی تعبیر استعمال کی جا رہی ہے،  اس سے مراد سماج کو درپیش سیاسی اور ثقافتی مسائل ہیں جن کی عہدہ دار ایک حکومت ہوا کرتی ہے ،تو امام(ع)  نے شیعہ سماج کو تمام سیاسی، اجتماعی اور ثقافتی مسائل میں فقہا کی طرف رجوع کرنے کا حکم  فرمایا،  اور یہ در حقیقت اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امام(ع)  نے اس عہدہ الٰہی کو جو ولایت الہیہ کا عہدہ ہے،  اپنے بعد فقہاء کے حوالے کیا اور یہ چیز سب پر عیاں ہے کہ اس دور میں اس طرح کی باتوں کو اسرار و رموز میں بیان کیا جاتا تھا تاکہ دشمن سمجھ نہ سکیں،   اگر امام (ع) واضح الفاظ میں فرما دیتے کہ آج کے بعد عہدہ ولایت کے حامل فقہا ہیں،  تو دشمن ہر شیعہ فقیہ کو تہہ تیغ کرنا شروع کر دیتے، لہذا مبہم تعبیرات استعمال کر کے اس عہدے کو فقہا تک منتقل کیا۔

   یاد رہے کہ جمہوری اسلامی ایران میں  ولایت فقیہ کی حکومت کا قیام  عمل میں آنے کے  بعد شخص ولی فقیہ  اس الٰہی منصب کا عہددار ہوتا ہے ، جن کو مجلس خبرگان میں موجود  فقہاء عظام، شرائط اورضوابط کا لحاظ کرکے انتخاب کرتے ہیں۔

 واضح رہے کہ نظام ولایت فقیہ کا موضوع ایسا نہیں ہے کہ حضرت امام خمینی(رہ) نے پہلی مرتبہ خود سے ایجاد کیا ہو، بلکہ اس کا  تصوّر اور اس کے دائرہ اختیار کے حدود کے حوالے سے   ان سے پہلے ہمارے جیّد علماء اور فقہاء نے اپنی کتابوں میں  بحث کی ہے، جیسے صاحب جواہر اور    شہرہ آفاق دانشمند اور فلاسفر شہید محمد باقر الصدرؒ نے اس موضوع کو اپنی علمی اثار میں وضاحت  کی ہے۔

    شہید صدر(رہ)  حکم شرعی کی تعریف یوں کرتے  ہیں : "الحکم الشرعی هو التشریع الصادر من‌الله تعالی لتنظیم حیاه الانسان"۔[6]حکم شرعی، ایک ایسا قانون(تشریع)  ہے جواللہ کی جانب سے انسان کی حیات کو منظم بنانے کیلئے صادر ہوا ہے۔ اس تعریف میں جو لفظ "حیات انسان" آیا ہے،   اس کے دو مختلف ابعاد ہیں، بعد فردی اور  اجتماعی، بعد فردی انسان اور حیوان دونوں میں پایا جاتا ہے ، لیکن بعد اجتماعی صرف انسان سے مخصوص ہے، چونکہ انسان فطرتاْ مدنیّ الطّبع ہے۔ بعد اجتماعی کے اہم مسائل جیسے سیاست، اقتصاد،جھاد و  دفاع وغیرہ کو منیجمنٹ(Management )  کرنا حکومت کا  کام  ہوتا ہے، لہذا  حکومت کے بغیر انسان کی زندگی  ممکن ہی نہیں، جیسے کہ حضرت امیر المؤمنین(ع) نے  نہج البلاغہ میں اشارہ  فر مایا ہے:

  " لابد للناس من امیر بر او فاجر"[7] انسان کیلئے ناگزیر، حاکم کی ضرورت ہے،چاہے نیک ہو یا  فاجر۔

      یعنی فاجر حاکم کا ہونا ، حاکم نہ ہونے سے بہتر ہے،چونکہ اگر حکومت نہ ہو تو معاشرے پر لاقانونیت حاکم ہوگی،  ہر سو افرا تفری (Anarchy ) کا ماحول ہوگا، پس اگر انسان اپنی فطرت پر عمل کر کے  دنیا  اور اپنے محیط زندگی کو مدینہ فاضلہ بنانا چاہے تو ضرور ی ہے کہ  ایک ایسا حکومتی نظام وجود میں لا یا جائے جو عدالت،   انصاف ، نیز انسانیت کی ہرجہت سے  فلاح  و بہبود کے ضامن ہو، اور دور حاضر میں اس نظام حکومت کا اصلی مصداق نظام ولایت فقیہ ہے، بہ نگاہ غائر دیکھا جائے تو   ولایت فقیہ، وہی  ولایت اللہ ، رسول(ص) اور ائمّہ(ع) کی ولایت کا  تسلسل ہے، حضرت امام خمینی(رہ) متعدد مرتبہ فرماتے تھے کہ ولایت فقیہ، ولایت  رسول اللہ (ص)ہے،یعنی اسی کے طول میں آجاتی ہے نہ عرض میں۔ اگر فقیہ کی ولایت، رسول اللہ(ص) اور ائمّہ معصومین(ع) کی ولایت کے طول میں نہ ہوتی ، تو ان کی  تقلید یا اطاعت کرنا   ہم پر  واجب نہ ہوتا۔

  

 

 

 

 

 

 

 *نظام ولایت علی(ع) اور  نظام ولایت فقیہ کے درمیان ایک تقابلی جائزہ*

     اگر چہ رسول اللہ(ص) کی رحلت کے بعد  امام علی(ع) کو پچیس سال کا طویل عرصہ خانہ نشین ہو کر رہنا پڑھا،  یہ عرصہ امام پر  اتنا جانکاہ تھا کہ امام(ع) نہج البلاغہ میں اس طرح یاد  فرماتے ہیں:

" صبرت و فی العین قذی و فی الحق شَجی[8] میں نے اس انسان کی طرح صبر کیا جس کی آنکھوں میں خار اور گلے میں ہڈی اٹکی ہوئی ہوں۔ لیکن  اس عرصے کے گذرجانے کے بعد  جب امام (ع) بر سر اقتدار آگئے تو  دوبارہ  الٰہی  نظام کو زندہ کر دیا۔

مجموعی طور پر حکومت علوی  ان بارزترین خصوصیات پر مشتمل تھی:

1۔ خدامحوری: امام علی(ع) حکومت کی بنیاد ہی خدامحور تھی، یعنی حکومت خود ہدف نہیں تھا بلکہ یہ احکام الٰہی کی اجرائی کے سلسلے میں ایک وسیلہ تھا۔ چنانچہ لوگوں کی بیعت کے بعد آپ (ع) نے ارشاد فرمایا:"‎ إِنِّی أُرِیدُکُمْ لِلَّهِ۔۔"[9] میں تم لوگوں کو دین خدا کے لئے چاہتا ہوں۔ امام(ع) ہر چیز  پر رضای خدا کو مقدم رکھتے تھے۔ ان کی حکومت کا محور دین ہوتا تھا نہ لوگ، بہ الفاظ دیگر نظام ولایت یا حکو مت دینی میں صرف کثرت انسان ملاک  نہیں ہوتا،  مطلق ڈیموکریسی جو آج کی دنیا میں خاص طور پر مغربی دنیا میں سب سے کامیاب نظام حکومت مانا جاتا ہے،اس قسم کی جمہوریت نظام مقدس ولایت میں قابل قبول نہیں ہے، اس نوعیت کی جمہوریت  کی اصلّیت کو شاعر مشرق زمین علامہ اقبال نے یوں بیان کیا ہے:"

"گريز از طرز جمهوري غلام پخته کاري شو  * که از مغز دو صد خر فکر انساني نمي آيد"

ہوشیار اور تجربہ کار انسان بن کے رہو اور ایسی جمہوریت[1] سے ہمیشہ بیزار رہو، چونکہ  اگر دوسو کی تعداد میں گدھوں کے دماغ کو جمع کیا جائے ، تب بھی ایک انسان کی فکر کے برابر نہیں ہوسکتی۔

 

  اگر چہ اس مقدس نظام میں بھی عوام کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاتا، بلکہ اس نظام کے متن میں لوگوں کی حاضری انتہا‏ی اہمیت کے حامل ہوتی ہے، ہاں البتہ باقی جمہوریت اور اس طرز حکومت میں فرق اتنا ضرور ہے؛  وہ یہ کہ  باقی جمہوری نظام میں قانون کی تصویب کا ملاک، لوگوں کی اکثریت ہوتی ہے،  چاہے یہ قانون  دینی احکام کی منافی کیوں نہ ہو! لیکن نظام ولایت میں لوگ قانونی استصواب کا معیار نہیں ہوتا ، بلکہ لوگ خود اس نظام کو تشکیل دینے  والے ہوتےہیں، جس کے قانون اور دستورات خالق حقیقی کی طرف سے معین ہوتا ہے۔ حضرت امام خمینیؒ نے انقلاب کا نام "جمہوری اسلامی" اس لئے رکھا،  کیونکہ اس مقدس نظام میں لوگوں کا  رول سب سے نمایاں ہوتا ہے، اس اعتبار سے کہ قانون الٰہی کی بالادستی کو قوم کے فرد فرد نے دل وجان سے قبول کرلیا ہوتاہے، بہ الفاظ دیگر اس  نظام کے اندر  منشاء الٰھی اور منشاء انسان کے درمیان ڈیالیٹک تعلق ہوتا ہے، اور اسی بنیاد پر حکومت اسلامی وجود میں آتی ہے۔  اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جب حضرت امامؒ نے قانون اساسی کی قبولی یا عدم قبولی کا اختیار لوگوں پر چھوڑتے ہوئے constitution کو  رفرنڈیم(Referendum)کی شکل میں عوام کے سامنے رکھا،  تو اٹھانوے فیصد سے زیادہ لوگوں نے اس  نظام ولایت فقیہ کے حق میں رائے دے دی۔ اس طرح سے حضرت امام(رح) کے نزدیک ڈیموکریسی کی تعریف  صرف لوگوں کی حکومت نہیں ہے،  بلکہ لوگوں پر اللہ کی حکومت کی معنی میں ہے، جس کو اصطلاح میں

"Democratic Theocracy" یعنی "دینی ہدایت یافتہ جمہوریت"  سے تعبیر کیا جاتا ہےجوکہ نظام حکومتی کا ایک جدید ماڈل ہے ۔لہذا نظام ولایت میں ہر شئ رضاء الٰہی پر جانچی جاتی ہے۔

 2۔ عدالت طلبی: امام علی(ع) کی حکومت میں عدالت حاکم تھی، جوکہ ہر خاص و عام کے زبان زد ہے، یہاں تک کہ دشمن بھی اس کا اعتراف  کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

      جناب  ابن عباسؓ فرماتے ہیں: ایک دن مجھے امام (ع) کے خیمے میں جانے کا اتفاق ہوا، میں نے دیکھا کہ امام(ع) اپنے پھٹے پرانے جوتے کو رفوگری کر رہے ہیں ،انہوں نے فرمایا:ابن عباسؓ! اس جوتے کی کیا قیمت  ہوگی؟ میں عرض کا:کچھ نہیں!  آپ(‏ع) نے فرمایا: میری نگاہ میں اس جوتے کی  قیمت ، تم پر حکومت کرنے سے زیادہ ہے، مگر یہ کہ اس حکومت کے ذریعہ عدالت قائم کرسکوں یا کسی ذی حق کو اس کا حق دلواؤں یا کسی باطل کو ریشہ کن کرسکوں۔[10]  اسی طرح لبنان کے ایک مسیحی دانشمند جارج جرداق نے اپنی کتاب  "الأمام علی علیه السلام صوت العداله الأنسانیه" نامی کتاب میں امام علی(ع) کو شہید راہ عدالت قرار دیا ہے۔(  قتل فی محرابه لعدالته) [11]۔

 نظام ولایت فقیہ میں بھی ہرشعبہ جات کے اندر عدالت کا لحاظ رکھا جاتا ہے، یہاں تک کہ خود ولی فقیہ کی بقاء بھی   عدالت پر ہی منحصر ہے۔

3۔ عوام پسندی اور سادہ  زیستی: حکومت علوی میں  رعایا کے ساتھ حسن رفتاری سے پیش آنا ایک اہم اصول تھا، امام علی(ع) کو  ہرگز کوئی ایسی خبر سنے کو گوارا نہیں تھا کہ ان کی  حکومت میں کسی کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے ، یا کسی حکومتی عہدے دار کی جانب سے ناشائستہ رفتار سرزد ہوجائے۔ امام(ع) نے جب  جناب مالک اشترؓ کو بصرہ کا گورنر معین کیا تو انہیں ایک اہم دستور العمل بھیجا،جس میں امام(ع) فرماتے ہیں:

"  رعایا کے ساتھ مہربانی اور خوش رفتاری  سے  پیش آنا اپنا  شیوہ بنالو ( حسن رفتار کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں اپنے لئے جگہ بنالو) ایسا نہ ہو کہ تم لوگوں کے لئے درّندہ جانور بن کر ان کو طعمہ فرض کر کے   اپنے لئے غنیمت سمجھے، چونکہ عوام کی دو  قسمیں ہیں،  یا تمہارے دینی بھائی ہیں یا خلقت کے اعتیار سے  تمہاری مانند ہیں"۔[12]

  واضح رہے کہ امام(ع) کا یہ خط نہج البلاغہ کے اندر مفّصل ہے، اور یہ اس قدر جزّاب اور  حکمت آمیز ہے، جب اقوام متحدہ کے بڑے بڑے محققین نے  اس کا مطالعہ کیا تو سب حیرت میں پڑھ گئے اور اس خط سے متاثر ہوکر سنہ2004 میں اس کو اقوام متحدہ  کے انتہائی  اہم اسناد میں شامل کر دیا۔[13]  امام (ع) کی زندگی کی سادہ گی کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ امام(ع) نے  احنف بن قیس سے مخاطب ہوکر فرمایا: رہبران امت کی خوراک کو پوشاک معاشرے کے فقیرترین افراد کی مانند  اور زندگی  بھی ان کی طرح  کرنی چاہئے، تاکہ بے نوایان کیلئے نمونہ بن جائے اور فقیروں کو اپنی مشکلات سہنے میں آسانی ہوجائے۔[14]

    نظام ولایت فقیہ میں بھی ہمیں  ایسے بہت سارے نمونے دیکھنے کو  ملتے ہیں۔ چنانچہ حضرت امام خمینی(رہ) مختلف مناسبتوں کے موقع پر ان دو   اہم چیزوں (عوام پسندی اور سادہ گی) کی طرف  متذکر  ہوتے رہتے تھے،حضرت امامؒ ایک مقام پر جمہوری اسلامی کے آفیشلس سے مخاطب ہوکر   ان کو سادہ زیستی کی طرف  دعوت دیتے ہوئے فرماتے ہیں:" اگر جس دن حکومتی عہدداروں کا  رخ محلوں کی جانب ہوجائے  ، اس دن ملت اور حکومت دونوں  کا فاتحہ پڑھا جائےگا۔[15]  علاوہ بر این آج بھی رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت ا مام خامنہ ای(حفظ ا۔۔۔) ان دوچیزوں پر زیادہ اہمیت دیتے ہوئے نظر آتے ہیں، اس کی زندہ مثال یہ ہے کہ  جس زندان اور طاغوتی انٹراگیشن سنٹر(Interrogation center ) کے اندر رہبر معظم محبوس  ہوکر  قید کی صعوبتیں جیل  رہے تھے  ،اور جس قید خانے کے فرش پر بیٹھ کر آپ ستم شاہی کے ‌ ‌ظلم سہا کرتے تھے، اسی جنس کا  فرش آج   اس حسینیہ  میں بچھا یا گیا ہے جہاں رہبر معظم مہمانوں سے ملاقات اور خطاب فرماتے ہیں۔

4۔اللہ کی اطاعت اور طاغوت کی مخالفت:

    تبرّی اور تولّی دو ایسے  اہم  الفاظ ہیں جن کا شمار ہمارے  اصول دین میں  ہوتا ہے، یعنی جتنی اہمیت نماز، روزہ ،حج ، وغیرہ کی ہے، اتنی ہی اہمیت تولی اور تبرّی  کی ہے۔ ان سے مراد یہ ہے کہ ہم مسلمان ہونے کے اعتبار سے اللہ، رسول(ص) اور ائمّہ معصومین(ع) سے قلبی دوستی رکھیں اور ان کے  دشمنوں سے دشمنی رکھیں۔ اللہ تبارک تعالی نے جتنے بھی انبیاء(ع) مبعوث کیے ہیں، ان تمام الہٰی نمایندوں کے اہداف اور  مقاصد   انہی دو کلمے میں خلاصہ ہوتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالی قرآن مجید میں ارشاد

فرماتاہے:" وَ لَقَدْ بَعَثْنا في کُلِّ أُمَّةٍ رَسُولاً أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ"[16]

   ہم نے ہر امّت میں ایک رسول کو مبعوث کیا، تا کہ وہ  یہ اعلان کرے کہ  اللہ کی عبادت کریں  اور طاغوت سے  پرہیز کریں۔

 آیہ کریمہ  کے پس منظر  میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہرنظام  الٰہی کے مقابلے میں ایک باطل طاغوتی  نظام موجود تھا جو حق کی راہ میں روڈے اٹکا کر لوگوں کو انپی طرف جذب کرنے میں کوشاں رہتا تھا، جیسے حضرت آدم(ع) کے مقابل میں شیطان، ہابیل کے مقابل  میں قابل، موسی(ع) کے مقابلے میں فرعون، ابراہیم (ع) کے مقابلےمیں نمرود،عیسی(ع) کے مقابل میں قوم بنی اسرا‏ئیل  اور  رسول گرامی اسلام (ص)کے مقابل میں کفار قریش۔ سلسلہ اولیاء میں بھی ہمیں ایسے ہی نمونے نظر آتے ہیں جیسے نظام ولایت علی(ع) کے ضدّ میں بنی امیہّ نے قد علم کیا  اور باقی ائمّہ (ع) کے دور میں بنی  امیّہ اور بنی عباسی کے جابر حکمران وغیرہ۔ ان انبیاء اور اولیاء الٰہی نے  اپنے  اپنے  زمانے کے طاغوتی سلاطین سے  مختلف شکل میں مقابلے یا مبارزے کرتے رہے یہاں تک کہ غیبت کبرا کا زمانہ آگیا  اور نظام ولایت علی(ع) کے بعد   ایک لمبا عرصہ گزر جانے کے بعد حضرت امام خمینی(رہ) نے نظام ولایت علی(ع) کو نظام ولایت فقیہ کے روپ میں  احیا کیا اور اپنی قوم اور تمام مسلمانوں کو  مذکورہ  دو اہم  وظائف " اللہ کی بندگی اور طاغوت زمان سے اجتناب" کی طرف دعوت دی۔  اب اس  صدی کے اندر طاغوتی نظام مختلف شکل و صورت میں جیسے  امپریلیزم ، ا ستکباریت ، استعماریت اور صہیونیت کی شکل میں ابھر کر سامنے آگیا ہے اور  نظام ولایت فقیہ کو نابود کرنے کی غرض سے  منظم ہوکر کام کررہا ہے۔

چونکہ یہ نظام، نظام ولایت علی(ع) کا تسلسل ہے،  لہذا  اس کے اصول اور قوانین بھی  قران و سنت  کے مطابق وضع کیے گئے ہیں، لہذا طاغوت زمان کے سامنے تسلیم نہ ہونا، ظالم سے بغاوت اور مظلوم کی حمایت کرنا، اس مقدس نظام کے اہم  اصولوں میں شمار ہوتاہے، مولای کائنات کا فرمان ہے" کونا لظالم  خصما و للمظلوم عونا"[17]س نظام  کا  الگو اور نمونہ  حکومت امیر المؤمنین(ع) ہے،  لہذا اطاعت الٰہی اور  طاغوت زمان سے نبردازما ہونا اس  مقدس نظام کی اہم خصوصیات میں سے ہے۔

استقامت اور پائداری

      جن لوگوں نے  اللہ، رسول(ص) اور صاحبان امر کی ولایت کو  قبول کیا ہو،  نیز انہی کے  تسلسل یعنی ولایت فقیہ کے پرچم تلے  زندگی گزارنے  کا عزم و ارادہ کیا ہو، ان لوگوں کے وجود میں صبر و استقامت کا  ملکہ موجود ہوتا ہے، زمانہ جتنا بھی ان پر فشار ڈالے، لیکن  یہ لوگ ہرگز حق سے دستبردار نہیں ہوتے، اپنی  سرپرست  اور  امام کو کبھی تنہا نہیں چھوڈتے، دشمن کے سبز باغ کے فریفتہ نہیں ہوتے،  اور نہ ہی   طاغوتی قوتوں کی دھمکیوں اور للکاروں  سے یہ لوگ  مرغوب ہوتے  ہیں۔ جب ہم تاریخی اوراق پلٹاکر   ملاحظہ کرتے ہیں تو  ان کے بہت سارے نمونے مل جاتے ہیں۔ جیسے اصحاب کھف،حضرت طالوت  کے لشکر  میں سے ایک قلیل جماعت ، قرآن جن کو(" كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإذْنِ اللَّهِ” [18]سے یاد کرتا ہے) حضرت عیسی(ع) کے حواریین،  رسول  خدا (ص)کے بعض اصحاب، امیر المؤمنین علی(ع)  مختصر اصحاب اور  امام حسین(ع) کے با وفا اصحاب وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اس گروہ کے مقابلے میں کچھ ایسے لوگ بھی دیکھنے کو  ملتے ہیں ، جن میں ذرہ برابر استقامت اور جوانمردی پائی نہیں جاتی، ان کا ایمان سست اور کمزور ہوتا ہے، اسی وجہ سے  دشمن کی جال میں بڑی آسانی سے پھنس جاتے ہیں۔      تاریخ میں اس قسم کے  لوگوں کے  نمونے کم نہیں ہیں، جیسے، اصحاب اخدود، نمرود اور فرعون کے   زمانے میں  موجود فریب خوردہ  افراد،  منافقین کی جماعت جو مدینہ میں رہائش پزیر تھے، بنی امیہ اور بنی  عباس  کے زمانے موجود نام نہاد مسلمان وغیرہ۔ ان سب میں سے  نہضت عاشورا میں جن لوگون نے امام حسین(‏ع) کو دھوکہ دیکر کربلا میں محاصرہ کروایا،  اور بعد میں حادثہ کربلا وجود میں آگیا، ان کے کارنامے تاریخ میں سب سے سیاہ ترین اور نفرت آمیز  نمونے ہیں، چونکہ ان لوگوں نے پہلے اپنی وفاداری کا مختلف طریقے سے اعلان کیا تھا لیکن بعد میں اپنی بی بصیرتی  کی وجہ سے گمراہ ہوگئے، انہوں نے پہلے امام حسین(ع) ایلچی کی بیعت کی؛ اور بعد میں بیعت شکنی کی، در اصل کوفہ میں حضرت مسلم کی آمد ان کے لئے ایک بہت بڑی آزمائش تھی اس اعتبار سے کہ ان میں کس حد تک استقامت اور پائداری پائی جاتی ہے،لیکن اس تاریخ سا‌ز امتحان میں یہ لوگ ناکام رہے، اس ناکامی صرف ایک علت تھی وہ  تھی فقدان استقامت ، یعنی انہوں نے امام زمان کے نائب  کی ارزش کو نہیں سمجھا، جبکہ کوفے میں جناب مسلم(ع)،  امام حسین (ع) بن کر آئے تھے،ان کی اطاعت گویا امام(ع) کی اطاعت تھی۔

    یہی مثال آج بھی  ہوسکتی ہے،  ولایت فقیہ جو کہ امام زمانہ(عج) کا نائب عام کی حیثیت رکھتا ہے، اگر  کوئی ان   کی اطاعت کرنا خود پر فرض نہ سمجھے تو بعید ہے کہ کل امام زمانہ(عج) کی اطاعت  کرنے کی اسّے توفیق  نصیب ہوجائے، چونکہ جب انسان اس  شخصّیت کی معرفت  حاصل نہ کرے، جس کی اطاعت کرنا خود امام معصوم(ع) نے  واجب قرار دےدیا ہو، تو جب امام (ع) بنفس نفیس لوگوں کے درمیان  حاضر ہوجائے،  تو ایک دم سے ان کے  حکم پر لبیک کہنا ایک مشکل کام ہے۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے امام معصوم(ع) کی غیبت میں ان کے نائب کی اس طرح اطاعت کریں، گویا ان کا حکم امام زمانہ(عج) کا حکم ہے، ان کے لئے کل امام زمانہ(عج) کے  ہر حکم کو عملانا آسان ہوگا،  چونکہ انہوں نے  پہلےسے ہی اپنے اندر اس آمادگی کو تیار کر رکھا ہوتا ہے۔  ان سعادتمند لوگوں کے زمرے میں سب سے پہلے مرحلے پر  ایرانی  غیور اور بابصیرت قوم آجاتی ہے، کیونکہ  اس قوم نے اپنے  زمانے کے نائب امام کی اس قدر حمایت کی،  کہ ان سے قبل کسی قوم نے  ایک امام معصوم کی حمایت نہیں کی تھی۔  جمہوری اسلامی ایران کےمعروف اسٹرا ٹریجسٹ(Strategist) ڈاکٹر حسن عباسی کے بقول، جس  کمیت اور کیفیت کے اعتبار سے  ایرانی قوم نے حضرت امام خمینی(رہ) کی حمایت کی، اس نوعیت کی حمایت تاریخ میں کسی نبی یا امام کو حاصل نہیں تھی! اور حقیقت بھی یہی ہے چونکہ لوگوں کی عدم  طرفداری کے سبب جو کا م امام معصوم کے لئے میسر نہیں ہوا ، اس کام کو  ایرانی قوم نے  اپنے رہبر کے لئے   ممکن بنا کر   نظام ولایت علی(ع) کے خاتمے کا ایک لمّا عرصہ بیت جانے کے  بعد ،  پہلی دفعہ سرزمین ایران میں نظام ولایت فقیہ کو احیاء کر دیا۔

      عصر حاضر میں اگر کسی قوم نے اپنی دینی قیادت کے سلسلے میں بے پناہ قربانیاں دی ہے، تو وہ صرف ایرانی قوم ہے، اس قوم نے نہضت خمینی(رہ) کو  پروان چڑانے اور اس کی بقاء کے سلسلے میں بے  مثال استقامت کا جوہر دیکھایا  ؛  اور آج بھی دشمن کے مقابلے میں مقاومت کررہی ہے،  یہ ولایت مدار قوم،  نہ صرف خود  مقاومت کر رہی ہے بلکہ  پوری دنیا کے مستضعفین کو  مقاومت کا درس بھی  دے رہی ہے، فلسطین، شام،  لبنان ،عراق،بحرین اور  یمن سمیت دنیا کے مختلف گوشہ و کنار میں جو لوگ استکبار اور استعماری قوّتوں کے مقابلے میں ڑٹ کر مقاومت  کررہے ہیں، ان تمام لوگوں نے ایرانی انقلابی قوم سے  درس حاصل کرکے  اپنی مشن کو شدومت سے آگے لے جارہے ہیں ۔

     حضرت امام خمینی(رہ) نے قرن اخیر میں جس عظیم انقلاب کو پائدار  کرکے، پوری ہستی کے اندر مختلف  فیلڈ میں تحوّل اور تجدّد  ایجاد کرادیا ،  اسی طرح آج رہبر معظم حضرت امام خامنہ ای(حفظہ اللہ) کے ہاتھ میں جو قیادت اور اقتدار ہے، جس اقتدار نے استکبار عالم کی نیدیں حرام کررکھی ہے، ان سب کی علت ایک چیز ہے ، وہ ہے ایرانی مؤمن قوم کی استقامت،اگر جو دباؤ اور  طرح طرح کے دشمن کی ایجاد کردہ مشکلات، کسی دوسری قوم کے اوپر ہوتی، تو ایک دن بھی استقامت کا مظاہرہ نہ کرپاتی۔ یہی وجہ ہے کہ امام معصوم(ع) نے اس قوم کی تمجید و تعریف فرمائی ہے، چنانچہ امام موسی کاظم (ع)سے مروی ہے:

"وَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عِیسَى عَنْ أَیُّوبَ بْنِ یَحْیَى الْجَنْدَلِ عَنْ أَبِی الْحَسَنِ الْأَوَّلِ ع قَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ قُمَّ یَدْعُو النَّاسَ إِلَى الْحَقِّ یَجْتَمِعُ مَعَهُ قَوْمٌ کَزُبَرِ الْحَدِیدِ لَا تُزِلُّهُمُ الرِّیَاحُ الْعَوَاصِفُ وَ لَا یَمَلُّونَ مِنَ الْحَرَبِ وَ لَا یَجْبُنُونَ وَ عَلَى اللَّهِ یَتَوَکَّلُونَ وَ الْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِینَ‏"[19]

 اہل قم میں سے ایک شخص، لوگوں کو حق کی طرف دعوت دے گا۔ ایک ایسی قوم(جماعت) اس کی ہمراہی کرے گی،جو لوہے کے ٹکڑوں کی مانند ہوگی،ہواوں کی جھونکیاں ان کے قدموں کو نہیں ہلا سکے گی، نہ ان کوجنگ (دفاع) سے کوئی خوف ہوگا، اور نہ ہی اس سے انہیں تھکاوٹ ہوگی،  اور خدا پر توکل رکھنے والی قوم ہوگی۔

    یاد رہے کہ اس حدیث میں جو عنوان آیاہے وہ "سرزمین قم سے ایک شخص" کی عبارت  کے ساتھ آیا ہے،کسی مخصوص شخصیت کا نام ذکر نہیں ہواہے۔ لیکن اس توجہ کے ساتھ کہ جمہوری اسلامی ایران کے عظیم انقلاب کا آغاز" سرزمیں مقدّس قم" سےحضرت امام خمینی(رہ) کی حکیمانہ قیادت میں ہواتھا، لہذا بعض دانشمندوں نے اس حدیث کو حضرت امام(رہ) پر تطبیق دی ہے۔

 

 

 

 

*نظام ولایت علی(ع) اور نظام ولایت فقیہ کے  ممکنہ خطرات( در پیش چلینجز)*

*الف؛ دنیا پرستی

   قرآن مجید کلی طور پر انسان کو دو  گروہ میں تقسیم کر رہا ہے، ایک گروہ جو  اہل دنیا ہے اور دوسرا  اہل آخرت؛

"مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ"[20] تم میں سے بعض دنیا کو چاہتے ہیں اور بعض آخرت کو۔ مفسرین نے اس آیہ شریفہ کی شان نزول کو‎ غزوہ  احد قرار دے دیا ہے۔[21]  آیت مجیدہ میں اہل آخرت سے مراد  وہ  مجاہدین اسلام ہیں جنہوں نے رسول اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے، جنگی محاز پر ڈٹے رہے اور اسلام کی بقاء اور وقار کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے سلسلے میں کوتاہی نہیں کی، بلکہ  راہ خدامیں شہید ہونا اپنے لئے باعث افتخار سمجھتے تھے۔ دوسری جانب ایک گروہ جو مال دنیا کی لالچی اور دنیاپرستی میں غرق تھے، انہوں نے حکم پیامبر (ص) سے عدول کرتے ہوئے  پہاڑی سےمورچے  خالی کر کے مال غنیمت کی چکر میں نیچے اتر آئے۔ واضح رہے کہ  انہی دنیا پرست جماعت کی کوتاہیوں کی  وجہ سے تاریخ اسلام میں پہلی مرتبہ مسلمانوں کی جیتی ہوئی جنگ ہ شکست میں تبدیل ہوگئی۔

        جس قوم کے دلوں میں  صرف دنیا ہو یا  دنیا کو  اپنی زندگی کا ہدف  فرض کرتی ہو، وہ  قوم  ہرگز   نہ  الٰہی مشن میں کامیاب نہیں ہوسکتی اور نہ   حق کے طرفدار بن سکتی۔ جب  ہم تاریخی اوراق میں جھانگ کردیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے ،  جن لوگوں نے رسول اللہ(ص)  کی وصیت کا مذاق اڈاتے ہوئے خلافت کو اس کی اصلی اور طبیعی راستے سے منحرف کیا اور حضور(ص) کے جانشین برحق کو پچیس سال  خانہ نشینی پر مجبور کیا، اس  کی علت بھی  ان کی دنیادوستی اور دنیا پرستی تھی، یعنی دنیا کی چند روزہ  رفاہ اور مال ومنصب کی خاطر حق کو چھوڑ کر باطل کی دامن پکڑنے لگے۔

 

 

 

   امیر امؤمنین(ع) نہج البلاغہ کے اندر مختلف مقامات پر دنیا پرستی کی  مزمت کی ہے، چنانچہ ایک مقام پر  دنیا پرست لوگوں کو  بھونگتے ہوئے درنّدے کتوں سے تشبیہ کی ہے:

"۔۔۔ فَإِنَّمَا أَهْلُهَا كِلَابٌ عَاوِيَةٌ وَ سِبَاعٌ ضَارِيَةٌ، يَهِرُّ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ وَ يَأْكُلُ عَزِيزُهَا ذَلِيلَهَا وَ يَقْهَرُ كَبِيرُهَا صَغِيرَهَا...[22]

  بے شک دنیا پرستان  ان  درّندہ کتوں کی مانند ہیں جو بھونگتے ہوئے طعمے کی تلاش میں  ادھر اُدھر دوڈتے ہیں تاکہ اسے چیر پھاڑ کے رکھ دیں، اور  ان میں سے جو چاق وچوبند ہیں وہ ضعیفوں کو کھا جاتے  ہیں، اور  جو بڑے ہیں وہ  چھوٹوں کو کھا جاتے ہیں۔

      امام(ع)  اپنے  اس نورانی کلام  میں  علم جامعہ شناسی(Sociology)  کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے، سماج کے اس طبقے  کے خلق خو  کو ترسیم  فرما رہے ہیں جو صرف  مال و دولت کمانے کے صدد میں رہتے ہیں، ان کا  مقصد ثروت اندوزی اور  نام کمانا ہوتا ہے۔  ان مقاصد کو حاصل کرنے کےسلسلے میں جو بھی کرنا پڑھے کر لیتے ہیں، دوسروں کے حقوق کی پائمالی، سماج کے مفلوک الحال اور کمزور طبقوں کے ساتھ ظالمانہ رویوں کا اختیار کرنا وغیرہ،  ان کے اصول ہوتے ہیں۔ درو اقع امیرالمؤمنین علی(ع) نہ صرف اپنے زمانے کی  سماجی نقائص اور مشکلات کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں، بلکہ امام(ع) ہر عصر اور زمانے کی حالات  کے نبض پر ہاتھ رکھ کر اس کے متعلق ایک مسلم   واقعیت کو بیان  فرما رہے ہیں۔ یہ صورت حال آج کی دنیا میں بڑی شدت و  حدّت کے ساتھ نہ صرف جاری  ہے بلکہ روزبروز اس میں اضافہ ہوتےہوےنظر آرہے ہیں۔ آج عالمی استکبار اور  سامراجی قوّتوں کا یہی طریقہ کار ہے،  یہ عالمی سامراجی قوتیں ایک منظم اور  ہدف مند طریقے سے  دنیا کے کمزور اور  اسلامی ممالک کی خداداد ثروتوں کو تاراج کررہے ہیں، اگر غور سے دیکھا جائے تو  ایسا کرنا  ان ستمگروں کےعقیدے میں   شامل ہے،  انہوں نے یہ آیڈیولوجی قدیم یونان کی فسطائیّت اور  مغرب زمین سے تعلق رکھنے والے  فلاسفر،" نیچہ اورمیکیا ول" سے لیا ہے ، ان کے نظریے کی بنیاد ہی ظلم اور بربریت پر تھی،  ان کا کہنا ہے  کہ" ہدف وسیلے کو  توجیہ کرتا ہے" یعنی  مطلوبہ ہدف  تک رسائی کے سلسلے میں جوبھی کا م کرنا پڑے،  وہ سب جائز ہیں،یہی وجہ ہے کہ ان مستکبرین جہان نے اپنے مزموم اہداف کے حاصل کرنے کے سلسلے میں کسی پر بھی رحم نہیں کرتے، اگر   دنیا کے کسی بھی کونے میں ان کو اپنا منافع نظر آجائے، تو فورا  اس پر حملہ کر دیتے ہیں، اور لاکھوں بی گناہوں کو موت کی ابدی نید سلاتے ہیں، جیسے جاپان، ویدنام، بوسنی،  کیوبا، عراق، افغانستان، شام اور یمن میں اب تک لاکھوں نہتے عوام  کو   بے رحمانہ طور پر موت کی گھاٹ اتار دئے ہیں،  ان کی بربریت اور غیر انسانی  حرکات کو دیکھ کر رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت  امام خامنہ ای نے ان کو  "جدید جاہلّیت"(Modern Barbarism )  نام رکھا ہے۔

    لہذا  نظام ولایت  کا ایک اہم  چلیج  اور خطرہ  ان دنیا پرست افراد سے ہے،نظام ولایت علی(ع) کو ختم کرنے کے سلسلے میں  ان عناصر کا ہاتھ نمایان نظر آتے ہیں، یہی ماجرا نہضت عاشورا میں بھی بخوبی قابل ملاحظہ ہے، چونکہ جن لوگوں نے امام حسین(ع)کے مقدس لہو میں ہاتھ لگایا، در اصل وہ اسیر دنیا تھے،لہذا یہ لوگ ایک طرف سے روتے بھی تھے،  دوسری طرف سے  امام عالی مقام(ع) سے جنگ بھی لڑتے تھے۔ نظام ولایت فقیہ کو بھی  اسی طبقے سے زیادہ  خطرہ لاحق ہے، اسی وجہ سے حضرت امام خمینی(رہ) ایرانی قوم کو اشرافیت آمیز زندگی سے برحزر رکھتے تھے۔

*ب؛ ولایت اللہ کی قدر ناشناسی اور دشمن کے سبز باغ کا فریفتہ ہونا۔

   ولایت کا سلیس  ترجمہ اور معنی سرپرستی کے  ہیں، سرپرستی یعنی ہماری جان، مال ، ناموس اور عزت ، سب اُس سرپرست کے حوالے ہیں ۔ تو قرآن میں ایک ولایت اللہ کا تذکرہ ہےاور ایک ولایتِ طاغوت کا۔  مجموعی طور پر دو ولایتوں کا تذکرہ آیا ہے ،جیسا کہ اس آیت میں رب العالمین اشاد فرمارہا ہے ،" اللہ ولیُّ الذین آمنوا"۔ جو صاحب ایمان ہیں ، جو مؤمن ہیں اُن کا ولی اللہ ہے  کیونکہ اُنہوں نے اللہ کی ولایت کو قبول کرلیا ہے۔  اب اُس کے مقابلہ میں کافر ہے ،" والَّذین کفروا اولیآئھم الطاغوت "، اور جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے ،اُن کا سرپرست اور ولی طاغوت ہے ۔ یعنی مراد یہ ہے کہ مؤمنین نے اللہ کو اپنا سرپرست بنایا ہے  اور کفار نے طاغوت کو اپنا سرپرست بنایا ہے ۔ مجموعی طور پر دو ولایتوں کا تذکرہ ہے ، ایک ولایتِ اللہ ، اور ایک ولایتِ طاغوت ۔
   
وہ لوگ  جنہوں نے اللہ کو اپنا ولی قرار دیا ہے، تو اللہ ان کو  ظلمت  اور  تاریکی  سے نکال کر ہدایت  اور نور کے شاہراہ پر گامزن کر دیتا ہے:"اللہ ولی الذین آمنوا یخرجھم من الظلمٰات الی النور"لیکن جنہوں نے شیطان کو ، طاغوت کو ، نظام فسق و فجور کو اپنا سرپرست بنایا ہے ، جو لوگ کافر ہوچکے ہیں ، خدا کےمنکر ہوچکے ہیں  اُن کے اولیاء طاغوت ہیں ۔ جو اُنھیں نور سے نکال کر ظلمات اور گمراہی کے راستے پر ڈال دیتے ہیں ، ہدایت سے نکال کر گمراہی کے راستے پر ڈال دیتے ہیں: "والَّذین کفروا اولیآئھم الطاغوت یخرجھم من النور الی الظلمٰات "۔[23]

 بہرحال یہ بات طے شدہ ہے کہ جن لوگوں نے  ولایت الٰہی  کو ٹھکرا کر  ولایت طاغوت کے اندر زندگی گذار نے کو ترجیح  دی ہیں،  گویا انہوں نے  اپنی بربادی اور ہلاکت کا ذریعہ خود  اپنے ہاتھوں سے مہیا کیا ہے، چونکہ انسان جب  اللہ کی سرپرستی کو چھوڑدیتا ہے تو  خود بخود شیطان کی گرفت میں پھنس جاتا ہے،لہذا  اس کیلئے نجات کا  کوئی راستہ نہیں بچتا۔ یہی وجہ ہے کہ جتنے بھی اللہ کے رسول آیے، ان سب کا ہدف یہ تھا کہ انسان  پر  اللہ کی سرپرستی کا سایہ  دائم ،  اور  طاغوت کے تسلط سے بچاکر رکھیں۔ 
"و لقد بعثنا فی کل امۃٍ و رسولاً انِ اعبدوا اللہ واجتبوا الطاغوت"[24]

         حضرت آدم(ع) سے لیکر پیامبرگرامی اسلام(ص) کے دور تک تمام انبیاء(ع) کے  الہی نظام کے مقابلے میں زمانے  کے طاغوتی قوتوں نے مختلف شکل و شمائل میں آکر   مزاحمت اور قد علم کیا،  ان طاغوتی مزاحمت کاروں کو تب تک کوئی خواطرخواہ  کامیابی حاصل نہیں ہوئی ، جب تک انہی انبیاء الہی کے پیروکاروں میں سے کمزور  ایمان والے اور   فریب خوردہ  افراد نے ان کے ساتھ نہ دئے ہوں، یہی وجہ ہے کہ  رسول اللہ(ص) کو جتنا  خطرہ  منافقین سے تھا ، اتنا  غیروں سے نہیں تھا، اور   اسی طرح اسلام کو سب سے زیادہ نقصان منافقوں سے پہنچا۔ یاد دہے کہ قرآن مجید میں ایک مکمل سورہ  "سورہ منافقین" کے نام سے آیا ہے، جس میں اللہ نے ان کی تمام خصوصیات کو بیان فرمایا ہے۔  منافقین در اصل وہی لوگ تھے جو بظاہر مسلمان تھے لیکن باطنا  طاغوت  اور کفّارکے آلہ کار تھے۔ دوسرے الفاظ میں ، منافقین سے مراد وہی عناصر ہیں جنہوں نے    ولایت اللہ اور رسول(ص) کو نظر انداز کرکے طاغوت کی سرپرستی کو اپنایا ہے، طاغوت سے مراد کفار ، مشرکین اور ہرزمانے کے استکباری  نظام ہیں، جو بشریت کے وجود سے ہی آغاز ہوا تھا اور جب تک بشر ہے تب تک جاری رہے گا۔

     قرآن مجید  سخت لہجے میں مؤمنین کو  طاغوت پرستی سے  دوری اختیار کرنے کے حوالے سے خبردار اورمتنبہ  کررہا ہے:

"لن يجعل الله للكافرين علي المؤمنین سبيلا" [25] خداوند نے ہرگز مؤمنین پر کافروں کا تسلّط قرار نہیں دیا ہے۔

    لیکن قرآن  کی  ہدایت  اور روشنگری کے باوجود ،   اّمت نے اپنی حقیقت اور دینی تعلیمات  کو بھلا کر طاغوتیت اور کفّار کو اپنا سرپرست بنا کر ذلّت کی راہ اپنالی۔ یہی وبہ تھی کہ  رسول خدا(ص) کی رحلت ہوتے ہی اکثریت نے انحراف کا راستہ اپنالیا اور  یہی سے ہی نظام ولایت کے مقابل محاز کھل گیا،   اور ایک اسلام نما جماعت نے خود سے  ایک انحرافی دین" اسلام بنی امیہ" کے نام سے وجود میں لاکر اسلام ناب محمدی کے خلاف بغاوت کی، اور انہی جماعت کی کارستانیوں کا نتیجہ تھا کہ نظام ولایت علی(ع) فقط چار سال اور نو ماہ تک محدور رہا۔

     واضح رہے کہ نظام ولایت علی(ع) کو   یہودیوں اور عیسائیوں نے ساقط نہیں کیا تھا، (اگرچہ بعید نہیں ہے کہ  اس جعلی اسلام کے وجود میں لانے  کے سلسلے میں ان کے بھی ہاتھ ہوں)، بلکہ کلمہ پڑھنے   والوں نے ہی ساقط کیا۔ تب سے کسی بھی امام معصوم(ع) کو دوبارہ اس  مقدس نظام کو احیاء کرنے کا موقع  فراہم نہیں ہوا ،  اور نہ   ہی طاغوتی حکمرانوں نے انہیں اس سلسلے میں فعّالیت کرنے کی اجات دی ، اور نہ ان   بزرگواروں کے پاس اس قدر  یاور موجود تھے جن کی مدد سے حکومت بنایا جاسکے۔ حضرت امام صادق(ع) کے پاس شاگرو تو بڑی تعداد میں موجود تھے، یہاں تک کی ان کی تعداد چارہزار تک ذکر  کی گئی ہے، لیکن ان کے پاس بھی مخلص اصحاب اور یاور کی کمی تھی،تا  کہ  طاغوتی حکمرانی کے خلاف ڑٹ جائے۔

 موضوع کی مزید  وضاحت کی خاطر ہم یہاں پر خود امام(ع) کی ایک گفتگو کو نقل کردیتے ہیں:

    سدیر صیرفی نامی شخص نقل کرتا ہے کہ میں  امام صادق(ع) کی  خدمت میں مشرف ہوا، میں نے امام (ع) سے عرض کیا : خداکی قسم یہ روا نہیں ہے کہ آپ(ع) قیام کرنے کے بجائے گھر میں بیٹھے رہیں ! امام(‏ع) سے فرمایا:کیوں؟

میں عرض کیا: اس لئے کہ آپ(ع) کے اصحاب ، اعوان کی تعداد اتنی  زیادہ ہیں کہ اگر امیر المؤمنین علی(ع) کے پاس اتنی تعداد میں یاور ت اور حامی ہوتے تو  " قبیلہ تیم اور عدی"( خلیفہ اول اور دوم کے قبیلے) ہر گز ان کے قریب آنے  کی جرئت نہ کرتے۔

 امام(ع) نے فرمایا: آپ کے حساب سے ہمارے چاہنے والے یاوروں کی کتنی تعداد ہیں؟

 عرض کیا: ایک لاکھ۔ حضرت(ع) نے فرمایا: ایک لاکھ؟! میں عرض کیا: جی ہاں؛  بلکہ ان کی تعداد دولاکھ ہیں۔ حضرت نے پھر سے فرمایا: دولاکھ؟! میں عرض کیا: جی ہاں؛ بلکہ دنیا کی نصف آبادی آپ(ع) کے یاور  و مددگار ہیں۔

     یہ سن کر امام(ع)  نے چند لمحہ سکوت اختیار کرنے کے بعد فرمایا: ہمارے ساتھ مقام ینبع تک چلو۔ امام(ع) نے مجھے ایسی سرزمین پر لے چلے جس کی مٹی کا رنگ سرخ تھا، اور  ایک نوجوان چرہاوا پنے مویشیوں کو چروا رہا تھا۔ امام(ع) نے اس کی طرف ایک نگاہ کی اور میری طرف رخ کرکے فرمایا: ای سدیر! خدا کی قسم اگر ان مویشیوں کی تعداد میں میرے شیعہ اور یاور ہوتے ، تو ایک لمحہ بھی حکومت ‌ظلم و جور کے خلاف قیام کرکے اپنے حق  کو حاصل کرنے کے سلسلے میں کوتاہی نہ کرتا!

اس کے بعد ہم اپنے سواریوں سے اتر کر نماز پڑھ لی ، نماز سے فارغ ہونے کے بعد جب میں نے ان  جانوروں کو گن کر دیکھا  تو ان کی تعداد صرف سترہ تھی۔[26]

  معلوم ہوتا ہے کہ  ہمارے چھٹے امام(ع) کے پاس شاگرد تو  تھا ، لیکن  حقیقی  حامی  نہیں تھا،  لہذ طاغوت زمان  کے مقابلے میں قیام کرنے کا زمینہ فراہم  نہیں ہوا اور ناگزیر خاموش رہنا پڑا۔

 *ج؛حقیقت اسلام سےغفلت شکاری

     نظام ولایت کو  ختم کرنے کے سلسلے میں دشمن کی  مزموم سازشوں میں سے ایک، ولایت مدار افراد اور  خاص کر سماج کے نوجوانوں کو  فریب  دیکر اپنے جال میں پھنسا دینا  ہوتاہے۔ اس  حربے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سب سے پہلے کوئی ایسا کام انجام دیتا ہے جو بظاہر   قوم اور  نوجوان طبقے کے نفع میں نظرآتا ہے، لیکن در اصل یہ ایک شیطانی جال  ہوا کرتا ہے ،  اگر اس میں ایک مرتبہ پھنس جائے تو اس سے باہر نکل آ نا آسان نہیں ہوتا، ایک ایسا خطرناک جان لیوا بھنور  ہوتا ہے ،جس میں  غرق ہونے  سے بچ جانا نہایت  مشکل ہوتا ہے۔ چاہے  نظام ولایت علی(ع) کو  زک پہنچانے کی بات ہو یا نظام ولایت فقیہ کو  متضرر کرنے کی بات، دشمن نے ہمیشہ اس  روش  کو کام میں لاکر  یا  اسےتجربہ کرکے   کچھ حد تک کامیابی حاصل کی ہے، مثال کے طور پر  بنی امیہ نے نظام  ولایت علی(ع) کو گرانے کیلئے  قرآن کے مصحف کو  نیزوں کی انیوں پر بلند کرا کے  کہا کہ ہم قرآن کے فیصلے پر تسلیم ہیں اور اسی  طرز پر خوارج نے  "لا حکم الا للہ"  کا نعرہ لگا یا یعنی  اللہ کے سوا کسی کو حکومت کرنے کا حق نہیں ہے۔ یہ دونوں کام  بظاہر اسلامی، خدا پسند اور منطقی لگ رہے ہیں، لیکن باطنی طور پر  طاغوتی حکمرانوں کا  ایک مؤثر ترین حربہ شمار ہوتا تھا، ان کے ‌ ظاہر کے دیکھ کر  بہت سارے لوگوں نے امیر المؤمنین(ع) کو چھوڑ کر  طاغوتی جرگے کے اندر چلے گئے اور اس سے بھی آگے نکل کر  خود کو مسلمان اور علی(ع) کو کافر سمجھنے لگے۔ امیر المؤمنین(ع) نے ان کو دشمن کی چال سے آگاہ فرماتے رہے، چنانچہ مولای کائنات(ع) نہج البلاغہ کے اندر فرماتے ہیں:
"كَلِمَةُ حَقٍّ يُرَادُ بِهَا بَاطِلٌ نَعَمْ إِنَّهُ لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ وَ لَكِنَّ هَؤُلَاءِ يَقُولُونَ لَا إِمْرَةَ إِلَّا لِلَّهِ وَ إِنَّهُ لَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ أَمِيرٍ بَرٍّ أَوْ فَاجِر۔۔۔"[27]

     " ان کی گفتار، حق ہے، لیکن اسے باطل ارادہ کیا گیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں، لیکن ان لوگوں کا کہنا ہے حکمران اللہ کے علاوہ کوئی نہیں ہے، در حالیکہ لوگوں کے لئے ایک حکمران کا ہونا ضروری ہے، چاہے وہ نیک ہو یا بدکار"۔۔۔
    اس  ‌طرح سے اسلام ناب کے مقابل میں، اسلام بنی امیہ  وجود میں آگیا جو اسلام کے ہی لبادے اوڑھ کر حقیقت اسلام کے ریشے کو تیشے کے ذریعے  کاٹ  رہا تھا، لیکن لوگ ان کی کالی کرتوتوں سے غافل تھے،  اور انہی غفلتوں کے نتیجے میں کربلا کی المناک ٹریجڈی وجود میں آگئی۔

    بنی امیہ کی سب سے  بڑی چال یہ تھی کہ   وہ  لوگوں کو  صرف  اللہ کی عبادت اور  نیک کام انجام دینے کی تشویق کرتا تھا،  تبرّی کے عنصر کو کم رنگ کراکے تولّی کے عنصر کی طرف زیادہ توجہ مبزول  کرانے لگا۔نتیجہ کے طور پر لوگ خشک مقدسی میں مبتلا ہوگئے، اور بنی امیہ کو ہی اسلام کا حقیقی نمایندہ سمجھنے لگے۔

   حضرت امام صادق(ع)  بنی امیہ کے بارے میں یوں فرماتے ہیں:

"انّ بنی‌امیّة اطلقوا تعلیم الایمان، و لم یطلقوا تعلیم الکفر، لکی اذا حملوهم علیه لم یعرفوه"[28]

بنی امیہ نے لوگون کو ایمان کی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت  تو دےدی، لیکن کفر اور فسق کے بارے میں جانّے کی اجازت نہیں دی،  اس لئے کہ اگر لوگوں کو شرک اور کفر میں میں مبتلا کردیں تو نہ پہچان پائے۔

   بنی امیہ  تدریجاْ غیر ملموس  طریقے سے مسلمانوں کو حقیقت اسلام سے دور کررہا تھا، اسی وجہ سے  شرک اور کفر کے بارے  میں جانکاری حاصل کرنے پر پابندی عائد کر رکھی تھی،  تاکہ اگر خود فسق وفجور میں ڈوب جائے تو کوئی ان پر اعتراض نہ کرسکے اور لوگ انہی کفرآمیز  حرکات کو دستورات اسلامی سمجھ کر خاموش رہیں۔

   اگر ہم تاریخی حوادث کی طرف دقّت کے ساتھ ملاحظہ کرتے ہیں، تو    معلوم ہوتاہے کہ دشمنان اسلام نے  نظام ولایت علی(ع) کو  ختم کرنے کیلئے  اسلام ہی کو  ابزار بنایا اور  نرم جنگ(Soft war) کے ذریعے اس مقدس نظام حکومت کو  ختم کردیا۔

       کل اگر اسلام بنی امیہ،  اسلام ناب محمدی کے  ليے ناسور بن کر ابھر آیا تھا ،تو آج اسلام   تکفیری، اسلام وہابی،  سیکیولر اسلام اور   برتا نیایی تشیّع،خالص  اسلام محمّدی  کے دشمن بن کے سامنے آیے ہیں  ۔ کل اگر طاغوتی نظام اپنے لئے حقیقی اسلام کو سب سے بڑا خطرہ سمجھ کر اس کو  راستے سے ہٹانے کے سلسلے میں کسی بھی قسم کے حربے استعمال کرنے سے  باز نہ آجاتا تھا، تو   آج کے طاغوتی  نظام بھی یعنی عالمی استکبار، صہیونیزم اور آل سعود، نظام ولایت فقیہ کو سب سے بڑا  خطرہ  قرار دے کر،  اس کے استقرار سے ہی ،

   ا س نظام الہٰی کو ختم  کرنے کے سلسلے میں آیے دن  سازشیں رچائی جاتی ہیں۔  استکباری قوّتوں نے بنی امیہ کی طرز پر  اس نظام ولایت فقیہ کو نابود کرنے کیلئے، مسلمانوں اور خاص کر تشیّع کو ہی  ابزار  بنا نا  شروع کیا ہے اور اس پر  اربوں ڑالر خرچا کر شدومد سے کام جاری ہے۔  آج شوشل میڈیا اور باقی ذرائع کو استعمال کر کے اور  پیسوں پر بکنے والے ملاوں اور  عمامے والے عالم نما عناصر کو تیار کرکے اس نظام ولایت فقیہ کے حوالے سے طرح طرح کے شبہات کو لوگوں،  اور خاص طور پر ہمارے عزیز نوجوانوں کے اذہان میں ڈال کر،  ان کو اس  مقدس نظام کے خلاف اکسانے کی ایک منظم کوشش ہورہی ہے، تاکہ   دیندار  لوگوں کے ہاتھوں ہی اس کو ختم کیا جائے۔

     جب  جمہوری اسلامی ایران نے امریکا کا ایک اہم جاسوس( جیسن رضائیان) کو گرفتا کیا ، اور قید کی مدت کاٹنے کے بعد  آزاد ہوگيا تو  واپس امریکا جاکر  امریکی صدر کو خط کے ذریعے آگاہ کیا ،   اب تک کی ہماری تمام تر  کوششیں ناکام ہوچکی ہیں ،اگر نظام ولایت فقیہ کو  نابود کرنا ہے تو ہمیں کچھ ایسا کام کرنا ہوگا کہ شہداء کے مائیں اپنے  بچوں کی تصویریں ہاتھ میں اٹھا کر سڑکوں پر آکر اس  حکومت ولایت فقیہ کے خلاف نعرے   لگایں،  تو حتمی طور پر انقلاب اسلامی ساقط ہو جائے گا۔

      یادرہے کہ  رواں سال میں جمہوری ایران کی اقتصادی پابندیوں میں جو شدت لائی گئی، ان کا مقصد یہ تھا کہ ایرانی قوم پر کمرجکادینےوالی معیشتی پریشر ڈال کر اس قوم کو اس نظام کے  خلاف اکسایا جائے،نیز ایرانی قوم اپنی معیشتی خستہ حالی کا زمہ دار،   نظام ولایت فقیہ کو ٹھرا کر اس کے خلاف سڑکوں پر آجائیں؛  اسی    وجہ سے امریکی صدر کے انتہاپسند مشیر "جان بولٹون" نے اعلان کیا تھا کہ اس سال جمہوری اسلامی  اپنی چالیسویں سالگرہ نہیں منا پائےگا!لیکن ایرانی غیور، بابصیرت  اور ولایت مدارقوم نے طاغوتی سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے، اس سال انقلاب کی چالیسویں برسی کو ، تاریخی اور  مثالی طور پر منایا۔ اس طرح سے  استکباری قوّتوں کی سالوںسال سے رچی گئی مزموم عزائم اور سازشیں ایک بار پھر سے خاک میں ملیامٹ ہوکر  ناامیدی سے دوچار ہونا پڑا۔

 

 

 

 

 

نتیجہ: 

        انسان چونکہ فطرتی طور پر مدنی الطبع ہے اور اس کی زندگی کا راز ا سی حیات اجتماعی میں ہی مضمر ہے اور اجتماعیّت سے عاری ہوکر  جیناممکن ہی نہیں۔  اب جبکہ انسان کے بودو پاش اجتماعی زندگی سے منسلک ہے، لہذا اس نوع زندگی کو نظم و نسق بخشنے کیلئے ایک جامع قانون کا ہونا ناگزیر بن جاتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے انسانیت کی ہدایت اور کی فلاح و بہبود کی خاطر نہ صرف ایک منظم قانون کو ترتیب دیا،بلکہ اس کے ساتھ ساتھ قانون کے ماہرین کو بھی انبیاء(ع) کی صورت میں اس گیتی پر  بیج دئے، تاکہ دونوں جہاں میں انسان کی سرخروئی ہو۔  سلسلہ انبیاء(ع) کے بعد اولیاء الہٰی کا سلسلہ آغاز ہوتاہے جو اسی قانون کی پاسداری اور اسی مشن کے مبلّغ ہوتے ہیں؛  امام علی(ع) جو کہ سرور اولیاء ہیں، انہوں نے نظام نبوّت کے بعد پہلا نظام ولایت کی حاکمیت کی بنیاد رکھی اور اسلام کے بلند و بالا پروگرام کے سایے میں انسانیت کی ہدایت اور خوشبختی کے سلسلے میں نہایت سعی اور تلاش کی، حضرت امیر(ع) کے نظام حکومت جوکہ تاریخ بشریت میں ایک بے نظیر حکومتی  ماڈل جانا جاتا ہے، جس کی خوبیاں ہر صاحب انصاف دانشمند نے اپنے آثار میں قلم بند کیا ہے۔ اس مرحلے کے بعد اسی کے تإسی میں ایک اور نظام، نظام ولایت فقیہ کے عنوان سے وجود میں آگیا، جوکہ در اصل نظام ولایت علی(ع) کا تسلسل ہے؛ یہ نظام خدامحوری،عدالت طلبی، عوام پسندی اور سادہ  زیستی، اللہ کی اطاعت اور طاغوت کی مخالفت اور استقامت اور پائداری جیسی خصوصیات پر مشتمل ہے۔

   جس  طرح سے  نظام ولایت علی (ع) کے سقوط کے عوامل،  دنیا پرستی، ولایت اللہ کی قدر ناشناسی اور دشمن کے سبز باغ کا فریفتہ ہونا، اورحقیقت اسلام سےغفلت شکاری، قرار دے سکتے ہیں، اسی منوال پر آج بھی  یہی تین عوامل نظام ولایت فقیہ کے  ممکنہ چلینجز ہو سکتے ہیں۔

 ہر انقلاب کی بقاء اور دوام  کی خاطر تین اہم شرائط کا  ہونا ضروری ہے؛ 1 ۔امام 2۔امّت 3۔ امّت کا ولایت(امام) سے اتصال۔

 چونکہ   بغیر امت کے امام  کے پاس اقتدار نہیں ہوتا؛  بغیر  امام والی امت کی حیات نہیں ہوتی ؛ اور  جو امت ولایت سے متصل ہو، اس کے لئے شکست غیر قابل تصور ہے۔

 

 

منابع:



[1] ایسی حمہوریت جس میں عالم اورجاہل،عادل اور ظالم، نیک انسان اور برے انسان، سب کی آرا کی قدر وقیمت  ایک جیسی ہو،جاہلوں کی اکثریت کو دانشمند طبقے  کی اقلیت پر ترجیح دی جاتی ہو،  اور اسی  کو مبنا قرار دیکر حکومتی آئین وجود میں آجاتا ہو،  اس قسم کی ڈیموکریسی اسلام اور عقل کے خلاف ہے۔   



[1] نہج البلاغہ، خ 26۔

[2] بحارالانوار، ج 39، ص 56.

[3]،آیت67۔ سورہ مائدہ

[4] النبویّہ، ابن تیمیہ،ج7 ص315۔ منہاج السنہ

[5]  کمال الدین ، تمام النعمۃ،ج1،ص484

[6] دروس فی علم الاصول،ج1ص۔3۔

[7] نهج‏البلاغه، خطبه 40۔

[8] نہج النلاغہ، خ3۔

[9] نہج النلاغہ،خ136۔

[10] سیری در نہج النلاغہ،شہید مطہری، ص 45۔

[11] امام علی علیه السلام صدای عدالت انسانی ، ترجمه ی هادی خسرو شاهی ، ج 1 ، ص 227 .

[12]  نہج النلاغہ،ن 53۔

[13] مجلہ خیمہ،شمارہ 10۔hozah.net

[14] حلیۃ الابرار،ح1ص357

[15] صحیفه امام، ج‏17، ص: 377و376

[16] سورہ نحل،آیہ36۔

[17] نہج البلاغہ،خط 29۔

[18] سورہ بقرہ آیت:249۔

[19] بحارالأنوار، ج 57، ص 215۔

[20] آل عمران،آیہ152

[21] طبرسي، مجمع البيان في تفسير القرآن، ج ‌2، ص 693.

[22]  نہج النلاغہ۔خط،31۔

[23] سورہ بقرہ،آیت257

[24] سورہ نحل،آیت36۔

[25] سورہ نساء،آیت141۔

[26]ج2،ص152۔ اصول كافي،

[27]۔خ40۔ نہج البلاغہ

[28] الكافی،ج ۲، ص ۴۱۵؛

بحارالأنوار،ج۱۲،ص۳۷۵ 

 

﴿بسم اللہ الرحمن الرحیم

اسلام میں خواتین کا مقام

تحریر:خادم حسین آخوندی

مقدمہ:

        اسے پہلے کہ ہم  اس مقالے کے اصل موضوع کے بارے میں بحث کریں ، یہاں پر ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ مقدمے کے  طور پر    اس مقالے کی خصوصیات کے  بارے میں   چند   نکات بیان کریں،  تاکہ قارئین کرام     اجمالی  طور پر اس بات کا اندازہ لگا سکیں کہ   مقالہ ھذا میں  کن کن مطالب کی طرف  شارہ ہوا ہے۔ 

   ہم نے  مقالہ کے آغاز میں  یہ جاننے  کی کوشش کی ہے کہ   یورپی ممالک کے لوگ  اورخاص کر وہاں کے دانشمندان ،خواتین کے حوالے سے کیا  تائثرات رکھتے ہیں،تا کہ ہماری  خواتین حضرات کو اس بات کا اندازہ ہو جائیے کہ اسلامی ماحو ل کس قدر ان کے لئے اہمیت رکھتا ہے،اس  کے بعد ہم نے اسلام سے پہلے  دنیا کے مختلف   مناطق میں خواتیں کی وضعیت کا مقایسہ اسلام  کے بعد کی حالت سے کر کے  یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے  کہ اسلام کس حدتک حقوق نسواں  کےقائل ہے۔

    مقالے  کے آخر میں اسلام  میں  حجاب کا فلسفہ  بیان کر نے کے  علاوہ   آیات اور روایت  کی روشنی میں  خواتین  کے لئے حجاب  کی اہمیت  کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ  عقلی دلیل سے بھی  ثابت کر نے کی کوشش کی ہے کہ  عورتوں کیلئے حجاب  کس قدر ضروری  ہے۔

  اس کےعلاوه  حضرت امام خمینی(رح) کے  ان اقوال کا بھی تذکرہ هوا هے  جو  خواتین کے حوال سے حضرت امام(رح) نے مختلف مناسبتوں کے موقع پر بیان فرمایے تھے.

     

 

 

مغربی دانشمندوں کی نظر میں خواتین کا مقام

       قدیم زمانے سے   لیکر آج تک   یہ بات      اکثر  دنیا کے  غیر مسلم دانشمندوں کی نظر میں متفرقہ مسئلہ رہا ہے کہ عورت کو کس غرض سے اس دنیا  میں  وجود لایا گیا ہے؟اور اس کا مقصد حیات  کیا ہے؟

   ارسطوسے لیکر  زمانہ حاضر تک اس نظریہ کے حوالے سے صحیح  اور جامع  مطلب کو‎‎‏‏ئی   پیش  نہ کر سکا ہے۔

 اکثر  مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے  دانشمندوں کی نظر میں عورت  کا وجود ناقص اور بے ارزش ہے۔ چنانچہ افلاطون  جو یو نان کے  قدیم ترین دانشمندوں میں شمار ہوتا ہے،اس کا  نظریہ  بھی عورتوں کے حوالے سے  مثبت نہیں تھا، بلکہ  اس کاخیال کچھ اسطرح ہے۔

وہ کہتے ہیں: "خدا  وند متعال نے چند چیزیں مجھ پر عنایت کی ہے جس کا میں شکر گزار ہوں"۔

1-      یہ کہ خدا نے مجھے آزاد خلق کیا ، نہ کہ غلام یعنی غلام ہونا اسکے نزدیک ننگ و عار شمار ہوتا تھا!

2-    یہ کہ خدانے مجھے مرد خلق کیا، نہ کہ عورت!

اس کے نزدیک  عورت بہت بری چیز تھی،  اسی وجہ سے وہ  اپنے  آپ کو مرد کی شکل میں  دیکھ کر فخر محسوس کرتاتھا۔

  سقراط؛  جو پانچویں صدی عیسوی کا ایک مشہور فلاسفر گذرا ہے' وہ کہتا ہے  :

  "دنیا میں تمام فساد اور فتنے کی جڑ عورت ہے اور اگر عورت نہ ہوتی تو  دنیا میں ہمیشہ امن آمان  برقرار رہتا"۔

   ارسطو؛ چوتھی صدی عیسوی میں زندگی گزار تا تھا؛  انکا کہنا ہے کہ عورت کا وجود، مرد کی ناقص  خلقت سے ہے۔ یعنی مرد کی خلقت سے جو ناقص رہ گیا  وہ عورت کی شکل میں دنیا میں ظاہر ہو گیا ہے۔کبھی  وہ یوں بیان کرتا ہے:

"عورت خطای طبیعت ہے"اور دنیا  کے تمام بحرانوں کا منشا عورت ہے۔

 وہ مزید کہتا ہے : "عورت اس درخت کی مانند ہے جو ظاہرا بہت خوبصورت اور اس کے پتے اور پھل لذیذ  نظر آتے ہیں،  اور جب  اس پر پرندے بیٹھ جاتے ہیں تو مسموم ہو کر مر جاتے ہیں۔"

   ارسطو  آگے  جا کر کہتا ہے: " خدا وند نے عورت اور غلام کو اسلۓ  خلق کیا ہے تا کہ وہ مردوں کی خدمت کر سکیں۔

 موٹو سینکو ؛  اٹھارویں صدی  کا ایک دانشمند  گذراہے ؛ جن کا تعلق فرانس سے ہے  ، ان  کا نظریہ یوں  ہے ؛"عورت کو چاہۓ کہ وہ گھر میں مرد کے تابع رہ کر زندہ گی بسر کرے،  کیونکہ عورت  کا گھرکی   مالکن بنا ،عقل اور طبیعت کے خلاف ہے۔"

برٹولٹ؛  جو جرمنی کا معروف ڈرامہ نگار اور فلاسفرتھا ، و ہ  انیسوی عیسوی میں زندہ گی گزارتاتھا ۔ان کا  نظریہ  یہ تھا کہ"عورت ایک ایسی شئ ہے  ،جس کا ضرورت کے موقعہ پر مرد استعمال کر تا ہے اور  رفع حاجت کے بعد دور پھینکی جا تی ہے۔"

  معلوم ہوا کہ اپنے آپ کو  متمدّن سمجھنے والے   اور دنیا میں  انسانی حقوق کی پا ما لی  کا ڈنڈورا  پیٹ  نے والےمغربی معاشرے میں خوا تین کو کس حد تک انسانیت  کے معیار سے گرا دیا  گیا ہے۔  ان کے یہاں خواتین کا رتبہ مردوں کے مقابلے میں انتہایئ پست اور افسوس ناک ہے' ان کی نگاہ میں دنیا میں اچھی طرح سے،  یا باعزت زندگی گزارنے  کاحق صرف مردوں کو حاصل ہے۔  

  یہ اس حالت میں ہے جبکہ امریکہ اور مغربی ممالک کے حکمران آج کل حقوق بشر کے مسئلے کو لے  کر بہت ہنگامہ  مچا رہے ہیں، کہ فلاں اسلامی ملک  میں عورتوں کے حقوق کی پایمالی ہورہی ہے' فلان اسلامی مملکت میں عورتوں سے آزادی سلب کر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

  یہ لوگ اس قسم کے سینکڑں بے بنیاد بیانات دے کر اسلام اور مسلمانوں کے  حوالے سے  دنیا والوں کے اذہان میں شبھے ایجاد کرنا چاہتے ہیں تاکہ  دنیا میں اسلام  اور مسلمانوں کی بدنامی ہو جایے۔

    بہرحال  سچ تو یہ ہے کہ جتنا دین اسلام حقوق نسواں پر تئاکید کرتا ہے،  اتنا کوئی دوسرا دین یا مذهب نہیں کرتا .اسلام تو آج سے چودہ سوسال پہلے سے  خواتین کے حقوق اور ان کی عزت اور شرافت کا علمبردار  رهاہے۔

     استکبار جہانی اور دشمنان اسلام کا یہ ادّعا  کہ اسلام میں خواتین کے ساتھ نا انصافی اور زیادتیاں ہورہی ہیں، در اصل یہ لوگ  اسلام  کےآئین اور شریعت سے بے خبر ہیں،  اور یہ بھی نہیں چہتا کہ اسلام کا حقیقی چہرہ  دنیا والوں پر آشکار ہو جایے ، اسلئے اپنے  بے شمار اور مزموم  نواقص پر  پردہ  ڈالنے کی خاطر ہمیشہ دوسروں پر بے جا نکتہ چینی کرتے رہتے ہیں۔

 

     یہ بات قابل ذکر ہے کہ  ہمارے  معاشرےکےنوجوان  نسل روز  بہ روز  اپنے دینی اور اخلاقی اقدار کو نظر انداذ کرتے ہوے مغربی ثقافت،   جو بد اخلاقی اور بے حیایی کا سر چشمہ ہے،کی طرف مائل ہوتے جارہے ہیں،ایسا ہونا  ہمارے  سماجی ماحول کیلئے  خطرے کی گھنٹی کے مترادف ہے۔ایسے عناصر کو چاہیے کہ اسے پہلے کہ وہ مغربی کلچر کے ظاہری زرق برق اورزیبائی کے فریب کا شکار ہوجایں ، ایک مرتبہ یہ بھی تو  مشاہدہ کریں کہ  اس کے اپنے  معاشرے پر، جہاں اپنی ماں بہنیں زندگی کرتی ہیں ،اس حیوانی کلچر کا کتنا منفی اثر مرّتب ہوتا جارہا ہے۔

  کیا ایسے معاشرے  جہاں  ہر طرف بے راہ روی،بے حیایی ، شہوترانی،بےپردگی اور  ظلم اپنے عروج پر ہوں ،وہاں انسان  کیونکرامن اور سکون کی زندہ گی گزارسکتا ہے؟

    بھلا یہ کیسےممکن ہے کہ  جس  سوسایٹی  کے اندر  شراب نوشی ،شیطان پرستی اور مادہ پرستی کے علاوہ خواتین عدم تحفظ کا شکار ہو ں ،جہاں ایک دن کے اندر سینکڑوں عصمت دری کے واقعات سامنے آتےہوں، وہ  ہما رے لئے آيئڈیل (الگو) بن جایے!؟

   کیا واقعی طور پر انسان کی زندگی کا  ہدف   یہی ہے؟! کیا ہماری زندگی کا مقصد صرف مادہ پرستی ہے اور معنویت  یا روحانیت نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے؟!

    لہذا هم وثوق کے ساتھ دعوا کر سکتے ہیں کہ  اسلام ہی وہ خدائی  آئین ہے  جو ہر کسی کے حقوق کے تحفظ کا طرفدار ہے۔  نیز قرآن مجید اس آئین کا تحریری مجسّمہ ہے،  اور اھلبیت (ع)اس کا عملی مجسمہ ہے۔ اگر اسلام کا صحیح مفہوم  سمجھنا چاہیں تو

 در ِِاھلبیت(ع)  پر جاکر سوال کرنا ہوگا .کیونکہ ان کی سیرت،  قرآن کا عملی نمونہ ہے۔  اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ  ہم سیرت اھلبیت(ع) کوسمجھنے کی کوشش کریں،  اوراپنی زندگی کے ہر شعبے میں انہی کو اپنا نمونہ عمل قرار دیں، کیونکہ یہ وہ ہستیاں ہیں جن کی برکت سے عالم بشریت کو جینے کا سلیقہ میسر ہوا ہے،جہالت اور گمراہی سے نجات  حاصل هوئی هے۔ نیز بشریت کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو نجات کاکنارہ  ملاہے۔ ورنہ اسلام سے  پہلے انسانیت زوال کی طرف گامزن تھی،دنیا کا کوئی بھی علاقہ ایسا نہ تھا جہاں لوگ درندگی اور  وحشیانہ زندگی بسر نہ کرتا ہو،خاص طور سے خواتین کے حقوق دنیا کے چار گوشے میں پائےمال ہو رہے تھے۔

 

     اسے قبل کہ ہم  اس مسئلے کو اسلامی نقطہ نگاہ سے  تجزیه کریں، یہاں پر ہم چند ایسے مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو اسلام سے پہلے دنیا کے  مختلف حصوں  پر خواتین کے حوالے سے  حاکم تھے۔

     جزیرہ نما عربستان میں اسلام سے پہلے خواتین کی کیفیت

      اس زمانے میں عرب معاشرے  کے اندر عورت یا لڑکی،   مردں کی دولت شمار ہوتی تھی؛   یعنی عورت اپنے باپ،بھائی اور یہاں تک کہ بیٹے کی جائدات سمجھی جاتی تھی،  اور ولی کے مر نے کے بعد  اس کے ورثاء ان پر قبضہ کر لیا کرتے تھے۔

 بہرحال وہ لوگ   جو انکا دل چاہتے  ویسا برتا ؤ کرتے تھے۔اگر چاہے تو وہ اس کو بازار لے جاکر بھیج ڈالتےیا اسے مارڈالتے یا کنیز بنا کر   اسےاپنی خواہشات کو  پورا کر لیا کرتے تھے۔

 اسکے علاوہ بعض قبائلوں میں یہ رواج تھا کہ اگر کسی کے گھر میں لڑکی پیدا ہوجاتی ، تو  وہ  اسےاپنے لئے ننگ و عار سمجھ کر زندہ  بہ گور کر دیتے تھے۔

  ایران میں خواتین کی وضعیت:

    قدیم  ایران میں بھی خواتین کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہوتا تھا ، ان کے معاشرے میں عورت کو نچلی زات اور پست ترین چیز سمجھے جانے کے ساتھ ساتھ انکے لئے کسی  قسم کے حقوق کے قائل نہیں تھے۔

 یونان میں خواتین کی حالت:

   یونانی معاشرے میں عورت کو سب سے بدترین مخلوق سمجھے جاتے تھے یہاں تک کہ وہ عورتوں کو  شیطان کے بچے یا جانورکے نام سے یاد کرتے تھے۔

 ہندوستان میں خواتین کی حالت:

    ہندوستان میں خواتین اپنی پوری زندگی  اپنے باپ، شوہر یا بیٹے کے زیر سر پرستی میں گزارنی پڑھتی تھی؛   اس پر یہ لازم تھا کہ وہ اپنے شوہر کو،  اپنا مالک یا حتی خدائی کے برابر سمجھ کر قبول کریں، نہ  شوہر کی حیثیت سے! شوہر کے مر نے کے بعد بھی اسکو  یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ اپنی مر ضی سے دوسری شادی کرلے،  بلکہ مر تے  دم تک بیوہ کی حیثیت سے زندگی گزارنی پڑھتی تھی۔ یہاں تک کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کو شوہر کی میت کے ساتھ زندہ جلادی جاتی تھی۔  

  جاپان میں خواتین کی وضعیّت:

   جاپانی سوسائٹی کے اندر بھی  عورت کو کسی قسم کی آزادی میسر  نہیں تھی بلکہ  انہیں باپ، بھائی یا شوہر کے ماتحت  رہ کر زندگی گزارنی پڑھتی تھی ا ور لڑکی کو  ارث بھی نہیں ملتی  تھی۔

 چین میں عورتوں کی وحالت:

        یہاں بھی باپ ہی گھر کا سب سے مقتدر شخص  شمارہوتا تھا، وہ اپنی  بیوی اور بچوں کو کنیز یا غلام  کی حیثیت سےبازاروں میں  لے جاکر فروخت کر نے کا با ضابطہ حق رکھتا تھا۔

بعض اوقات باپ اپنی اولاد کو قتل کر کے اس کی میت کو جنگل میں جانورں کی غذا بنا کر  چھوڑ دیتا تھا۔

اٹلی(روم) ميں خواتین کی حالت:

       اٹلی کے لوگ عورت کو شیطان کا مجسمہ سمجھتے تھے. اور بچوں کی طرح اپنی زیر نگرانی میں رکھا کرتے تھے۔(1)

 

     بہر حال  ہمیں اسے اندازہ ہوتا ہے کہ کس قدر پوری دنیا کو  جہالت اور گمراہی نے  اپنے لپیٹ میں لے رکھی تھی۔ ہر طرف اندھیرا ہی اندھرا  نظر آرہا تھا،کسی بھی جگہ روشنی کی چنگاری نظر نہیں آرہی تھی، انسانیت کی روح اور فطرت پر اندھرے کا پردہ لگ چکا تھا۔

  اس اندھرے کی شدت دنیا کے دیگر مقامات کے مقابلے میں جزیرہ نما عربستان میں زیادہ تھی،جیسے کہ امیرالمؤمنین   علی(ع) نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:

  "اللہ  نے حضرت محمد(ص) کو دنیا والوں کیلئے تنبیہ کرنے والا بنا کر مبعوث کیا،تا کہ  وحی الہھی کا  امانددار اور محافظ بن جایے۔اے عرب کے لوگو! اس زمانے میں تم  بدترین دین کے پیروکار تھےاور بدترین گھروں ،غاروں  میں ،سخت پتھروں اور بہرے زہریلے سانپوں کے در میان زندگی گزارا کرتے تھے۔آلودہ پانی اور نامناسب غذا کھایا کرتے تھے،ایک دوسرے کا خون بہاتے تھے،صلہ رحم کو قطع کرتےتھے ، تمہارے درمیان بتوں کی پرستش ہوتی تھی اورفساد اور گناہوں نے تمہیں گیر رکھا تھا۔(2)

         جب اسلام کا نور جزیرہ نما عربستان میں طلوع ہوا،  تو اس نور نے  مختصر سے عرصے میں اپنی کرن کو  کرہ زمین کے ایک بڑے حصے  پر  پھیلادیا  ،جہالت اور اندھرے میں ڈوبی ہوئی دنیا  کو اجالے میں تبدیل کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جہاں ہر طرف  سے  بے چینی اور ناامیدی کا عالم تھا۔اسلام کے آنے سے  بے چینی اور ناامیدی کا  شکار ہونے والے بشر کو  امید کی  کرن مل گئی،بشریت کی ڈوبتی  ہوئی کشتی کو  کنارہ نصیب  هوُا۔

  

    اسلام  کا   آئین،  وہ خدایی  قانون ہے  جو انسان کو اس دنیا میں جینے کا سلیقہ سکھا تا ہے ، ہمیں امن اور رواداری کی زندگی گزار نے کی تلقین کرتا ہے،اس قانون میں کسی بھی قسم کا ظلم،ناانصافی اورتبعیض کی گنجایش نہیں ہے۔ہر انسان چاہے وہ مرد ہو یا عورت،اسلام کی نظر میں محترم ہے ۔

    اسلام،  خواتیں کے حقوق  اور عزت کا حامی ہونے کے  علاوہ یہ بھی چاہتا ہے کی  وہ مردوں کے شانہ بہ شانہ ر ہ کر زندگی کے ہر شعبے میں مخصوصا  سائنس اور ٹکنالوجی کے میدانوں میں  حصہ لے کر اپنی مہارت اور کمالات کا مظاہرہ کریں۔اسطرح سے اسلام  نہ فقط  خواتین کی آزادی کا مخالف نہیں ہے،  بلکہ ان کی ہمیشہ سعادت اور خوش بختی چاہتا ہے۔

    بعض اسلام مخالف عناصر کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ وہ  حجاب کے مسئلے کو غلط رنگ دے کر مسلمان خواتین  کے  اذہان میں شبہ ایجاد  کریں،  تاکہ وہ  مسلم خواتین کو پیشرفت کرنے سے روک سکیں، لیکن انہیں یہ نہیں معلوم کہ   خواتین کی عزت، کرامت اور ترقی کا راز اسی حجاب اور عفت کی حفاظت کرنے میں مضمر ہے۔

حجاب کی اهمیت:       

   جی ہاں! اسلام جس چیز کو خواتین کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل  قرار دیتا ہے،وہ حجاب اور اپنی پاکدامنی کی محافظت کر نا ہے۔اگر خواتیں  اپنے جسم کے حساس حصوں کو نامحرموں  کی  نگاہ سے چھپاکر  رکھیں تو وہ ہرگز شیطان صفت عناصر کی هوس اور  درند گی کا  شکار نہیں ہونگیں۔

          آج کل   دنیا میں اکثر  عصمت دری کا شرمناک واقعہ اسی  بے پردگی کی وجہ سے رونما ہو رہا ہے، مغربی ممالک میں جہاں پردہ نام کی کوئی چیز  نظرنہیں آتی،  وہاں سب سے زیادہ خواتین عدم تحفظ کا شکار ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل جو مغربی ممالک سےتعلق رکھنے والی نوجوان  لڑکیاں جوق در جوق اسلام سے مشرّف ہورہی ہیں،ان کا بھی یہی خیال ہے کہ مغربی ممالک   میں خواتین  عدم تحفظ کا شکار ہیں اور اسے تنگ آکر ہم نے اسلام قبول کرلیا ہے۔

     چونکہ اسلام میں خواتین  کو ہر قسم کی اخلاقی برائیوں سے محفوظ رکھنے کی خاطر  سب سےبہترین چیز کا اہتمام کیا گیا ہے ،اور وہ  ہے حجاب ۔ لہذا ہماری ماں بہنوں کو بھی اس بات کا اندازہ ہو نا چاہیے کہ جب مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں جو بظاہر اسلام سے بے خبر ہیں، اور    ان کاتعلق  سماج کے        پڑھے لکھے طبقے سے ہیں،پردے کو اپنے لئے  بہترین وسیلہ نجات سمجھ کر مسلمان ہو رہے ہیں،  تو ایسے میں  ان کی کیا زمہ داری بنتی ہے؟

    بہر حال ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم آئین اسلام کو سمجھنے کی ہرممکن کوشش کریں تاکہ ہم   اپنے آپ کو  حقیقی  مسلمان ہونے کے لائق بناسکیں۔

  قرآن مجید کی متعدد آیات اور  ائمہ معصومین(ع) کی احادیث کے پس منظر سے یہ ثابت شدہ مسئلہ ہے کہ حجاب ہر مسلمان عورت پر واجب ہے ،اس کے علاوہ  پردہ کی عدم رعایت کو سنگین جرم قرار دیاگیا ہے۔  

       

 

 حجاب کا مسئلہ صرف  حق الناس سے مربوط نہیں ہے بلکہ یہ حق اللہ بھی شمار ہوتا ہے۔  دوسرے الفاظ میں یہ ایسا مسئلہ  نہیں ہے کہ اگر  کوئی عورت بے پردگی کی یا   گناہ کا مرتکب ہو جایے اور  اگر اس کا خاندان یا والدین اس کی   بے شر مانہ حرکت پر  رضایت دیں،  تو  اس کا جرم معاف ہو جایے، ایسا  ہر گز نہیں  ہو سکتا ۔ بلکہ اس  بے پرد ہ گي کا خامیازہ کسی بھی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔

    آج کل مغربی دنیا میں  اگر کوئی عورت  کسی  شیطان صفت مرد  کی ہوس کا    شکار بن جاتی ہے ،  اور  جب مجرم  پر عدالت میں مقدمہ چلا یا جاتاہے،اسی اثنا میں اسکا شوہر یا والدین اس مجرم کو  معافی دے،  تو عدالت اس مجرم کو بری کر دیتی ہے!۔

  لیکن اسلام،   یورپی ممالک کی اس روش کو سختی سے مسترد کر تا ہے اور اسے سنگین جرم قرار دیتا ہے یعنی اگر کوئی  عورت  آبروریزی کا شکار ہوجایے تو مجرم  کو معافی ملنے سے آزادی نہیں ملتی بلکہ وہ سزا کا  مستحق بن جاتا ہے، اسی طرح اگر کوئی عورت  معاشرے میں نیم عریان  یا بے پردگی  کی حالت میں ظاہر ہو جاتی ہے،  تو اگر  بالفرض معاشرہ  اسکو  معافی  دے، لیکن  شریعت اس کو ہر گز معاف نہیں کرے گی۔کیونکہ  یہ حق الناس کے ساتھ ساتھ حق اللہ بھی ہےیعنی اللہ تعالی کا  حکم ہے کہ مسلمان عورتوں کو   پردے میں رہیں۔

  اسلام میں حجاب کا فلسفہ

        قرآن کریم کی کسی بھی آیت میں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ  خواتین  اپنے  بدن کو  پردہ کرنے کے سلسلے میں آزاد ہیں،بلکہ جو کچھ قرآن مجید میں آیا ہے ، وہ یہ کہ  عورت پر  پردہ واجب ہے،لیکن پردہ کا اندازہ کس قدرہے اس کی طرف  اشارہ نہیں ہوا ہے۔ جو کچھ شریعت کے احکام،   فقہا ء کرام نے بیان کیا ہے  ان کے مطابق عورت کو  چہرہ  اور ہاتھوں کے سوا  تمام بدن کو  چھپا کر رکھنا چاہیے۔ نیز عورت کو پردےمیں  رہنے کا حکم ہے، اسکے  علاوہ  ، کیا  صرف لمبے چادر کا استعمال کر نا چاہیے؟ اس حوالے سے ساکت ہے۔

   البته  چادر کا استعمال باقی چیزوں سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔خواتین پر واجب ہے کہ  اپنے چہروں اور  ہاتھوں کے علاوہ بدن کے باقی حصوں کو  ڈاھنپ کر رکھیں، چاہے  وہ چادر کے ذریعہ ہو یا دوسرے کپڑوں کے ذریعے۔

    اور خاص کر اس قسم کے لباس سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے بدن کے حساس  حصّےیا بنوسنگار  نمودار ہو جائیں۔(3)

   البتہ قرآن کریم  میں ایک آیت موجود ہے جسے بعض مفسرین،عورتوں کیلئے چادر[1]  کا  استعمال کرنا ثابت  کرتے ہیں۔

جیسے  خداوند اپنے رسول(ص) سے فرماتا ہے:

     " اے رسول(ص) اپنی بیویوں،  مومن عورتوں اور لڑکیوں سے کہدو کہ وہ اپنے بدن کو "جلباب" سے ڈھانپ لیں ،یہ کام ان کی عفّت کی علامت اور  تعرّض سے محفوظ رہنے کا وسیلہ ہے اور یہ ان کے لئے بہتر ہے"۔(4)

   مذکورہ آیت  میں لفط "جلباب"کا استعمال ہوا ہے جس کی معنی بعض مفسّرین کے نزدیک سر سے پا‎‎‎ؤں تک ڈھانپنے والا لباس ہے اور تقریبا چادر کا  اندازہ ہے۔(5)

     اسکے علاوہ بعض کے نزدیک "جلباب" کی معنی  ایسا  چادر ہے جس کا اندازہ سر سے گٹھنوں تک ہو۔(6) تیسرا نظریہ برقع یا نقاب کی معنی میں ہے۔(7)

      پہلے نظریے  کے مطابق  ہم  اس نتیجے  تک پہنچتے ہیں کہ قرآن  مجیدخواتین کو چادر جیسے لباس کے ذریعے اپنے جسم کو  چھپانے کی ہدایت  دیتا ہے۔علاوہ بر این، حضرت زھرا (س) کی سیرت پاک سے بھی  ہم   یہ ثابت  کرسکتے ہیں کہ اسلام میں چادر کے  حدود کس قدر  مطلوب ہے۔

    چنانچہ نقل ہوا ہے کہ جب جناب زھرا(س) فدک کی بازیابی اور  ولایت سے دفاع کرنے کی غرض سے  دولت خانہ سے مسجد کی طرف روانہ ہوئیں ،  تو اس موقعہ پر  جناب زہرا(س) ایسی چادر اوڈھ کر نکلیں تھیں کہ جس کی حد،  سر سے پا‎‎ؤں تک تھی۔(8)

       یہی وجہ ہے کہ ہمارے علماء اور  دانشمندان،  خواتین کو  روسری  کے علاوہ چادر کے بھی استعمال کرنے کا مشورہ  دیتے ہیں۔

       حجاب کا  وجوب  ، آیات اور روایات  سے ثابت ہونے کے علاوہ ہماری عقل بھی یہی بتاتی ہے کہ مرد کے  مقابلے میں عورت کو  اپنے بنوسنگار کی حفاظت کرنا ضروری ہے، کیونکہ ماہرین نفسیات کے  بقول عورت  فطرتی طور پر اپنے  جسم کی آرائش اور بدن کی نمائش کرنا پسند کرتی ہے،  اور قوت لامسہ کا  زیادہ اثر رکھتا ہے۔ اس کے برعکس مرد اپنے جسم کو زینت  یا آرائش کر کے خود نمائی کر نا پسند نہیں کرتا ہے۔ اور فطرتا مرد کے اندر  شہوت نمائی کا  عنصر زیادہ ہوتا ہے  اور جب اسکی نگاہ  کسی ایسی لڑکی پر  پڑھتی ہے جو  بد حجاب یا پاک دامن نہ ہو،  تو  قوّت شہوانی اس کے باقی تمام قوتوں پر،  یا تمام خلاقیت پر بھاری پڑھ جاتی ہے، نتیجہ کے طور پر  وہ  اپنے ہدف والا سے محروم رہ جاتا ہے۔

      انسان فطرتی طور پر کمال کا طالب ہے اور ہمیشہ یہ خواہش رکھتا ہے کہ کمالات کے منا زل کو طے کرے، لیکن  شہوت جنسی کا غریزہ  اس راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے ۔ مثال کے طور پر  اگر کسی آفس میں ایک جوان لڑکا  اور لڑکی ایک ساتھ کام کرتے ہوں اور لڑکی اگر بے پردہ ہو اور اپنی بنو سنگار کی نمائش کرتی ہو،  تو  خواہ  نہ خواہ   اس لڑ کے کی توجہ اسکی طرف   مرکوز ہوجاتی ہے  اور آہستہ آہستہ وہ  اپنے تمام ضروری کام کی انجام دہی سے قاصر رہ جاتا ہے،نتیجہ کےطور پر وہ  کمال اور  سعادت کی منزل تک پہچنے سے رہ جاتاہے ۔

        اسلام میں عورتوں کو حجاب کرنے کی سفارش کا ایک مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے فطری راستے پر چل کر تکامل کے منزلوں کو  طے کرے۔  یعنی اگر انسان  ہر جگہ اپنی عفت اور پاکدامنی کو حجاب کے ذریعہ محفوظ رکھیں تو ضرور کامیاب ہونگے، ایسا نہ کر نے کی صورت میں عورت اپنی عفت کو خطرے میں ڈال کر  نہ فقط خود کو نقصان پہنچا ئے گی،  بلکہ  معاشرے پر بھی  اسکا منفی اثر مرّتب ہو سکتا ہے ،کیونکہ اگر   معاشرےمیں  صرف ایک فرد خرابی کرے تو اسکا اثر دوسرے افراد پر ضرور پڑھ جاتاہے ۔   مثال کے طور پر اگر  مسافروں کی ایک جماعت کشتی پر سوار ہوجائے اور  سمندر کے بیچ ،  کشتی میں سوار ایک مسافر اپنی جگہ سوراخ کر نے لگ جائے اور باقی  لوگوں کے ایسا کر نے سے منع کر نے پر وہ یہ کہے کہ  ارے آپ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ،کیوں مجھے ایسا کرنے سے منع کر رہے ہیں؟ میں تو صرف اپنی جگہ پر سوراخ کررہا ہوں!آپ کی جانوں کا کوئی خطرہ نہیں ہے!۔ کیا اس کا یہ کہنا  معقول ہے؟! کیا اس ایک بندہ کی  غلطی سے باقی مسافرون کی جانیں  خطرے میں  نہیں پڑھ سکتی!؟

   یقینا آپ کا جواب منفی  ہوگا  اور  بلا شک ہمارے  سماجی مسائل بھی بالکل اسی کے مانندہے۔

        انسان اگر مسلمان  نہ ہو،   بلکہ کسی بھی دین کے قا ئل نہ ہو ،بقول  معروف لائک یا کمیونسٹ ہو،اگر  تھوڑی دیر کیلئے  نفسانی خواہشات کو بالائے طاق رکھ کر فکر کرے اور اپنی عقل سے کام لے،  تو یقینا  ہر کوئی پردہ کی رعایت کرنے کے ساتھ ساتھ عفت اور پاکدامنی کا مظاہرہ کرےگا۔ اس کی روشن دلیل یہ ہےکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں چاہے وہ غیر اسلامی ملک  بھی کیوں نہ ہو،ہر کوئی عورت یہ چاہتی ہے کہ اس کو ایک ایسا شوہر ملے جو  سو فیصد اسی سے محبت کرے، اور  اس کے سوا  ذرہ  برا بربھی کسی دوسرے  شخص سے محبت نہ کرے،  اور اگر  اس کا شوہر ایک لمحے کیلئے بھی کسی اجنبی عورت سے رابطہ برقرار کرے ، تو  وہ  ،اسے  یہ کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں ہوتی۔  در حقیقت عورت  اپنے  شوہر کی محبت کو اپنا بنیادی حق سمجھتی ہے، وہ کسی بھی صورت میں اس حق سے محروم نہیں ہونا چاہتی، اگر  کوئی عورت  یہ برداشت کرنے کی طاقت   نہیں رکھتی کہ اسکا شوہر ایک فیصد اسکی محبت   کو نظر انداز کرکے کسی دوسری عورت  کی طرف نگاہ کرے،تو ایسے میں  اگر وہ خود  بےپردہ  اور نیم عریان ہوکرنامحرم  مردوں کے درمیان اپنے بدن کی نمائش کرنے لگ جایے  تو  کیا  اس کی یہ نازیبا حرکت، گویا دوسروں کے شوہر کی توجہ کو اپنی طرف جلب کرنے کے مترادف نہیں ہے؟کیا  ایسا کرنا گویا دوسرں کے حقوق کے ساتھ

 کھلوا ڑ کرنے کے مانند نہیں ہے؟!

  بہرحال اگر  ہر انسان اپنی عقل اور وجدان سے سوال کرے،  تو اس کی عقل ضرور یہ جواب دےگی کہ جس طرح تو  اپنے بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا ، اسی طرح دوسرے لوگ بھی  اپنے بنیادی حق کو دوسروں کے ہاتھوں لوٹتے ہوئے تماشا نہیں دیکھ سکتا ۔ لہذ ا تمہیں بھی  دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔

    جس قدر ہمارے جامعہ کے  اندر حجاب اور پردہ داری کا ماحول رائج رہے گا،   اتنا ہمارا معاشرہ بھی ہر قسم کی بےراہ روی اور فساد سے محفوظ رہے گا  ۔ اور اگر خدانخواستہ  سماج کے اندر  بے عفتی اور بد حجابی  عام ہوجایے،  تو  فساد اور گناہ  کا  زمینہ بڑھتا جائیے گا۔

       ہمارے معاشرے میں کتنے ایسے کنبے ہیں جو  اسی  فساد اور بداخلاقیوں  کی وجہ سے بر باد ہو چکے ہیں!؟ اور کتنے بچے بے سر پرست ہو چکے ہیں!؟

    لہذا  ہم سب کا فریضہ ہے کہ ان تمام سماجی مشکلات کو روکنے کیلئے  منظم ہو کر   فوری اقدام کریں، جیسے کہ کہاجاتاہے کہ علاج سے بہتر پرہیز کرناہے!ہمیں بھی اس سماجی بیماری کو ختم کرنے کی خاطر سب سے  پہلے ان عوامل کا پتہ لگا نا چاہیے جس کی وجہ سے یہ بیماری پھیل جاتی ہے۔

    امیرالمؤمنین  علی(ع) اس سلسلے میں فرماتے ہیں:

"یظھرفی آخرالزمان وھوشرالازمنۃ نسوۃ کاشفات عاریات متبرجات،من الدین خارجات، فی الفتن داخلات، مائلات الی الشہوات،مسرعات الی اللذات،مستحلات للمحرمات،فی جہنم خالدات"۔(9)

   " آخر  زمان ، جو ہر مانے سے  بدتر ہے جس میں عورتیں  بے پردہ اور ننگی ہوکر   ظاہر  ہونگیں۔  اور اپنے آپ کو  زینت اور رائش کرکے باہر  نکلیں گي ، یہ عورتیں دین کے دائرہ سے خارج ہونے والیاں ہیں۔فساد کے دائرہ میں داخل ہونے والیاں ہیں،شہوت رانی کی طرف بھاگنے والیاں ہیں  اورحرام کو حلال کرنے والیاں ہیں،آخر میں   ہمیشہ  رہنے والےعذاب میں گرفتار ہونگیں"۔

     غرض جس قدر عورت اپنے جسم کو پرده کرنے کیےسلسلے میں کوشاں رهے،  اس قد ر وه اپنی عزت کو پائمالی سے بچا سکتی هے۔ اور خود کو هرقسم کے خطرات سے محفوظ رکھ سکتی ہے.

چند سال قبل ایک عرب جریدےمیں ایک دلچسپ داستان کچھ اس طرح نقل کیا  گیا تھا:

     "مصر کے دارالخلافه قاهره کے ایک چوراهے پر بعض سماجی کارکنوں نے نمایشی طور پر ایک بلندی پر  دو الگ الگ طبق یا رکابیوں میں میٹھائیاں اور چاکلیٹ رکھی،   ان میں سے  ایک میں جتنی بھی چاکلیٹ یا  میٹھائیاں تھیں، ان سب کی چھلکے  یا کاوروں کو چھلکایا گیا۔   دوسرے طبق میں موجود میٹھائیوں  کے  چهھلکے باقی رکھ دئے گئے. چند دنوں کے بعد جب دیکھا گیا  تو  وه میٹھا ئیا حن کا    کاور نهیں تھا ، ان پر هر قسم کے موزی اورغیر  موزی حشرات نے هجوم لاکر خراب کیا  ہوا تھا  اور باقی  جو  کچھ بچی تھی، سب کھاچکی تھی۔ لیکن وه میٹھائیاں جو کاوروں میں ڈھانپی هوئی تھیں، سب محفوظ اورتازه باقی ره گئی تھیں".

   ان لوگوں نے اس نمائشی  حرکت کو،  بی حجاب اور باحجاب عورتو کے در میان فرق کو اجاگر کرنےک غرض  سے پیش کیا تھا.یعنی وه عورت جو عریان یا نیم عریان هوکر گھرسے باهرنکلتی ہے،  اس کا  هر پَل خطر  ےسے خالی نهیں هے اور جوعورت حجاب اور پردے میں ره کر  گھرسےباهر نکلتی هے  وهمیشه مطمئن اور اپنی آپ کو محفوظ ہونے  کا احساس کرتی هے.

 

    آخر میں  یہاں پر ہم  حضرت امام خمینی (رح)کے چند گوہر بار کلام کا  ذکر کرتے ہیں تاکہ ہم  ‏ اسلام  میں خواتین کی جایگاہ کے حوالے سے مزید  آشنائی حاصل کر سکیں:

    " حضرت امام خمینی(رح) فرماتے ہیں : ہمیں افسوس ہے کہ  خواتین دنیا میں دو مرتبہ مظلوم  واقع ہو چکی ہیں، پہلا زمانہ ،جاہلیت  کا زمانہ تھا اور یہ اسلام کا ہی احسان تھا کہ ان کو اس مظلومیت سے نجات  حاصل هوئی۔ دوسرا  ایران میں شہنشاہیت کا  زمانہ تھا، جس میں آزادی کے نام پر خواتین پر  بہت ظلم  کیا گیا ۔  اور خواتین کو  ان کی شرافت اور عزت کی جایگاہ سے گرا دیا گیا"۔(10)

       امام(رح)اپنی انقلابی تحریک کے دوران خواتین سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں:"اے محترم خواتین! بیدار ہوجا ئیں اور ان شیطانوں کی فریب   میں نہ آجا ئیں ،  یہ لوگ تمہیں  سڑکوں پر لانا چاہتے ہيں،لہذا  آؤ  اور اسلام کے پرچم تلے پناہ لو، اسلام تمہاری خوشبختی کا ضامن ہے"۔(11)

      "اسلام مرد اور عورت دونون کو زندگی کے تمام شعبوں میں حصہ لینے کا حق فراہم کرتا ہے ۔ایرانی قوم مرد ہو یا عورت سب کو چاہیے کہ سب مل کر ان کھنڈرات میں تبدیل  ہوئی آبادی کو  دوبارہ بازسازی کریں،مملکت ایران صرف مردوں کے ہاتھوں درست نہیں ہوگا، بلکہ عورتوں کو بھی ہاتھ بٹانا ہو گا"(12)

    " اسلام  خواتین کی شخصیت کی حفاظت کرنا چاہتا ہے اور اس کو ایک بہترین اور کارآمد انسان بنا نا چاہتاہے۔ ہم اس بات کا  ہر گز  اجازت نہیں دینگے کہ  خواتین صرف مردوں  کیلئے استعمال ہونے والی چیز،  یا ان کا آلہ کار  بن کر رہ جایے"۔(13)

   "آج وہ  تاریک زمانہ نہیں ہے،  آج کے زمانے میں خواتین کو چاہیے کہ  وہ اپنے اجتماعی اور دینی وظیفے پر عمل کریں،اپنی عفت اور پاکدامنی کے دائرے  میں رہ کر اپنے سیاسی اور اجتماعی اومور کو  انجام دیں"(14)

  نتیجہ:

       دین اسلام میں خواتین کا  مقام انتہائی محترمانہ ہے، اسلام  اپنی  مقدس تعلیمات کے  ذریعہ انسان کو  سعادت اور خوشبختی کی  راہ  پر چلنے کا  طریقہ  بتاتا ہے،  اور  حجاب کے مسئلے کو  انتہائی اہمیت  دے کر  ہمیں یہ  پیغام دیتا ہے کہ ہم اس کے ذریعے  اپنے معاشرے  کے اندر امن  و آشتی  برقرار  رکھ سکتے ہیں۔

  اسلام اپنے احکام کے ذریعہ  عورت کو  گوشہ نشینی  پر  مجبور کرنا نہیں چہتا  ہے  ، بلکہ یہ چہتاہے کہ وہ ان احکام پر عمل پیرا ہوکر  اپنی عزت اور شرافت کی حفاظت کریں، نیز اسلامی تعلیمات کے ذریعے ہم اپنے ماحول کو  امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔  تاکہ ہماری ماں بہنیں کسی  قسم کے خوف کے بغیر معاشرے کے اندر شریفانہ زندگی گزار سکیں اور اسی پر امن ماحول میں رہ کر  اپنی مختلف قسم کی فعالیت کو انجام دے سکتی ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حوالہ جات:

1-Roots of religion. Page no=117

2-نہج البلاغہ، خ 26

3-توضیح المسائل مراجع،ج2 ص 417

4-سورہ احزاب آیت 59

5-المیزان  ،تبیان  شیخ طوسی در ذیل آیۃ۔

6-المصباح المنیر ریشہ جلب۔

7- مفردات راغب اصفہانی ریشہ جلب۔

8-الاحتجاج طبرسی ج1 ص98

9-وسائل شیعہ ج14 ص19،من لایحضر الفقیہ ج2 ص 125

10-پیام بہ مناسبت روز خواتین.26/2/58.(مندجه تاریخ ایرانی کلنڈر کے مطابق ہے)

11-اسی کتاب میں۔۔

12- قم، خواتین کے مجمع  میں.13/2/57

13-جیم کوکررفٹ کے انٹریو کے دوران(روٹکرز  یونورسیٹی  امریکا کے  پروفیسر)  .19/6/58

14-کنھاک میں خواتین کانفرنس میں شرکت کرنے والے ایرانیوں کے مجمع  میں. 19/6/58

تحریر:

 24 دسمبر 2018     

 



[1](( لباس کی ایک قسم جو بعض اسلامی ممالک جیسے ایران، عراق اور  دیگر  اسلامی ممالک میں خواتین اپنے معمولی لباس کےاوپر پهنتی هیں جس کی لمبا‏ئی سر سے پاؤں تک هوتی هے))